تازہ ترین

تنخواہوں کی واگذاری اور مستقلی کی مانگ | عارضی کالج اساتذہ اور ہسپتال ڈیولپمنٹ فنڈ ملازمین کا پریس کالونی میں احتجاج

تاریخ    16 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   
(عکاسی: حبیب نقاش)

نیوز ڈیسک
سری نگر//آل جموں و کشمیر کالج کنٹریکچول لیکچررس ایسوسی ایشن نے منگل کویہاں پریس کالونی میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج درج کیا۔احتجاجی 'تنخواہوں کو واگزار کرو'، 'جاب سیکورٹی پالسیی بناؤ'، 'نوجوانوں کو بچاؤ قوم کو بچاؤ' کے نعرے لگا رہے تھے۔اس موقع پر ایسوسی ایشن کے سرپرست ڈاکٹر فیاض احمد نے بتایا کہ ہمارے متعلق ہائی کورٹ کی طرف سے جاری حکمناموں کو سرکار خاطر میں ہی نہیں لاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف سکریٹری کے حکمنامے کہ عدالت کے ہر فیصلے پر عمل کیا جانا چاہئے، کے باجود بھی ہمارے متعلق کورٹ فیصلوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا رہا ہے۔موصوف نے کہا کہ ہماری تنخواہیں رکی پڑی ہیں جس کی وجہ سے فاقہ کشی کی نوبت آن پہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم میں سے سو اساتذہ جن کی عمر پچاس سے پچپن برس کے درمیان ہے، کو الگ کردیا گیا ہے اور انہیں زائد از ضرورت قرار دیا گیا۔ڈاکٹر فیاض احمد نے کہا کہ ہم تعلیم یافتہ لوگ ہیں اور سڑکوں پر نہیں آنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ہمیں سڑکوں کے بجائے تعلیمی اداروں میں جانے نہیں دے رہی ہے۔انہوں نے سرکار سے ان کے لئے ایک جاب پالیسی اور ان کی تنخواہوں کو واگزار کرنے کی اپیل کی تاکہ انہیں در در کی ٹھوکریں نہ کھانا پڑے۔ادھر آل جموں و کشمیر ہسپتال ڈیولپمنٹ فنڈ ہیلتھ ایمپلائز نے بھی اپنے مطالبات خاص طور پر نوکریوں کی مستقلی کے لئے احتجاج درج کیا۔ احتجاجیوں نے جم کر نعرے بازی کی اور انتظامیہ سے اپنے مطالبات کو فوری طور پورا کرنے کا پر زور مطالبہ کیا۔اس موقع پر ایچ ڈی ایف کے صدر میر نثار احمد نے میڈیا کو بتایا کہ ہم گزشتہ چھ ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا: 'ہم کووڈ ویریئرس ہیں لیکن گزشتہ چھ ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں، ہم اپنے عیال کو کیا دیں گے'۔موصوف نے کہا کہ ہمیں ایچ ڈی ایف کے بجائے محکمہ خزانہ سے راست تنخواہ ملنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہماری نوکریوں کو مستقل کیا جانا چاہئے اور منیمم ویج ایکٹ کو بھی لاگو کیا جانا چاہئے۔میر نثار احمد نے کہا کہ ہمیں ایس آر او 520 میں شامل کیا گیا جو ہمارے ساتھ ایک مذاق ہے۔یو این آئی