تازہ ترین

امدادی پیکیج تیار،اعلان آئندہ ہفتے

انتظامیہ میں علاقائی سطح پر امتیاز برداشت نہیں کیا جائیگا

تاریخ    15 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی

  ہر بدھ صوبائی اور ضلعی سطح پر عوامی درباروں کا اہتمام ہوگا: لیفٹیننٹ گورنر

شوپیان انکائوانٹر کے تعلق سے انصاف کے تقاضے پورے ہونگے

 
سرینگر//جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گور نر منوج سنہا نے کہا ہے کہ مرکزی زیر انتظام اکائی میں گذشتہ دو دہائیوں سے ہر ایک شعبہ متاثر ہوا ہے اور مرکزی حکومت آئندہ ہفتے ایک بہت بڑے پیکیج کا اعلان کرنے جارہی ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ امشی پورہ شوپیان مبینہ فرضی انکائونٹر کی تحقیقات جا ری ہے اور انصاف کے تقاضے ہر صورت پورے ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ میں کسی بھی سطح پر علاقائی امتیاز برداشت نہیں کیا جائیگا۔
مالی پیکیج
راج بھون احاطے میں واقع آڈیٹوریم میں دوسری پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ تشکیل دی گئی کمیٹی نے جموں وکشمیر میں کاروبار اوردوسرے بیمار شعبوں کی بحالی کیلئے ایک پیکیج کی تجویزاپنی پیش کردہ رپورٹ میں کی ہے، جس پر حکومت ہند غور غور و خوض کررہی ہے اور ایک ہفتے کے اندر اندر اس حوالے سے بڑا اعلان کیا جائیگا ۔منوج سنہا نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ گذشتہ ایک سال سے جموں و کشمیر کے کاروبار کو نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ15سے20کے برسوں کے دوران ہر ایک شعبے کو خسارے کا سامنا کر نا پڑا ہے ۔ان کا کہناتھا ’ہاں ،ایک پیکیج تجویز کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ‘۔انہوں نے کہا ’کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی ہے جس پر حکومت ہند غور کررہی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ایک ہفتہ کے اندر ایک بڑے پیکیج کا اعلان ہونے والا ہے‘۔لیفٹیننٹ گور نر نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا راحتی پیکیج ہو گا ،جو نہ صرف بیمار شعبہ تجارت بلکہ دیگر متاثر ہوئے سیکٹروں کی بحالی کیلئے بھی ہوگا ۔
شوپیان انکوانٹر
 منوج سنہا نے کہا ’’ شوپیان مبینہ فرضی انکائونٹر کی تحقیقات جاری ہے ،اس کیس کے سلسلے میں فوج اور انتظامیہ علیحدہ طور تحقیقات کررہی ہے ،میں یقین دلانا چاہتاہوں ،انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا جائیگا‘۔حالیہ دنوں راجوری کے تین لاپتہ نوجوانوں(جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُنہیں مبینہ طور پر فرضی انکائونٹر میں ہلاک کیا گیا ) کے لواحقین نے لیفٹیننٹ گور نر منوج سنہا کے نام ایک خطہ میں اُن سے معاملے کی نسبت ذاتی طور پر مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے ۔اس خط میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ18جولائی مبینہ فرضی انکائونٹر کی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیقات کی جائے۔
امتیاز نہیں ہو گا
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جب تک انتظامیہ کی کمان میرے ہاتھوں میں ہے جموں اور کشمیر میں علاقائی سطح پر کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی اگر امتیاز کرنا چاہے گا تو اس کی وہ حرکت برداشت نہیں کی جائے گی، دونوں خطوں کی مساوی بنیادوں پر ترقی ہوگی۔منوج سنہا نے کہا کہ ان کی قیادت والی انتظامیہ کرپشن کے تئیں زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا رہے گی۔ ان کا کہنا تھا: 'اسکیموں کو لاگو کرنے میں ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ایک کام شفافیت کے ساتھ انجام دیا جائے۔
فوجی قافلے
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وہ سری نگر جموںشاہراہ پر فوجی قافلوں کی نقل و حرکت کے دوران سویلین ٹریفک کو روکے رکھنے کے مسئلے کو بھی دیکھیں گے۔ ان کا اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا: 'میرے ڈومین کے باہر کچھ نہیں ہے، اگر کوئی کام بھارت سرکار سے کرانا ہوگا تو میں وہ کرا دوں گا،آپ اس کی فکر چھوڑ دیجئے، آپ نے جو مسئلہ سامنے رکھا ہے، تھوڑا وقت دیجئے میں اس پر بات کروں گا'۔
عوامی دربار
لیفٹیننٹ گو ر نر نے مزید کہا کہ ہر بدھ کو جموں وکشمیر میں صوبائی اور سب ڈویژنل سطحوں پر عوامی دربار منعقد ہوں گے،جہاں صوبائی کمشنر اور ضلع ترقیاتی کمشنر عوامی شکایت کا از خود سنیں گے اور ان کا فوری ازالہ بھی کریں گے ۔