اسرائیل کے معاہدات اورعربوں کے سراب

ناداں گر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا

تاریخ    16 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


رشید پروینؔ
اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسرائیلی عزائم اور ا ہداف کو اپنے ان الفاظ میں منعکس کیا تھا ۔ ’’مستقبل قریب میں واحد عالمی تنظیم(ورلڈ آرڈر )وجود میں آئے گا جو یروشلم کی سربراہی میں ہوگا ، ایک واحد فوج ہوگی اور یروشلم میں اصلی اور حقیقی اقوام متحدہ کا ادارہ ہوگا ‘‘۔یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ اسرائیلی منصوبہ وہی (دجالی ) منصوبہ ہے جس کی پیش گوئیاں احادیث میں شامل ہیں اور بن گورین کا یہ بیان اس جملے کا عکس ہے ،’’ مسیحااسرائیل میں ایک حکومت قائم کرے گا جو تمام دنیا کی حکومتوں کا مرکز ہوگی اور تمام غیر یہودی اقوام اس کے ماتحت اور غلام ہوں گے (ایسیاہ ۔۲۔ ۱۲ )۔اب  بن گورین کے بیان کو حالیہ اس بیان کے ساتھ ملاکر دیکھئے جو یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کی منتقلی کی افتتاحی تقریب پر ٹرمپ کے سفیر پادری جان ہیکی نے دیا تھا ’’ اب ہمیں اس سر زمین میں مسیحا کے نزول کی بات کرنی چاہئے ۔ میں آپ سے جھوٹ نہیں بولتا کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کی خارجہ پالیسی اسی ’’بشارت ‘‘ سے اخذ کی جاتی ہے ‘‘۔یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ سابق کئی امریکی صدور نے کھل کرعراق ۔ ایران ،افغانستان اور شام کی جنگوں اور ان ممالک کی تباہی کو صلیبی جنگوں سے تعبیر کیا ہے ۔ اس لئے خوابوں کی دنیا میں رہنے سے بہتر یہ تھا کہ عرب ممالک اور عالم اسلام یہ بات سمجھ لیتا کہ گریٹر اسرائیل اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر میں صیہونی کسی بھی طرح کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔معاہدات اور کبھی کبھی بظاہر امن و اماں کے دکھاوے بھی اسی منصوبے کا جز لاینفک ہیں۔ اگر ڈھائی ہزار برس قبل یہودی تاریخ میں ہمیں جھانکنے کی فرصت یا دلچسپی نہیں لیکن پچھلے پچاس برس کی تاریخ ہمارے سامنے بالکل واضح اور عیان ہے۔
 امن اور اسرائیلی معا ہدات سراب ہیں جن کے پیچھے عرب ممالک آنکھیں بند کرکے دوڈ رہے ہیں ، ایسا کیوں ہے ؟ ،اس کا جواب تلاش کرنے کے لئے نجد کے بارے میں حضور ﷺ کی اس دعاا ور پیش گوئی کو ملحوظ نظر ضرور رکھیں تاکہ آگے بھی اسرائیل کے ساتھ جو معاہدات خلیجی ممالک کریں گے ، آپ کو کسی اچنبھے میں نہیں ڈال  سکتے ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسوللہ ﷺ نے فرمایا ’’ یا اللہ ہمارے شام اور یمن پر رحم فرما ۔صحابہ جو آس پاس تھے ،انہوں نے کہا ’’اور ہمارے نجد پر ‘‘(نجد ہی سعودی عربیہ ہے) ،نبی ﷺ نے پھر یہی الفاظ دہرائے ، صحابہ نے پھر نجد کا نام لیا ، تیسری بار بھی یہی الفاظ آپ ﷺ نے دہرائے اور صحابہ نے بھی یہی الفاظ کہے تو حضور ﷺ نے فرمایا وہاں زلزلے آئیں گے ، تباہیاں رونما ہوں گی اور شیطان وہیںسے اپنا سر نکالے گا (صحیح بخاری )۔ صیہونی سازش کا یہ ایک اہم پہلو ہے کہ انہیں یعنی اسرائیل کو ایک خاص مدت تک کے لئے اپنے آس پاس ایک سیکولر ، کرپٹ ، انسان اور خدا بیزار حکومتوں اور حکمرانوں کا تعاون اور ساتھ چاہئے ۔ ایسے حکمرانوں کا اور ایسی حکومتوں کا جو اسلام کا چوغہ زیب تن کئے ہوئے ہوں لیکن اپنے آپ کو اسلام سے جوڑنے میں شرم اور عار محسوس کرتے ہوں اور دوسرے انسانی ازموں ، عرب پین ازم ، عصبیت ، عربی عجمی، یہاں تک کہ فرعونوں کی اولاد ہونے پر فخر کرتے ہوں۔ ایسی سلطنتوں کے ساتھ صیہونی اتحاد اور معاہدات کو کچھ مدت تک نہ صرف قبول کریں گے بلکہ بظاہر یہی ہوگا کہ ان سلطنتوں اور شاہوں کو مکمل یہ گمان رہے گاکہ یہ مادی لحاظ سے ہمارے لئے بہتر ہے اور یہی اسرائیلی ان کی بادشاہتوں کی ضمانت بھی فراہم کر سکتے ہیں ۔ اس منصوبے پر ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ ان نام نہاد مسلم ممالک اور سرحدوں کی پاسبانی نہیں بلکہ اسرائیل اپنی سرحدوں کے لئے پاسبانی کی گارنٹی لے رہا ہے جب تک اس کا اگلا فیز شروع نہیں ہوتا۔
 اسرائیل کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی مسلم اور خلیجی ریاستیں اپنے آپ کو اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے کے لئے مجبور پارہی ہیں کیونکہ انہیں تخت چھن جانے کا خوف ستا رہا ہے اور اس منصوبے پر اسرائیلی تھنک ٹینک صدیوں سے کام کر رہی ہیں ۔ بظاہر دنیا کے منظر نامہ کا جائزہ لینے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ا سرائیلی ریاست ناقابل تسخیر کی منزل تک آچکی ہے اور اس ریاست کے بارے میں فرمان الٰہی ہے کہ اصل مسیح کے نزول سے پہلے یہ لوگ تقریباً ناقابل تسخیر ہوں گے )۔( شیطان نے ان علاقوں سے اپنا سر ابھارا ہے ) اس کے دلائل میں زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسرائیلی منصوبے ٹھوس بنیادوں پر استوار کئے جاتے ہیں اور سینکڑوں اسرائیلی رضا کار تنظیمیں اور تھنک ٹینکس انہیں فیڈ بیک دے کر یہ مرحلہ وار آگے بڑھ رہے ہیں ۔اب پچھلی دہائیوں سے ان انڈر گرائونڈ یہودی تنظیموں کے بارے میں جو تھوڑی سی اور ناکافی معلومات مل رہی ہیں ،مسلم ممالک کی بڑی بڑی تنظیمیں اور خود ممالک ان کی گرد پا بھی ثابت نہیں ہورہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام تو کیا ،ساری دنیا خود بخود اسرائیلی جال میں اس طرح پھنس رہی ہے جس طرح مقنا طیس اپنی کشش سے لوہے کو ہر حال میں اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہ معاہدات وقت حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کے سوا کچھ نہیں، جیسا کہ ا سرائیل نے یاسر عرفات اور سیکولر تنظیم فلسطین آزادی کے ساتھ دجال (امریکہ ) کے تعاون سے اوسلو امن معاہدہ کیا ۔اس کے نتیجے میں مصر ، اردن ،سعودی حکومتوں نے بھی اپنے آقا امریکہ کے منشا پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھائے لیکن کبھی امن قائم ہوا اور نہ اسرائیل نے اپنے کسی منصوبے کو موخر کیا، اور نہ اپنے معاہدات پر کاربند رہا کیونکہ دغا اور فریب ان کی فطرت ہے ۔ 
اب یواے ای ا ور بحرین نے اوسلو معاہدے کی مانند پھر ایک معاہدہ کیا ہے اور کئی اور اس طرح کی حکومتیں جلد ہی ایسے معاہدات میں الجھ جائیں گی لیکن امن اب کبھی ان ممالک میں پیدا نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ سب ممالک اسرائیل کی توسیع پسندی کو روک سکیں گے کیونکہ اسلام نما سیکولر اور سودی ریاست کے لئے کامیابی کی کہیں بھی کوئی پیش گوئی نہیں ۔اسرائیل اسوقت عرب ممالک کے لئے ناقابل تسخیر اور ساری دنیا میں ٹیکنالوجی کے لحاظ سے آگے کیوں ہے ؟ اس کے بہت سارے اسباب ہیں لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ لوگ بیدار مغز ہیںاور گریٹر اسرائیل کے لئے کام کرنے والی سینکڑوں تنظیمیں اس وقت ساری دنیا میں متحر ک ہیں۔ ان میں ایک تحریک فری میسن کی بھی ہے جو اصل میں انڈرگرائونڈ تنظیم ہے جس کے بارے میں بہت ہی کم معلومات مل رہی ہیں۔ یہ تنظیم بظاہر زمینی سطح پر سماجی کاموں میں مصروف ہے لیکن یہ یہودیوں کی سب سے زیادہ خطرناک یہاں تک کہ موساد سے بھی آگے ایک ایسی تنطیم ہے جس کے بہت سارے شعبے الگ الگ مختلف نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں ۔ پہلے یہ بات کہ یہودیوں کی ساری دنیا میں کل تعداد ایک کروڈ چالیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے لیکن اب سروں کو گننے کے زمانے گئے۔ اگر آپ گوگل میں سرچ کریں گے تو اس تنظیم کے بارے میں کوئی خاص بات یہاں نہیں پائیں گے، بس اتنا سا ہے کہ یہ عیسائی تنظیم نہیں اور یہ کہ فری میسن لاجز سے منسلک ہیں اور لاجز کا مطلب ہے جگہ یا پناہ گاہیں جہاں یہ لوگ اپنے اجتماع اور اجلاس کرتے ہیں۔ یہ تنظیم سب سے بڑی اور دنیا کے ہر ملک میں خاموشی کے ساتھ گریٹر اسرائیل کے نقشے اور اہداف کو آگے بڑھا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کو جہاں برطانیہ نے ہی جنم دیا تھا وہاں یہ فری میسن تحریک بھی اسی برطانیہ کے شہر لنگا شائر میں تشکیل ہوئی تھی اور یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ ان کا نشان ہی ایک آنکھ ہے۔ آپ کو یاد آگیا ہوگا کہ مسلم لوگوں میں یہ عام سی بات ہے کہ ’’دجال ‘‘کا جب ظہور ہوگا تو اس کی پہچان بھی یہی ہے کہ اس کی ایک ہی آنکھ ہوگی ۔یہ بات بس دلچسپی کے لئے لکھی ہے نہیں تو ایک آنکھ کا مطلب زیادہ قرین قیاس یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بصارت دجال میں ہوگی لیکن بصیرت نہیں ۔ یا آج کا انسان صرف ظاہری آنکھ سے دیکھتا ہے اور روحانی طور اندھا ہے۔ بہر حال فری میسن ایک پر اسرار تنظیم ہے جس  کے لئے یورپی ممالک اور سر مایہ دار اربوں ڈالر میسر رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں جاسوسی ، تخریب ، ماردھاڈ اور خصو صاً مسلم ممالک میں انتشار اوراور بے چینیوں کو ہوا  دینا اورایسی حکو متیں قائم کرناہے جو اسرائیل کے اہداف میں رکاوٹیں کھڑی نہ کر سکیںاور خاص طور پر اسلامی طرز کی بننے والی یا انتخابات میں  اسلام پسندوں کی جیت کے باوجود ایسی حکومتوں کی بیخ کنی ہوتی ہے ، جیسا الجزائر ، افغانستان ، مصر اور بہت سارے دوسرے ممالک میں ہوا۔یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ لیگ آف نیشنز بھی ایک فری میسن یہودی نے ہی بنائی تھی جو بعد میں اقوام متحدہ کی صور ت ڈھل گئی۔
اب یہ اعداد شمار بھی ذرا دیکھئے اور ان پر بھی غور کیجئے کہ یونیسیکو کے62 شعبوں پر اس تنظیم کا مکمل غلبہ ہے ۔ آئی ایم ایف کے سب سے بڑے عہدے دار بھی فری میسن یہودی ہیں ۔امریکہ کے85 سب سے بڑے عہدے داروں میں جو امریکہ کو چلاتے ہیں،56 عہدے دار فری میسن سے تعلق رکھتے ہیںا ور اب تک کل ملاکر45 بار اسرائیل کے خلاف ایکشن لینے کی قراردادیں امریکہ نے ویٹو کی ہیں۔الیکٹرانک میڈیا کا تو کچھ کہنا ہی نہیں ۔سب دنیا کی بڑی چینلیں یہودیوں کی ملکیت ہیں ۔ظاہر ہے کہ ان پچھلی دہائیوں میں یہ دجالی (فتنہ و فساد ) کا دور مکمل طور امریکی چھتر چھایا میںپنپتا رہا ہے بلکہ صاف ظاہر ہے کہ حال میں ’’دجال ‘‘ کی پناہ گاہ ہی امریکہ ہے لیکن بہت جلدی اس فیز کا خاتمہ بھی ہوگا اور اگلا فیز یا مرحلہ شروع ہوگا ( جان ہیکی ٹرمپ کے سفیر اور پادری نے کہا ہے کہ اب مسیح کے نزول کی بات ہونی چاہئے ،کیا اس سے آسمان سے اتارنے کے لئے بھی کوئی پلان ہے؟) اس دوسرے مرحلے میں امریکہ کی کوئی وقعت اور اہمیت اسرائیل کے لئے نہیں ہوگی بلکہ یہ وہی نیا ورلڈ آرڈر ہوگا جس کی بات ابھی تو شدومد سے ہورہی ہے لیکن ابھی خود بڑے بڑے ممالک بھی اس ورلڈ آرڈر کے خدوخال نہیں سمجھ پارہے سوائے اسرائیل کے، جنکی نگاہیں ایک لمحے کے لئے بھی اپنے مرکز سے ادھر اُدھر نہیں ہورہی ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اس ورلڈ آرڈر میں لازمی طور پر اسرائیل کو حاوی ہونا ہی ہونا ہے کیونکہ جب تک ایسا نہیں ہوتا،ان کا مسیح (دجال) ان کے مطابق ساری دنیا کا حکمراں نہیں ہوگا جہاں صرف یہودی انسانوں کے درجے اور زمرے میں اس حکومت کے خاص کل پرزے ہوں گے اور باقی دنیا کی ساری آبادی کیڑے مکوڈوں کی حیثیت سے ان کی غلامی میں زندگی گذاریں گے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا سراب ہے جس کے پیچھے اہل یہود دوڈ رہے ہیں کیونکہ دجالی ٹولے کی یہ مادی بصارت تو خوب تیز ہے لیکن روحانی اور اللہ کے کئے ہوئے وعدوں کو سمجھنے کی ان میں بصیرت نہیں اور نہ عربوں میں ہے۔دونوں کا انجام خوفناک اور پیش گوئی کے عین مطابق ہوگا کہ یہاں’’سو میں سے ۹۹ قتل ہوں گے ‘‘۔
رابطہ ۔سوپور کشمیر
ای میلrashid.parveen48@gmail.com
موبائل نمبر۔9419514573