تین نیوکلیائی طاقتوں کا جنکشن

شورِ نشور

تاریخ    15 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


شاہ عباس
گذشتہ تین دہائیوں سے جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن پر ہند۔پاک افواج کی آپسی گولہ باری معمول ہے اور اب اس کے نتیجے میں ہونے والی فورسز و شہری ہلاکتیں بھی نارملائز ہوئی ہیں۔یہاں تک کہ شمالی کشمیر سے جموں خطے تک کی اس طویل متنازع سرحدی لکیر پردونوں ممالک کی کشیدگی کو خاطر میں بھی نہیں لایا جارہا ہے ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سرحدوں کی کشیدگی ہی خوفناک جنگوں کی وجہ بنتی ہے۔کنٹرول لائن کے قریب رہنے والے لوگ بھی دو ممالک کے تنازع کو ایک ہی بار حل کرنے کے بجائے زیر زمین بنکروں کی تعمیر کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ بھی ہند۔پاک سرحدی کشیدگی کو غیر شعوری طور ہی سہی ’معمول‘ کے طور تسلیم کرچکے ہیں۔   
اس کے برعکس بھارت اور چین کے مابین متنازع سرحد ،جسے حقیقی کنٹرول لائن کہا جاتا ہے، پر موجودہ کشیدگی نے عالمی برادری کو چوکنا کر رکھا ہے کیونکہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ یہاں بھڑکنے والی چنگاری پورے خطے کے ساتھ ساتھ نصف دنیا کو بھسم کرسکتی ہے۔بعض تجزیہ نگار ہند۔ چین کشیدگی کی موجودہ صورتحال کو کشمیر کے ساتھ جوڑتے ہوئے یہاں تک کہتے ہیں کہ خطے کے اندر چین، بھارت اور، تین نیوکلیائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کی جنگ میں مصروف ہیں جسے بروقت بین الاقوامی مداخلت ہی بے قابو ہونے سے بچا سکتی  ہے۔لیکن بھارت دہائیوں سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تنازعات نمٹانے کیلئے بین الاقوامی مداخلت پر راضی نہیں ہے کیونکہ نئی دلی کو لگتا ہے کہ ایسا کرکے اسکے قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہے ۔  
 بھارتی اور چینی حکام لداخ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے کوشاں ہیں جہاں دونوں ممالک نے جدید ہتھیاروں سے لیس ہزاروں فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے،تاہم اس کا ابھی کوئی عملی نتیجہ بر آمد نہیں ہورہا ہے ۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ روس کی راجدھانی ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے مذاکرات کے موقع پر 10ستمبر کو وزیر خارجہ ایس جئے شنکر اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رکھنے اورسرحد پر جلد از جلد تناؤ کو کم کرنے پر اتفاق کیا۔تقریبااڑھائی گھنٹے تک چلنے والی اس میٹنگ کے بعد ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں بتایا گیا کہ دونوں فریق اس بات پر راضی ہوئے ہیں کہ اختلافات کو تنازع نہیں بننے دیاجانا چاہئے اور دونوں ممالک کو آپسی تعلقات کو فروغ دینے کے بارے میں لیڈروں کے اتفاق رائے سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔  تاہم چین کے سرکاری ترجمان قرار دئے جانے والے اخبار گلوبل ٹائمز نے ایس جئے شنکر اور وانگ یی کی ملاقات کے بعد لکھا’’ اگر بھارت امن چاہتا ہے تو نئی دلی اور بیجنگ کو اُس حقیقی کنٹرول لائن کو بحال کرنا چاہئے جو7نومبر1959کو موجود تھی۔لیکن اگر بھارت جنگ چاہتا ہے تو چین بھی تیار ہے‘‘۔  
 دونوں ممالک کا موجودہ تنازع کوہ قراقرم پر واقع ایک ایسے سرحدی علاقے کو لیکر ہے جہاں دنیا کا بلند ترین لینڈنگ سٹرپ قائم ہے، ایسے گلیشیئر ہیں جو دنیا کے بہت بڑے حصے کو ذراعت کیلئے پانی فراہم کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ علاقہ چین کے ’’بیلٹ اینڈ روڑ‘‘ نامی بھاری اور اہم تعمیراتی پروجیکٹ کے ساتھ جُڑتا ہے۔اس کے علاوہ سرد ترین لداخ خطے کے ایک طرف بھارت کی سرحد چین اور دوسری طرف پاکستان سے ملتی ہے اور اس طرح یہ دنیا کا ایسا واحد خطہ ہے جو تین نیوکلیائی طاقتوں کا جنکشن ہے۔ یہ تینوں طاقتیں کشمیر کے بارے میں اپنے اپنے انداز سے سوچتی اور الگ الگ مؤقف رکھتی ہیں کیونکہ ان تینوں کے انتظام میںکشمیر کے علاقے ہیں۔
چین اور بھارت کی افواج 1962میں ایک دوسرے کے ساتھ نبرد آزما ہوئیں اور تب بھی لداخ جنگ کا مرکز تھا۔تب سے دونوں طرف کی افواج سنگلاخ پہاڑی علاقے میں ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانے میں مصروف رہی ہیں تاہم طرفین میں گولی نہ چلانے کا ایک معاہدہ ہے لیکن رواں برس کے ماہ جون میں مخالف افواج لاٹھیوں اور پتھروں سے لیس ایک دوسرے پر جھپٹ پڑیں جس کے نتیجے میں 20بھارتی اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ چین کی طرف ہوئی ہلاکتوں کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین کا انتہائی اہم روڑ نیٹ ورک اکسائی چن سے ہو کر گذرتا ہے،جو 1950سے بیجنگ کے زیر انتظام ہے اور اس کو بھارت لداخ کا حصہ قرار دے رہا ہے۔یہ لداخ کے علاوہ چین کے زیر انتظام تبت اور زنگ جیانگ کے ساتھ بھی جُڑتا ہے اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے بھی ہوکر گذرتا ہے اور بحیرہ عرب میں گوادر بندرگاہ سے جاکر ملتا ہے۔
 بعض دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ کشمیر سے متعلق اگست2019کے نئی دلی کے پارلیمانی فیصلوں سے چین کو اپنے وہ مفادات خطرے میں نظر آنے لگے ہیں جو اُس کے پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہوکر گذرنے والے پروجیکٹ ( چین ۔پاکستان اقتصادی راہداری ) اور بیلٹ اینڈ روڑکے ساتھ وابستہ ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کشمیر کے بارے میں ’تنظیم نو ایکٹ‘ کا مسودہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا تو اُنہوں نے اپنی زور دار تقریر میں اور بہت ساری باتوں کے علاوہ اکسائی چن کو’’آزاد‘‘ کرنے کا بھی ذکر کیا جس نے تجزیہ نگاروں کے مطابق بیجنگ کو اشتعال دیا اور اُس نے لداخ خطے میں سرحد پر اپنی سرگرمیوں کو بہت حد تک بڑھایا۔بعض غیر جانبدار دفاعی ماہروں کا بھی ماننا ہے کہ کشمیر سے متعلق بھارت کے گذشتہ برس کے ایکشن نے چین کے ساتھ اس کے رشتے کو بہت خراب کیا ہے یہاں تک کہ نئی دلی اور بیجنگ کی باہمی کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ بر اعظم ایشیا کے دو بڑے ممالک چار دہائیوں کے بعد آپس میں بھڑ پڑے اور بیسیوں فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔اتنا ہی نہیں بلکہ مشرقی لداخ میں دونوں ممالک کی متنازع سرحد پر چار دہائیوں بعد گولی چلنے کی آواز بھی سنی گئیں ۔ 
بھارت کی آزادی کے تین سال بعد چین میںمضبوط کیمونسٹ سرکار وجود میں آئی جس نے بھارت کے ساتھ سبھی پرانے معاہدوں کو جھٹلانا شروع کیا یہاں تک کہ طاقتور زی جنگ پنگ کی حکومت میں بیجنگ کا اپروچ زیادہ ہی سخت ہوا۔1950میں چین نے اکسائی چن میں ایک ایسے روڑ (بیلٹ اینڈ روڑ) کی تعمیر شروع کی جو تبت اور زنجیانگ کو ملاتا ہے۔بھارت نے اس پر اعتراض جتا کر کہا کہ اکسائی چن لداخ کا حصہ ہے جو کسی زمانے میں سابق ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھا۔
بعد ازاں نئی دلی اور بیجنگ کے آپسی رشتے اُس وقت مزید ابتر ہوگئے جب بھارت نے تبت کے روحانی لیڈر دلائی لاما، کو شمالی قصبہ دھرم شالا میں جلا وطنی میں حکومت قائم کرنے کی چھوٹ دیدی۔لاما1959میں تبت سے فرار ہوئے تھے جب وہاں چین مخالف بغاوت نے جنم لیا۔یہ بھارت اور چین کی1962کی جنگ کی بنیادی وجہ بنی جس میں بھاری پیمانے پرانسانی جانوں کا زیاں ہوا۔بعد ازاں 1967اور1975میں بھی نئی دلی اور بیجنگ کے درمیان فوجی ٹکرائو ہوئے لیکن وہ زیادہ شدید نہیں تھے تاہم ان میں بھی سینکڑوں افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔لیکن 1975کے بعد سے لگاتار دونوں ممالک ایک مخصوص پروٹوکول پر عمل پیرا ہیں جس میں ایک دوسرے کیخلاف گولی کا استعمال نہ کرنے کا معاہدہ بھی شامل ہے۔اس دوران بیجنگ نے بھارت کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ رشتے مضبوط کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور اُس نے پاکستان کی کشمیر پالیسی کی کھلم کھلا حمایت کی راہ اختیار کی جس پر وہ ہنوذ چل رہا ہے۔
حقیقی کنٹرول لائن مغرب میں لداخ اور مشرق میں اُروناچل پردیش تک طویل ہے جس کوچین اپنا حصہ تصور کرتا ہے ۔اُروناچل کے آگے حقیقی کنٹرول لائن کا سلسلہ توٹتا ہے اور بھارت کی سرحدیں نیپال اور بھوٹان کے ساتھ ملتی ہیں۔نئی دلی کا کہنا ہے کہ حقیقی کنٹرول لائن 3488کلو میٹر لمبی ہے۔چین بھارت کے شمال مشرقی حصے میں90ہزار کلو میٹر پر اپنا دعویٰ جتا رہا ہے جس میں بودھ مذہب کے ماننے والا والوں کااُرونا چل پردیش بھی شامل ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ چین کے پاس اکسائی چن کا38ہزار کلو میٹر پر مشتمل خطہ ہے اور یہی وہ خطہ ہے جہاں دونوں ممالک کی افواج رواں سال کے ماہ جون سے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے موجود ہیں۔ 
بھارت اور چین، دونوں کی اقتصادی حالت میں1962سے قابل ذکر مثبت تبدیلیاں آئی ہیں تاہم چین نے اس حوالے سے اپنے سبھی ہمسایوں کو پیچھے چھوڑا ہے۔بھارت نے چین کی اقتصادی ترقی کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ اور یورپ کے ساتھ معاہدے عمل میں لانے کا سلسلہ شروع کیا اور یوں نئی دلی اور بیجنگ میں خطے کے اندر چودھراہٹ قائم کرنے کی دوڑ انتہائی تیز ہوگئی ہے۔اس دوڑ میں بھارت کو خدشہ ہے کہ چین پاکستان ، نیپال اورسری لنکا کے ساتھ مل کر اپنا اثر بحیرہ ہند تک وسیع کرے گا جو کسی بھی صورت میں نئی دلی کے حق میں نہیں  ہے۔انہی خدشات کو ملحوظ رکھتے ہوئے بھارت حقیقی کنٹرول لائن پر اپنی دفاعی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے اور دوسری طرف چین اقتصادی طور اہمیت کی حامل سڑکیں تعمیر کررہا ہے تاکہ وہ بھارت کا قافیہ تنگ کرکے اپنی تجارت کو دنیا کے کونے کونے تک بہ آسانی مزید بڑھاسکے اور تبت وغیرہ علاقوں تک اپنی رسائی آسان اور مضبوط بنا سکے۔
نئی دلی اور چین کے مابین جاری اس سٹریٹجیک ٹکرائو کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ امریکہ زیادہ سے زیادہ بھارت کے نزدیک آرہا ہے تاکہ وہ بیجنگ کے اثر و نفوض کو محدود کرسکے۔وہ ہانگ کانگ کارڈ کا استعمال عمل میں لاکر چین کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف ہے ۔دوسری طرف اسلام آباد، صورتحال کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے چین کا استعمال کرکے نہ صرف اپنی کشمیر پالیسی کو مضبوط کررہا ہے بلکہ وہ اپنی اقتصادیات میں بھی استحکام لانے میں مصروف ہے ۔ پاکستان کی یہ بارگیننگ پوزیشن نئی دلی کو ستارہی ہے اور اُسے اس بات کی فکر دامن گیر ہے کہ کہیں پاکستان  کنٹرول لائن یا بین الاقوامی سرحد پر اس کیخلاف کوئی محاذ نہ کھولے جس کو موجودہ صورتحال میں ہینڈل کرنا اُس کیلئے مشکل ثابت ہوگا۔لیکن اسلام آباد ناپ تول کر اپنے کارڈ استعمال کرتے ہوئے اپنی اقتصادی پوزیشن مستحکم کرنے میں لگا ہے تاکہ وہ کسی بھی ٹکرائو کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت حاصل کرسکے۔بیشتر مبصرین نئی دلی، بیجنگ اور اسلام آباد کے موجودہ حالات کو انتہائی خطر ناک قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں واشنگٹن کی براہ راست شمولیت دنیا کیلئے مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔  
 سال رواں کے ماہ جون سے بھارت اور چین بودھ مندروں کیلئے مشہور لداخ خطے میں دست و گریباں ہیں۔دونوں ممالک نے خطے کے اندر جدید ہتھیار بشمول لڑاکا طیارے پہنچائے ہیں اور لداخ کے لوگوں کا کہنا ہے اُنہوں نے اس طرح کا فوجی جمائو ہند۔پاک کرگل ٹکرائو کے دوران بھی نہیں دیکھا ہے۔موجودہ صورتحال پرلداخ کے لیہہ اور کرگل علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی سوچ جداگانہ ہے اور یہاں وادی کشمیر میں رہنے والے لوگ اس کو الگ ہی زاویئے سے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن سب کا ماننا ہے کہ ہند۔چین مخاصمت خطے پر دیرپا اثرات مرتب کرنے والی ہے۔تجزیہ نگار بھی بیجنگ کے جارحانہ طرز عمل و طرز فکر کو دیکھتے ہوئے مانتے ہیں کہ یہ خطے کی سیاسی یہاں تک کہ جغرافیائی صورتحال تبدیل ہونے کا بھی موجب بن سکتی ہے۔مبصرین کے مطابق آنے والے ایام بھارت کیلئے اس لئے سخت ہیں کیونکہ اُسے فوج کی ایک بھاری اضافی تعداد کو لداخ خطے کے اندر حالت جنگ میں رکھنا پڑے گا جو اس وجہ سے آسان کام نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے ہی فوج کی ایک بھاری تعداد کو پوری کنٹرول لائن پر گذشتہ کئی دہائیوں سے حالت جنگ میں ہی ہے۔ہاں، اُسے سیاچن گلیشیئر پر تعیناتی کا تجربہ حاصل ہے لیکن دنیا کے سرد ترین محاذ جنگ پر فوجیوں کی ایک مخصوص تعداد تعینات رکھنی پڑتی ہے کیونکہ وہاں دشمن کی سرگرمیاں بھی محدود ہی ہوتی ہیں لیکن مشرقی لداخ میں بھارت کو اس وقت جس دشمن کا سامنا ہے اس کو صرف اسی مخصوص خطے کے اندر فوجی سرگرمیوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنی ہے اور اُس کے آس پاس بھارت کے برعکس فی الوقت کسی طرف سے کسی خطرے کا امکان بھی نہیں ہے ، اور یہ بھارت کی پرشیانیوں میں اضافے کا باعث ہے۔