ٹھوس فضلہ سائنسی طور ٹھکانے لگانے کا منصوبہ فی الحال ٹھپ

کہیں مفصل پروجیکٹ رپورٹ تیار نہیں، تو کہیں ٹینڈرنگ کاعمل پورا نہ ہوا

تاریخ    13 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


اشفاق سعید
 
سرینگر // گھروں سے نکلنے والے ہزاروں ٹن ٹھوس فضلہ کو ٹھکانے لگانے کیلئے سائنسی طریقہ کار کی عدم موجودگی سے صحت عامہ اور ماحول کو شدید خطرات درپیش ہیں، لیکن جموں وکشمیر میں اس جانب کوئی بھی دھیان نہیں دیا جا رہا ہے۔ جموں وکشمیر میں 1886میں 2 میونسپلٹیاں قائم کی گئیں تھیں اور فی الوقت 77میونسپل کمیٹیاں،6میونسپل کونسل اور دو میونسپل کارپوریشنز قائم ہیں۔لیکن ان میں کہیں بھی فضلہ کو سائنسی طور پر ٹھکانے لگانے کیلئے انتظامات نہیں ہیں جبکہ سرکار نے 3 سال قبل فضلہ کو سائنسی طور پر ٹھکانے لگانے کیلئے 19کلسٹروں کی منظوری دی تھی ہے تاہم یہ کلسٹر بھی تعمیر کے منتظر ہیں جبکہ ان کیلئے مشینری بھی خریدی جا چکی ہے اور ٹینڈرنگ کا عمل مکمل نہیں ہو پا رہا ہے ۔سرینگر شہر میں ہر روز  450 میٹرک ٹن کچرا جمع ہوتا ہے اور اس کو جمع کرنے کیلئے یہاں 575 کچرا پوائنٹس قائم کئے گئے ہیںاور اْن کو ڈمپ کرنے کے110 جگہیں موجود ہیں ،تاہم اْس کے باوجود بھی اس کچڑے کو کھلے عام سڑکوں اور چوراہوں پر پھینک دیا جاتا ہے ایسے میں نہ صرف غفونت پھیل رہی ہے بلکہ ماحولیات پر بھی اس کا اثر پڑ رہا ہے ۔ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ پروگرام کے تحت 3 سال قبل جموں وکشمیر میں ٹھوس فضلہ ٹھکانے لگانے کیلئے 19 کلسٹربنانے کیلئے اراضی کی نشاندہی کی گئی، ان 19کلسٹروں کے دائرے میں 80شہروں اور قصبوں کولانے کا دعویٰ کیا گیا تھالیکن یہ دعویٰ ابھی تک سراب ہی ثابت ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے شہر کے ہسپتالوں ، دفاتر ، گھروں اور دیگر جگہوں سے روزانہ لاکھوں ٹن ٹھوس فضلہ نکلتا ہے اوراس کو ٹھکانے لگانے کیلئے اگرچہ سرکار بلند بانگ دعویٰ کرتی ہے لیکن زمینی سطح پر کچھ اور ہی دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین نے شہر کے اچھن علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کچرے اور ٹھوس فضلہ کو کھلے میں ڈال کر اْس کو پْر کیا گیا ہے۔ جبکہ شہر سرینگر کے گلی کوچوں کے علاوہ جہلم اور ڈل میں بھی اس کو پھینکا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نالوں اور دریائوں میں اس کو پھینکے سے نہ صرف پانی آلودہ ہورہا ہے بلکہ اس سے ماحولیات پر بھی کافی بْرا اثر پڑرہا ہے۔ماہرین نے کہا کہ ٹھوس فضلہ کو کھلے میں پھینکے سے بدبو بھی پھیلتی ہے جس سے کئی طرح کی بیماریاں پھوٹ پڑنے کا اندشیہ رہتا ہے ۔ڈائریکٹر اربن لوکل باڈیزکشمیر ریاض احمد وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وادی میں بارہمولہ اور سمبل ، اننت ناگ، لیتہپورہ اور کولگام میں 5کلسٹر قائم تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی پی آر بنائے جانے کے بعد اراضی کا انتخاب بھی کیا گیا ہے اور مفصل پروجیکٹ رپورٹ کو منظوری ملنے کے بعد اس کی ٹینڈرنگ کی گئی لیکن اس میں جو قواعد ضوابط رکھے گئے تھے اس کا کچھ اچھا رسپانس نہیں ملا اور نہ ہی کام کرنے کیلئے کوئی سامنے آیاجس کے بعد حکومت نے اس میں تھوڑی تبدیلی لائی ۔انہوں نے کہا کہ قوائد ضوابط میں 3بار نرمی بھی کی گئی ،لیکن کوئی بہتر نتائج سامنے نہیں آئے ۔انہوں نے کہا کہ بولی لگانے سے قبل جو میٹنگیں ہم نے کی تھیں،اس میں کئی تجاویز بھی آئی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ محکمہ بیٹھا ہوا نہیں ہے بلکہ اپنا کام کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کلسٹروں کی کلیکشن ٹرانسپوٹیشن کیلئے جو سازسامان ضرورت تھا وہ ہم نے حاصل کیا ہے اور باقی مشینری بھی ان کے پاس پہنچ چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب جو مشینری ہمیں نصب کرنی ہے، اس کا کام باقی ہے جونہی اس کی ٹینڈرنگ کا عمل مکمل ہو جائے گا تو مشینری نصب کی جائے گی ۔    
 

تازہ ترین