تازہ ترین

چین کی عالمی معاشی جارحیت

ندائے حق

تاریخ    14 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


اسدمرزا
 اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پور ی دنیا مغرب کے بجائے مشرق کے اشاروں پر چل رہی ہے یا اس سے متاثر ہے۔اور ایسا بھی محسوس ہورہا ہے کہ چینی ڈریگن ، جو برسوں سے اس دنیا پر حکمرانی کرنے کی تیاریاں کررہا تھا اب بڑی خاموشی سے سرگرم ہوگیا ہے اور جلد ہی پوری دنیا پر چھا جائے گا۔
چین کی اس پیش قدمی میں کورونا وائرس نے بھی بڑی مدد کی ہے۔ بعض امریکی سیاست دانوں نے اس وائرس کو اور اسے دنیا بھر میں پھیلانے کے لیے چین کو مورد الزام بھی ٹھہرایا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ چین آج جس مقام پر پہنچ چکا ہے ، وہ رواں دہائی میں اپنی جی ڈی پی اور آمدنی کو دوگنا کرلے گااور عالمی اقتصادی نظام میں سب سے آگے آگے ہوگا۔ چین کی جی ڈی پی 13.1 ٹریلین ڈالر ہے ۔وہ اس وقت دنیا میں دوسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے اور امریکا سے ذرا سا ہی پیچھے ہے۔ ماہرین اقتصادیات کو توقع ہے کہ 2020میں اس کی ترقی کی شرح 6فیصد ہوگی اور وہ اپنی معیشت کو دوگنا کرنے کے مجوزہ ہدف کو حاصل کرلے گا۔
چینی لائحہ عمل
چینی توسیع پسندی پروگرام کاآغاز 1970کی دہائی کے اواخر میں ، چینی معیشت تک دیگر ملکوں کی رسائی کے اقدامات کے ساتھ ہوا۔ٹھوس لائحہ عمل ، سستے مزدور، کم قدر والی کرنسی اور ایک شاندار پروڈکشن سسٹم نے چین کو دنیا کے مینوفیکچرنگ مرکز کے طورپر خود کو قائم کرنے میں مدد فراہم کی، جس کے پاس ہر سامان کو انتہائی کم لاگت پر تیار کرنے کی صلاحیت تھی۔
اس کے ساتھ ہی مرکزی تعلیمی نظام کے ذریعہ منظم کی جانے والی تکنیکی مہارت سے آراستہ نوجوان آبادی نے بھی اسے ہر قدم پر علمی اور عملی تعاون فراہم کیا۔اس طریقہ کار نے ایک غیر فعال معیشت کو خوشحال اور متنوع سپر پاور میں تبدیل کردیا۔ یہ ملک اب غیرمفتوح انداز میںپہلے نمبر پر پہنچنے کی جانب مسلسل آگے بڑھتا جارہا ہے۔
خوابیدہ مغرب
چین کی کامیابیوں کے لیے بڑی حد تک خود مغرب بھی ذمہ دار ہے۔ماحولیاتی چیلنجز سے دوچار مغرب نے سستے مزدور اور کم قدر والی کرنسی کے لالچ میںپڑ کراپنی بیشتر مصنوعات کو چین میںتیار کرانے کا فیصلہ کیا ۔ لیکن چین نے ان کا کھیل انہیںپر اُلٹ دیا۔ انہیں چینی کمیونسٹ پارٹی کی بڑھتی ہوئی طاقت سے ہوشیار ہوجانا چاہئے تھا ، جو روسی کمیونسٹ پارٹی کے برخلاف، اپنے عوام پر اپنی آہنی گرفت روز بروز مضبو ط سے مضبوط تر کرتی جارہی تھی۔
چین کے مستقبل کا منصوبہ
مورگن اسٹینلے کی پیش گوئی کے مطابق چین پورے ملک میں سپر شہروں کا جال تیار کررہا ہے ۔ ان میں سے 23 سپر شہروں کی آبادی  نیویارک کی آبادی سے زیادہ ہوگی جب کہ صرف پانچ شہروں میں مجموعی طورپر 120ملین افراد رہ سکیں گے۔ آبادی کے ان بڑے مراکز میں دیہی علاقوں سے نوجوان ورکروں کو لاکر بسایا جائے گا۔چین جدید کاری اور شہرکاری کے اپنے پروگرام کے حصے کے طور پر 5جی ٹکنالوجی پر بھی کافی بڑی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ اس کا مقصد ہے کہ آپ کی زندگی کے تمام شعبوں میں آرٹیفیشئل انٹلی جنس(اے آئی) کا عمل دخل ہوجائے ۔
چین کی عالمی موجودگی
چین کی موجودگی اس وقت افریقہ میں اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل بحری علاقہ جبوتی سے لے کر جنوبی امریکا کے تیل کے تیسرے سب سے بڑے ذخائر ایکواڈور تک دیکھی جاسکتی ہے۔
چین نے دنیا کے بیشتر ملکوں تک اپنی رسائی کے لیے تیسری دنیا کے غریب ملکوں کو کئی طرح کے لالچ دیے۔ انہیں سستی شرحوں پر قرضے اورباہمی امدادی پیکج دیے ، جودرحقیقت ان ملکوں کو چین کے اقتصادی دام میں پھنسانے کا ذریعہ تھے۔ ان قرضوں کو معاف کرنے کے بدلے میں چینی کمپنیوں نے ان ملکوں کے اثاثوں کو اپنے اختیار میں لے لیا ، اس طرح یہ ممالک اپنے قدرتی وسائل اور زمینوں سے محروم ہوگئے اور ان ملکوں میں چینی ادارے ہی عملاًحکمراں بن گئے۔ 
بی آر آئی پہل
چین نے انتہائی عیاری سے عالمی ’بیلٹ اور روڈ پہل(بی آر آئی) ‘ پروگرام کا آغاز کیا۔ جو اسٹریٹیجک ، سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے صرف چین کے مفادات کی تکمیل کرتا ہے۔ان اقدامات کا مقصد دیگر ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا نہیں ، بلکہ انہیں چین کا مرہون منت بنادینا ہے ۔ خاص طور پران علاقوں کو جنہیں مغرب نے نظر انداز کیا یا جو مغرب کے زیر اثر نہیں ہیں انہیں چین کے آگے سرنگوں کردینا ہے۔چین کے بی آر آئی پروگرام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ چین کی طرف سے دیے جانے والے قرضوں کے معاہدوں میں شفافیت نہیں ہے اور یہ بعض اوقات قرض لینے والے ملکوں کی ضرورتوں کے بجائے چین کے مفادات کو کہیں زیادہ پورا کرتے ہیں۔ سری لنکا اس کی واضح مثال ہے ۔ جب وہ چین سے لیے گئے قرض کو واپس کرنے میں ناکام رہا تو اسے اپنا ہمبن ٹوٹا بندرگا ہ چین کے حوالے کرنا پڑا۔
چین کے بی آر آئی میں شامل ممالک اور امریکا کے دوست اور اس کے اتحادی ممالک بھی مغرب کے قومی سلامتی کی حمایت کرنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں کیوںکہ انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو اپنے یہاں بہت بڑی چینی سرمایہ کاری سے محروم ہوسکتے ہیں۔
ناقدین یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ چین ان ملکوں کے ساتھ بی آر آئی معاہدوں پر زیادہ زور دیتا ہے جہاں آمرانہ حکومت ہے ۔ چین کی اس بات کے لیے بھی نکتہ چینی ہورہی ہے کہ اس نے چہرے کی شناخت کرنے والی ٹکنالوجی بی آر ٹی پروجیکٹ میں شامل ملکوں کو تقسیم کی ہے اور بولویا، وینزویلا  اور ایکواڈور جیسے ان ملکوں میں چینی سرویلانس سسٹم نصب کردیے گئے ہیں۔
چین اور حقوق انسانی
چین کے خلاف ایک اور سنگین معاملہ انسانی حقوق کی پامالی کا بھی ہے ۔ جو کہ ناصرف اپنے شہریوں بلکہ میزبان ملکوں کے شہریوں کے ساتھ روا رکھتا ہے۔مثال کے طور پرکسی بھی مسلم ملک نے چین میں لاکھوں ایغورمسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک حتی کہ ان کے قتل عام جیسی صورت حال پر کبھی کوئی آواز بلند نہیں کی۔ایغوروں کے ساتھ زیادتی کی مذمت کے سلسلے میں چین کے خلاف مغربی ملکوں کی طرف سے اقوا م متحدہ میں پیش کردہ قرارداد کی کسی بھی مسلم اکثریتی ملک نے تائید نہیں کی ۔
چین او رہندوستان
ان دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان اب تک دو جنگیں ہوچکی ہیںاور اس وقت بھی چین ہندوستان کی زمین ہڑپنے کے فوجی لائحہ عمل پر گامزن ہے۔ لیکن تشویش کی اصل بات چین کے ساتھ ہندوستان کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ہے۔2019کے اعدادو شمار کے مطابق دونوں ملکوں کے مابین  92.68بلین ڈالر کی باہمی تجارت ہوئی۔
پچھلے چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری چینی جارحیت کے جواب میں حکومت ہند نے کئی مقبول چینی موبائل ایپس پر پابندی عائد کردی ہے۔ کورونا بحران کے دوران بہت سے تجارتی پنڈتوں نے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے ہندوستان میں منتقل ہونے کی پیشن گوئی کی تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیوں کہ چینی کمپنیوں کے پاس جس طرح کی مہارت اور تکنیکی ترقی ہے ، ہندوستانی صنعت اس کے پاسنگ میں بھی نہیں ہے۔ ہندوستان کو اس سطح تک پہنچنے کے لیے ابھی مزید 15 سے 20برس لگیں گے اور اس وقت تک دنیا پر چین کاغلبہ مکمل ہوچکا ہوگا۔
شاید آپ کے لیے یہ یقین کرنا دشوار ہو لیکن بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ مغرب چین سے اقتصادی جنگ ہار چکا ہے اور چین یہ بات اچھی طرح سمجھ چکا ہے کہ ایک عالمی سپر پاور بننے کے لیے علاقے پر کنٹرول کرنے کے مقابلے میں معیشت پر کنٹرول کرنا زیادہ موثر ہے۔
(مضمون نگار سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ وہ بی بی سی اردو اور خلیج ٹائمز ، دوبئی سے وابستہ رہ چکے ہیں)
ای میل۔ asad.mirza.nd@gmail.com