تازہ ترین

تاریخ کا منفردپارلیمانی اجلاس شروع، وقفہ سوالات نہ نجی بل پیش ہوں گے

اپوزیشن کا احتجاج، اقدام جمہوریت کا گلہ گھوٹنے کے مترادف قرار

تاریخ    15 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی// تاریخ کا منفرد مانسون اجلاس پیر کو شروع ہوا۔17ویں لوک سبھا کے چوتھے اجلاس کے پہلے دن کارروائی شروع ہونے پر سب سے پہلے آنجہانی اراکین اور سابق اراکین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ہی ایک گھنٹے کے لئے ملتوی کردی گئی۔قریب سوا دس بجے ایوان پھر سے شروع ہوا۔اسپیکر اوم برلا نے ایک بیان میں کہا کہ غیر معمولی حالات میں ہورہے اس اجلاس میں پارلیمنٹ کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوگا جب لوک سبھا کے رکن راجیہ سبھا کے چیمبر اور ناظرین کی گیلری میں بھی بیٹھیں گے جن کے ذریعہ سے ملک کے عوام پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھا کرتے ہیں۔ یہ کوشش اور سکیورٹی انتظامات پارلیمنٹ اراکین کے درمیان جسمانی دوری بنائے رکھنے کے مقصد سے کئے گئے ہیں۔ برلا نے کہاکہ سکیورٹی پروٹروکول کے سلسلے میں اراکین کو تکلیف ہونے کی شکایتیں آئی ہیں لیکن یہ سب ان کی حفاظت کے لئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہندوستان کے 130 کروڑ عوام کی امیدوں اور تمناؤں کی علم بردار ہے اور یہاں سے عوام کی ترقی اور خوشحالی طے ہوتی ہے ۔ ملک کے عوام نے کورونا کی وبا سے نمٹنے میں بے مثال بھائی چارے اور مثبت نظریے کا ثبوت دیا ہے ۔ مرکز،ریاست اور سبھی فریقوں کے ساتھ مل کر ہم سب کورونا پر جلد ہی جیت حاصل کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ کوویڈ -19 کی وبا سے بچنے کے مقصد سے اس بار ایوان کے کام کاج کرنے کے طریقے میں کچھ تبدیلی کی گئی ہے ۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایوان کی کارروائی صرف چار گھنٹے ہوگی۔اراکین سیٹ پر بیٹھ کر ہی بولیں گے ۔ لوک سبھا چیمبر ،راجیہ سبھا چیمبر، لوک سبھا ناظرین گیلری اور راجیہ سبھا ناظرین گیلری میں مختلف پارٹیوں کو سیٹیں الاٹ کردی گئی ہیں اور یہ پارٹیوں پر منحصر کرتا ہے کہ وہ اپنے کس رکن کو کہاں بٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے لئے اصول 384 میں لچیلاپن لانے کی تجویز ہے جس سے راجیہ سبھا کے اراکین کو لوک سبھا کے چیمبر میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔اجلاس میں گذشتہ 50برسوں میں پہلی بار وقفہ سوالات ہوگا نہ نجی بل پیش  کئے جاسکتے ہیں۔ سرکاری تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے ڈیرک او برائن نے ترمیم پیش کی جسے ایوان نے صوتی ووٹ سے خارج کردیا۔ اس سے پہلے انہوں نے کہاکہ وقفہ سوالات ہونا چاہئے۔ اس سے لوگوں کے مسائل حل ہوتے ہیں اور حکومت کی جواب دہی طے ہوتی ہے۔ ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ وقفہ سوالات جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ اس سے حکومت کی پالیسیوں کو عوام کے سامنے لایا جاتا ہے۔عوامی نمائندوں کو عام لوگ منتخب کرتے ہیں اور عوام کی طرف سے نمائندوں کو سوال پوچھنے کا حق ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقفہ سوالات لازمی طورپر ہونا چاہئے۔چیرمین ایم ونکیا نائیڈو نے کہاکہ وقفہ سوالات نہیں ہونے کا انتظام ایوان میں بھیڑ ختم کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اس سے حکام کو ایوان  میں نہیں آنا ہوگا۔