دست ہر نا اہل بیمار ت کُند

جعلی ڈاکٹروں سے مسیحائی نہیں ہوسکتی

تاریخ    17 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


آصف اقبال شاہ
گزشتہ دنوں شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ میںایک جعلی معالج کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا اور اسکے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑگئی اور تادمِ تحریر یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ جعلی ڈا کٹرمبینہ طور گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل انسانی جانوں کے ساتھ کھیل کر عوام کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہا تھا اور اس پر طُرہ یہ کہ کوئی پُرسانِ حال نہیں۔الزام ہے کہ سرکاری ملازمت کے ہوتے ہوئے بھی مذکورہ شخص نے نقلی ڈاکٹر کا روپ دھار کراپنی ایک الگ دوکان کھول دی ۔ سوال یہ ہے کہ ابھی تک اس جعلی ڈاکٹر کی وجہ سے کتنی انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہوں گی۔مریضوں کو غیر معیاری ادویات دیکر کتنے لوگ دائمی مریض بن چکے ہونگے اور کتنا پیسہ لوگوں سے ہڑپ کیا گیا ہوگا اور اس دل ِ بے رحم پر ذرا بھی ترس نہیں آیا۔ مکرو فریب ،چالبازی اور بد دیانتی کی عمر زیا دہ طویل نہیں ہوتی ہے اور آخر کار مصنوعی چالاکی کے قلعے دھڑام سے گرجاتے ہیں۔خیر جعلی ڈاکٹر کا یہ سیکنڈل ابھی پہلی بار طشت ازبام نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی بہت با ر ایسے واقعات رونما ہوئے اور کچھ روز کے بعد ایسے ضمیر فروش لوگ پھر اپنا دھند ا شروع کرتے ہیں۔نہ معلوم ڈاکٹر موصوف کو کس کی نذرلگ گئی اور پکڑا گیا ورنہ ہماری وادی میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور نت نئے طریقوں سے معصوم لوگوں کا خون چوسا جا رہا ہے۔
چنانچہ ایسے ظالموں اور قاتلوں کو بے نقاب کرنا ایک اچھا کام ہے ۔ بدی کو مٹانا، برائیوں کا قلع قمع کر نا، حق کی آواز کو بلند کرنا ،مظلوموں کو انصاف دلانا اور تعمیر و ترقی کے لئے آواز اُٹھانا ایک  اچھے اور پروفیشنل صحافی کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں پرو فیشنلزم کا فقدان پا یا جارہا ہے جسکی وجہ سے ایک طرف جعلی ڈا کٹر بے یارو مددگار مریضوں کو لوٹ رہے ہیں،جعلی دوا فروش غیر معیاری ادویات بیچ کر لوگوں کا خون چوس رہے ہیں اور دوسری طرف سے رشوت خور افسر دفتر میں لوگوں کی کھال اُتار رہے ہیں، نام نہاد سیاست داں لوگوں کو سبز باغ دکھا کر اپنے شیشے میں بار بار اُتار دیتے ہیں اور  چندجذباتی صحافی لوگوں پر اپنا رعب جمانے میں سرگرداں رہتے ہیں۔یہاں بہت کچھ جعلی ہے جسکی پردہ داری ہے ۔
 یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈاکٹری ایک مقّدس پیشہ ہے۔ اس پیشے کے ساتھ کھلواڑ کرنے سے پورا سماج خطرے میں پڑسکتا ہے ، ایسے درندوں کو قانون کی کٹہری میں کھڑا کیا جانا چاہئے۔ صحافت سے وابستہ جن لوگوں نے اس نقلی ڈاکٹر کو بے نقاب کرنے میں کوشش کی وہ دادِ تحسین کے مستحق ہیں لیکن صحافت کا اپنا ایک دائرہ کار ہے جس سے ہر وقت ملحوظِ نظر رکھنا چا ہئے۔ ٹھیک ہے ایک جعلی ڈاکٹر کو بے نقاب کرنے میں آپ نے ایک رول نبھا یا لیکن پھر بازار میں اس شخص کو گھُما نا صحافتی اصولوں کے ساتھ میل نہیں کھا تا ہے۔ دھمکی آمیز لہجے میں بات کرنا بھی  ایک صحافی کاشیوہ نہیں ہوتا ہے۔ صحافت میں بھی کثافت دور کرنے کی کافی گنجایش موجود ہے۔ لوگوں کی تذلیل کرنے سے صحافی ایک قوم میں تبدیلی نہیں لا سکتا ہے۔ زندگی کے ہر ایک شعبے میں جعلی کلچر سرایت کرچکاہے جسکے نتیجے میں ہمارے سماج کا تانا بانا بُری طرح سے بکھر چکا ہے۔ آئے روز ایسے دلدوز واقعات و حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن جلد ہی ہماری ذہنوں سے محو ہو جاتے ہیں۔ جب تک نہ ہمارے  قلب وذہن پر خُدا خوفی کا جذبہ پیوستہ ہو،حبِ جاہ سے نفرت ہو اور جواب دہی کا احساس ہو،اُس وقت تک عوام کو پوری طرح سے ان جان لیوا درندوں سے نجات نہیں مل سکتی ہے۔ نقلی ڈاکٹروں، رشوت خور ملازموں، گراں فروش دوکانداروں، کساد بازار تاجروں، خود غرض  ٹھیکیداروں ، دولت جمع کرنے والے معالجوں،مصنوعی صحا فیوںاور اُنکے چیلے چانٹوں کو صرف اور صرف قانون کی رسی میں باندھا جا سکتا ہے تاہم جب یہ رسی ڈھیلی ہوتی ہے تو یہ ضمیر فروش آرام سے اپنی دکانیں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ چلاتے ہیں او رستم بالائے ستم یہ ہے کہ آنکھیں بند کرکے کچھ لوگ ان ضمیر فروشوںکے ذرخرید ایجنٹ بن جاتے ہیں اور کچھ دائمی گاہک بھی۔انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک ہمارا معاشرہ ایک تطہیر overhaulingکا  محتاج ہے مگریہ تطہیرکرے کون۔ خود میاں فصیحت دیگر را نصیحت !
تاریخ مسلسل طورپر یہ سبق دیتی رہی ہے کہ کوئی قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جب اسکے افراد میں کردار کی طاقت پیدا ہوجائے ،مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم افراد میں کردار پیدا کئے بغیر ترقی کی طرف چھلانگ لگا دیتے ہیں۔بدقسمتی سے جب معالج ہی قاتل بن جائے،جب تعلیمی ادارے تجارتی منڈیاں بن جائیں اور جب دفتر رشوت کے اڈے بن جائیں، جب ہماری نوخیز نسل منشیات کی نذر ہوجائے تو کسی خیر کی امید رکھنافضول ہے۔آجکل دنیا پرستی کا بھوت ہم پر سوار ہوچکا ہے اور حلال و حرام کی تمیز کے بغیر ہم اجتماعی طور اس دوڑ میں شریک ہیں کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کی جاسکے اور مذکورہ ڈاکٹر کو بھی اسی بیماری نے مبتلاء کیا ہوا ہے جسکے چلتے انہیں پکڑا گیاگیا اور نہ جانے ہم کب پکڑے جائیں گے۔
 معالج اور صحافی ہمارے سماج کے دو اہم شعبے ہیں لیکن اِن دونوں شعبوں میں سرکار کی غفلت شعاری کی وجہ سے چند خود غرض عناصراپنی عزت،دولت اور شہرت حاصل کرنے کے سلسلے میں اصول و ضوابط کی دھجیاں اُڑاکر اپنی بدنامی مو ل لیتے ہیں جسکی وجہ سے پوری کمیونٹی بدنام ہوتی ہے۔حفظانِ صحت کے ساتھ ساتھ باقی شعبہ جات میں جدت اورشفافیت لانے کے سلسلے میں سرکار کو ایک نئی حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔
 رابطہ۔9622669755

تازہ ترین