تازہ ترین

معاشی بحران تباہی کا پیش خیمہ | رواداری کی فضا مستحکم کرنے کی ضرورت

گفت و شنید

تاریخ    14 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


معراج مسکین
بلا شبہ فطرت ِ انسانی کا سامنا جنبشِ قلم سے پہلے جنبشِ لَب سے ہوتا ہے،کیونکہ دنیا میں آتے ہی جنبش کی ابتدا آواز سے ہوتی ہے۔ آواز کا لَبوں سے نکلنا اور سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کے پیچھے ایک مقصد ہوتا ہے کہ کوئی ہے جو آیا ہے۔تاریخ انسانی کے اس اہم واقعہ سے یہ بات تو بالکل صاف ہے کہ تہذیب کے ارتقا میں الفاظ کا کلیدی رول رہا ہے۔تاریخ یہ بات فراموش نہیں کرسکتی کہ الفاظ کی طاقت تلوار کی جھنکار سے کہیں بڑھ کر ہے۔الفاظ کے زیروبم نے ہی انسانی دِلوں کی دنیا بدل ڈالی ہے ، حق اور ناحق سمجھایا ہے،اچھائیوں اور بْرائیوں میںفرق دکھائی ہے۔ الفاظ کی سحر انگیزی سے عوام اورحکمران کے تعلق کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور الفاظ کی جادو گری سے حکمرانی آتی اور جاتی رہتی ہے۔ یہاں یہ سب باتیں اْن لوگوں کی یاد دہانی کے لئے ہیں جو اس وقت حکمران بنے بیٹھے ہیں اور لبوں کے زنبِش سے اپنی موجودگی ظاہر کررہے ہیں۔اْن کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ کو سْننے کے بعد ہر کوئی یہی سوچ رہا ہے کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ظاہر ہے کہ ان سب الفاظ کے پیچھے وہی مقصد کارفرما ہے جو شروع سے چلا آرہا ہے۔آج ساری دنیاکرونائی قہر کی تباہ کاریوں میں گھوم رہی ہے۔انسانی اموات کی تعداد لاکھوں میںپہنچ گئی ہے،تباہ کْن معاشی صورت حال مزید ابتر ہورہی ہے۔بے روزگاری اور بھکمری کی انتہا ہوگئی ہے۔ناجائز منافع خوری ،غبن اور گھٹالوںکی لہر بھی جاری ہے۔لیکن اس کے باوجود مختلف ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کی کیفیت  میں کوئی کمی نہیںہورہی ہے۔ کس کس مسئلے کی مثال پیش کی جائے،بَس اتنا سمجھ لیجئے کہ عوام اس صورت حال کا ہر عذاب بھگت رہے ہیں اور کب تک بھگتنا پڑے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ 
 قتل و غارت گری ،نسل کْشی ،خون خرابہ،فسادات ،جنگوں میں اندھا دْھند مار کاٹ ،خرافات اور طرح طرح کی لفاظی جنگ سے آج کی دنیا کا کون سا خطہ صاف و پاک ہے۔مشرق وسطیٰ کے کئی خطوںمیں عرصہ دراز سے چلی آرہی باہمی کشت و خون کی ہولی،برصغیر میں چلی آرہی پیچیدہ کشیدگی اور دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھ رہی رقابت کے باعث پیش آنے والے المناک ا وربھیانک واقعات کے دلسوز مناظر تو آ پ ٹی وی پر دیکھتے ہی ہوں گے یا ان واقعات پر بنائی جارہی فلموں پر بھی آپ کی نظریں مرکوز رہی ہوں گی،مگر اب موجودہ صورت حال پربیشتر ٹیلی ویڑن چینلوںاور سوشل میڈیا پر خرافات کی شکل میںجو لفاظی جنگ چل رہی ہے، وہ واقعی آپ کو بھی حیرت زدہ کرتی ہوگی۔
اگر بھارت کی بات کی جائے تو کرونائی قہر کے نتیجہ میںیہاںتقریباً 6ماہ سے نظام زندگی مفلوج ہے۔حکومت کی بے حسی سے نظامِ زندگی بحال کرنے میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے۔انتظامی کرسیوں پرایسے لوگ قابض ہیں جن میں احساس ِ ذمہ داری کا فقدان ہے۔یہی وجہ ہے ملک دن بہ دن تنزلی کی جانب بڑھ رہاہے،لاکھوں کروڑوں لوگ بے روز گار ہوچکے ہیں،بھوک سے ہزاروں لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں،جی ڈی پی یعنی ترقی کی شرح اپنی آخری سطح پر پہنچ چکی ہے لیکن حکومت بدستور خواب ِ خرگوش میں محو دکھائی دیتی ہے، جہاں معیشت کی تباہی نے مْلک کو بْرباد ی کی کگار پر لاکھڑا کردیا ہے وہیں لوگوں کوکتے اور کھلونے خرید نے کا مشورہ دیا جا رہاہے۔بھلا کھلونوں اور کتوں سے لوگوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں؟ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیاجائے تو یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی کہ اس حکومت نے قدم قدم پر لوگوں کیلئے مشکلات ومصائب کھڑے کئے ہیں۔رواداری کی فضا آلودہ بنادی گئی، کوئی ایسا کام نہیں کیا گیا جس سے لوگوں کی مشکلات کم ہوئی ہوں اور یہ سمجھاجائے کہ حکومت لوگوں کی خیرخواہی کررہی ہے۔ ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں تشویشناک حدتک گراوٹ آچکی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی کرسی پر بیٹھے لوگوں کو نہ علم سے کوئی مطلب ہے اور نہ ملک کی ترقی سے۔معمولی باتوں پر لوگوں کی بے عزتی ہورہی ہے ،خواتین سے زیادتیاں ہورہی ہیں،معصوم لوگوں کی ماب لنچنگ کی جاتی ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ لوگوں کی سب آزادی چھینی جارہی ہے اور محض کچھ مخصوص لوگ ملک و ملت کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے ہیں۔سرکاری اداروں کو ایک ایک کرکے بیچا جارہا ہے،مخالفت کرنے والوں کی آواز دبائی جارہی ہے اور بے گناہوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا جارہا ہے۔مذہبی منافرت پیدا کرکے لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑواکر جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے اور ملک کی سالمیت کو خطرے میں ڈالاجارہا ہے۔ جس کے نتیجہ میں ملک جہاں کرونائی قہر کی مار کھارہا ہے وہیں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ جنگ کی صورت حال میں خوار بھی ہورہا ہے جبکہ ملک کی غلام میڈیا لوگوں کواِس خوار اور مار کی حقیقت ِ حال سے کوسوںدور رکھ کر فضول کی باتوں میں اْلجھا نے میں مصروف ہے اور خوش کْن خوابوں اور خیالوں میں دھکیل رہی ہے۔ جس کا انجام آنے والے وقتوں میں انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔مخصوص میڈیا کی اس ناقص و مجرمانہ روش اور حکومت کی بے حسی کے باعث لوگوں کے درپیش مسائل میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ روز مرہ کی اشیاء قیمتیں آسمان چھورہی ہے اور ہرطرف لوٹ کھسوٹ اور افراتفری کاعالم ہے۔ایک طرف حکومت لوگوں کو  لوٹ رہی ہے اوردوسری طرف خود غرض طبقہ لوگوں کا خون چوس رہا ہے۔ اس بد ترین صورت حال میں ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کی زندگیاں کیسے چلے گی جو بے روز گار ہیں،اِس وقت جن کا کوئی ذریعہ معاش ہے نہ کھانے کے لئے پیسے اورچاروں طرف کرونا ئی قہر؟
اب ذرا مسلم معاشروں کی حالت دیکھتے ہیں۔ساری دنیا میں اپنے جہل کو علم کا نام دیتے ہیںاور بے علمی کو اْستادی کی دلیل بناتے ہیں۔سچی بات تو یہی ہے کہ آزادی ٔ اظہار کا حق صرف طاقت ،دولت اوراسلحہ کو حاصل ہے۔سارے انسان بے زبان جانور ہوکر رہ گئے ہیں،جب جی چاہا وہیں دَبا دیا ،خرید لیا اور بھون ڈالایعنی خون میں لت پَت کردیا۔اپنی اس وادی کشمیر جو کہ اب یونین ٹریٹری بنادی گئی ہے ، پر نظر ڈالتے ہیں تو پچھلی تین دہائیوں میں جو کچھ ہوا ،وہی آج بھی ہورہا ہے۔سب سوئے ہوئے ہیں کوئی آنکھ کھولنے کے لئے تیار نہیں۔پہلے تو ہر طرف نعرے ہی نعرے ہوتے تھے مگر آج بہت کم نظر آتے ہیں،نعرے دینے والے تو وہی ہیں جو عملی طور پر کچھ نہ کرسکے ہیں۔پہلے آزادی کا مطلب یہ بتلایا جاتا تھا کہ عام انسانوں پر ظلم نہ ہو،ان کی املاک ،کاروبار ،تجارت ،کھیت کھلیان کو نقصان نہ پہنچے اور انہیں اپنے بال بچوں کے ساتھ ایک سیدھی سادی چین کی زندگی بسر کرنے دی جائے۔اْس وقت نہ چیختے چِلاتے اخبارات تھے نہ چنگھاڑتے ہوئے ٹیلی ویژن چینلزاور نہ ہی خرافات بکنے والی سوشل میڈیا۔مگر آج سب کچھ ہوتے ہوئے بھی عام آدمی بے کسی کی حالت میںکہاں بول سکتا ہے کہ اْسے اِظہار کا غم ہے۔وہ تو اقتصادی بحران کا شکار ہے۔اس کی فکر آج بھی وہی ہے جو سینکڑوں سال پہلے تھی یعنی بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنا۔اْسے نہ تو تب آزادی کے سحر انگیز نعروں کی بات سمجھ آئی تھی اور نہ آج اْن کا مفہوم سمجھ آرہا ہے۔قانون نام کی کوئی چیز ہوتی تو شایدوہ کچھ نہ کچھ سمجھ پاتا۔قانون پر عمل درآمد ہوتا تو حالات بھی بدل گئے ہوتے۔غریبوں کی حالت میں بہتری آئی ہوتی ،بے روزگاری پر قابو پایا ہوتا ، مہنگائی کا سیلاب رْک گیا ہوتا ،ناجائز منافع خوری کا طوفان تَھم گیا ہوتا ،بجلی کی راحت ہوتی ،پینے کا پانی مہیا ہوتا اور ساتھ ہی غبن ،گوٹالوں،رشوت اور چوریوں کا نام و نشان نہ ہوتا۔ظاہر ہے کہ نعرہ دینے والے سب لوگ ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیںاور الفاظ کی جادو گری سے لوگوں کوخوابوں اور خیالوں میںمسرور رکھنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ پتہ نہیں آج وہ کس نعرے کی تلاش میں ہیں؟سچ تو یہ بھی ہے کہ زمانہ ہمیشہ چڑھتے سورج کا پجاری رہا ہے۔اس لئے اغلب ہے کہ کسی بھی طرف سے کوئی ایسا نعرہ سامنے آجائے جو لوگوں کو سحر میں ڈالے اور اپنی طرف مائل کرے کیونکہ ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جس کی کوئی سمت ہے نہ کوئی ترکیب۔ ہمارے لئے انسانی رشتوں سے زیادہ اپنی ضروریات انتہائی اہم ہیں۔ ہم اس ایماندار معاشرے کا حصہ ہیں جہاں جان بچانے والی ادویات توکْجا، زہر بھی خالص نہیں ملتا۔ہم اس معاشرے کے افراد ہیں،جہاں اہلیت کا معیار کسی صاحبِ اختیار کی خوشامد ، رشتہ داری یا حرام کمائی میں شرافت داری ہے۔ہم اْس معاشرے کے شراکت دارہیں جہاں ہر فرد اپنے آپ کو دوسروں سے صاف و پاک اور جنتی سمجھتا ہے۔خصوصاً اس وبائی دور میں جہاںپوری دنیا وبا ء سے خائف ہے لیکن ہمارے یہاں اِسے لفٹ نہ کرانے ، نہ گھبرانے اور نہ احتیاطی تدابیر اپنانے کی جدو جہد جاری ہے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ انسان محبت سے ،حسد سے یا خوف سے جس کسی میں پوری طرح اپنے دِل کو لگا دیتا ہے ،وہ ویسا ہی ہوجاتا ہے۔یا د رکھئے زندگی جب تک راہِ راست پر نہیں آتی،شائستہ نہیں کہلاتی۔