تازہ ترین

پرائیویٹ سکول فیس میں 30فیصد کمی کا معاملہ

راجستھان اور تامل ناڈو عدالتوں کے فیصلوں پر قانونی رائے طلب

تاریخ    13 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


سید رضوان گیلانی
سرینگر//محکمہ تعلیم نے نجی اسکولوں میں کووڈ19 لاک ڈاؤن مدت کے دوران نجی اسکولوں میں طلبا کی ٹیوشن فیس میں رعایت کیلئے محکمہ قانون سے قانونی رائے طلب کی ہے۔پرنسپل سکریٹری اسکول ایجوکیشن ڈاکٹر اصغر ساموں نے کشمیر عظمیٰ سے گفتگو کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے قانونی رائے کیلئے معاملہ کو محکمہ قانون کو روانہ کیا ہے۔ ساموںنے کہا ’’محکمہ قانون سے قانونی رائے لینے کے بعد اس فیصلے کا اعلان کیا جائے گا‘‘۔انہوں نے کہا’’مارچ سے ستمبر 2020 تک کووڈ 19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسکولوں  کے بند رہنے کے پیش نظر ، حکومت نجی اسکولوں کو طلبہ کی ٹیوشن فیس میں 30 فیصد کمی کرنے کی ہدایت کر سکتی ہے، والدین اور انتظامیہ کے خیالات طلب کیے گئے ہیں ‘‘۔ غور طلب بات یہ ہے کہ 7ستمبر کو ، راجستھان ہائی کورٹ نے اسکول حکام کو ہدایت دی کی کہ وہ طلبا کو ٹیوشن فیس کا صرف 70 فیصد جمع کرانے کی اجازت دیں۔ یہ ہدایات عدالت کے ذریعہ عبوری اقدام کے ذریعہ دی گئی رعایت ہے، جب تک نہ صورتحال معمول پر  آئے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ فیس کا 70 فیصد متعلقہ اسکولوں کو تین اقساط میں ادا کی جائے۔جولائی میں ، مدراس ہائیکورٹ نے تمل ناڈو میں غیر امداد یافتہ نجی تعلیمی اداروں کو بھی ہدایت کی تھی کہ وہ دو اقساط میں طلباء سے 75 فیصد ٹیوشن فیس وصول کرے۔آئے دن اخبارات میں یہ خبریں نظرئوں سے گزرتی ہیں کہ والدین کا لاک ڈائون کے نتیجے میں مالیاتی بحران کے پیش فیس معاف کیا جائے۔تاہم ، پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں وکشمیر نے اسکولوں میں 30 فیصد فیسوں میں کمی کے حکومتی اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری کویڈ 19 لاک ڈاؤن میں انہیں بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں وکشمیر کے صدر جی این وار نے کہا’’دوسرے شعبوں کی طرح ، کویڈ 19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے نجی تعلیمی شعبے کی مالی حالت بری طرح متاثر ہوئی، ہم پہلے ہی خسارے میں ہیں اور حکومت اب اس طریقہ کارسے ہمیں مزید پشت از دیوار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے طویل بندش کی وجہ سے پچھلے ایک سال سے کسی بھی اسکول کو 20 فیصد منافع حاصل نہیں ہوا ہوگا۔انہوں نے کہا’’دوسرے حصوں میں اسکول مارچ سے بند ہیں لیکن جموں و کشمیر میں تعلیمی ادارے پچھلے سال اگست سے بند رہنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں‘‘۔وار نے کہا کہ بیشتر اسکول ٹیوشن فیس کے طور پر ہر ماہ 500 روپے سے بھی کم وصول کرتے ہیں اور حکومت کی جانب سے فیس کے ڈھانچے میں مزید کمی ایسے اسکولوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔
 

کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل 

نجی اسکولوں کو اعتماد میں لیاجائے : کوارڈی نیشن کمیٹی

نیوز ڈیسک
سرینگر// نجی اسکولوں کی کارڈنیشن کمیٹی نے کہا ہے کہ دیگر ریاستیں عدالت عظمیٰ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے والدین سے مکمل ٹیوشن فیس وصول کررہے ہیں۔ ایک بیان میں نجی اسکولوں کی کارڈنیشن کمیٹی نے کہا راجستھان اور مدراس دونوں حکومتوں نے اسکولوں سے کہاتھا کہ وہ والدین سے کوئی فیس نہ لیں تاہم ان دونوں ریاستوں کے ہائی کورٹوں نے کہا کہ اسکول ٹیوشن فیس کاسترفیصد وصول کرسکتے ہیں جب تک کہ حتمی فیصلہ آجائے۔ کارڈ نیشن کمیٹی کے صدر شوکت چودھری نے کہا کہ انہیں مدراس اور راجستھان حکومتوں کے نقش وقدم پر نہیں چلنا چاہیے بلکہ دیگر26ریاستوں کو بھی دیکھنا چاہیے جہاں اسکول عدالت عظمیٰ اور متعلقہ ہائی کورٹوں کی ہدایات پرسوفیصد ٹیوشن فیس وصول کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ مدراس اور راجستھان ہائی کورٹ کے فیصلوں کو جموں کشمیرخاص طور سے کشمیرکیلئے معیار نہیں بنانا چاہیے۔ کارڈنیشن کمیٹی نے پرنسپل سیکریٹری اسکولی تعلیم پرزوردیاکہ وہ کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل نجی اسکولوں کو اعتماد میں لیں۔چودھری نے کہا کہ نجی اسکول آن لائن تعلیم بچوں کو فراہم کرنے کیلئے کوششیں کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگست2019سے طلاب سے کم فیس وصولنے کے باوجود نجی اسکولوں نے مالی اداروں سے قرضہ لیکر اساتذہ کی تنخواہیں واگزار کیں۔