تازہ ترین

لومڑی اورمُرغا

اَدبِ اطفال

تاریخ    13 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


مترجم :نیلوفر ناز نحوی| اصل فارسی مرزبان نامہ از مہدی آذر یزدی
 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مرغا تھا جو قصے کہانیاں سننے اور سنانے کا بہت شوقین تھا۔ جس وقت وہ مرغیوں ،چڑیوں اور کبوتروں کو دیکھتا تھا ان سے گذارش کرتا تھا کہ وہ سنی ہوئی یا دیکھی ہوئی سر گذشتیں بیان کریں اور وہ بھی، اگر ان کو کام بھی ہوتا تھا،مرغے کی دعوت کو قبول کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے ارد گرد بیٹھتے تھے اور کہانیاں سناتے تھے، جو کچھ انہوں نے دیکھا ہوتا یا سنا ہوتا۔وہ حیلے اور بہانے جو گیدڑ اور لومڑی اور دوسرے شکاری مرغوں اور جانوروں کو پکڑنے کے لئے بناتے ہیں۔اور وہ مصیبتیں جو انکے یا انکے دوستوں پر گذری ہوتیں اس کے متعلق بات کرتے تھے اور اسطرح مرغے کو بہت سی خبریں فراہم ہو جاتی تھیں۔
ایک دن مرغا تنہا رہ گیا تھااور وہ جس باغیچہ میں زندگی گذارتا تھا اس کا دروازہ کھلا تھا۔مرغا کوچے میں آگیا اور چلتے چلتے کوچے سے صحرا  میںپہونچ گیا۔بہار کا موسم تھا اور صحرا سر سبز اور شاداب تھا۔درختوں پر شگوفے نکل آئے تھے اور پھولوں کی خوشبو ہوا میں پھیلی ہوئی تھی۔مرغے کا دل بھی مچل گیا۔اس نے زور سے بانگ دی(آواز لگائی)۔ایک لومڑی اسکے نزدیک ہی تھی۔اس نے مرغے کی آواز سنی  تو اسکا گوشت کھانے کی ہوس کی۔وہ دوڑنے لگی اور جلدی سے مرغے کے نزدیک پہونچنے لگی۔مرغے نے جونہی لومڑی کو دیکھا مارے ڈر کے دیوار پر چھلانگ لگائی۔اور پھر وہاں سے اُچک کر درخت کی ایک ٹہنی پر چڑھا اور اسی جگہ بیٹھ گیا۔
لومڑی نے جب دیکھا مرغا اسکی دسترس سے باہر ہواتو اپنی زبان چلائی اور مرغے سے کہا۔’’ تم درخت کی اونچائی پر کیوں چلے گئے۔کیا تم مجھ سے بھی ڈرتے ہو۔میری تو تمہارے ساتھ دشمنی نہیں ہے ۔میں نے جس وقت تیری آواز سنی مجھے اچھا لگا اور میںنے دیکھا تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے۔میں تمہارے دیدار کے لئے چلی آئی اور سوچا تمہاری رفاقت سے بہرہ مند ہو جاؤں۔موسم بھی بہت اچھا ہے ۔پھول بھی کھلے ہیں۔ صحرا بھی سر سبز ہے۔تمہاری آواز دل سے غم کو نکالتی ہے۔مجھے ہنر مند لوگ بہت پسند ہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہم مل کر اس صحرا کی گردش کرتے۔
مرغے نے لومڑی کے بہانوں کی بہت سی داستانیں سنی تھیں۔یہ سب باتیں اسکو درخت سے نیچے اتارنے کے لئے ہیں۔اس نے جواب دیا۔ــہاں موسم اچھا ہی ہے، صحرا بھی سر سبز ہے،پھول بھی کھلے ہیں،میری آواز بھی بُری نہیں ہے لیکن میں تمہیں جانتا نہیں ہوں۔میرا باپ ہمیشہ مجھے نصیحت کرتا تھا کہ نا شناس لوگوں سے رفاقت نہ کروں۔اور اس شخص کے ساتھ جو مجھ سے طاقتور ہو خلوت اور تنہائی میں اسکے ساتھ نہ جاؤں۔میں ہمیشہ باپ کی نصیحت کو یاد رکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ بہت سارے چوزے نا شناس لوگوں کی دوستی سے پشیمان ہوگئے ہیں۔‘‘
لومڑی نے کہا۔’’ہاں ہاں میں بھی تمہارے باپ کی دوست ہوں ۔کیا خوب آدمی ہے۔جب سے تو بچہ تھا میں تب سے تمہارے گھر آتی تھی۔اتفاقًاابھی میں کل پرسوں ہی تمہارے باپ کے ساتھ تھی۔اس نے تمہاری تعریف کی اور کہا میرا بیٹا بہت چالاک اور ہوشمند ہے۔پھر تمہارے باپ نے مجھ سے خواہش ظاہر کی کہ صحرا میں میں تمہاری نگہبان رہوں تاکہ کوئی تم پر کوئی بُری نظر نہ ڈالے۔‘‘
مرغے نے جواب دیا’’میرے باپ نے کسی بھی وقت تم سے بات نہ کی۔اور مجھے ہر گز یاد نہیں کہ کسی لومڑی کا ہمارے گھر آنا جانا رہا ہے۔اسکے علاوہ میرا باپ پچھلے سال مرحوم ہوگیا۔میں تعجب کرتا ہوں کہ تم کہتی ہو کل اسکے ساتھ بات کی تھی۔‘‘
لومڑی نے کہا۔’’معاف کرنا۔میرا مقصد تمہاری ماں سے تھا۔کل تمہاری ماں تمہاری سفارش کر رہی تھی کہ تمہیں تنہا نہ چھوڑدوں۔اصل میں تمہارے سارے رشتہ دار وں کی میں دوست ہوں اور سب میری تعریف کرتے ہیں۔اب اگر تمہارا من گر دش کرنے کا نہیں ہے تو الگ بات ہے۔لیکن اگرمیرے ساتھ چلنے میں احتیاط کرتے ہو تو مجھے بہت افسوس ہے کہ ابھی تک اپنے دوست اور دشمن کو نہیں پہچانتے ہو۔اور میں نہیں جانتی کہ کس نے میرے خلاف  بد گوئی کی ہے۔‘‘
مرغے نے کہا۔’’میں نے تمہارے بارے میں کسی سے کوئی بات نہیں سنی ہے۔لیکن اتنا جانتا ہوں کہ مرغے اور لومڑی کو آپس میں دوستی نہیں کرنی چاہیے۔۔چونکہ لومڑی کو مرغا کھانا اچھا لگتا ہے اور عقلمند مرغے کو چاہئے کہ چاہے اس کا دل جلے مگر اپنے دشمن سے دوستی نہ کرلے۔‘‘
لومڑی نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔’’تم نے کہا دشمن؟کون دشمن ہے۔؟ کیا تمہیں خبر نہیں کہ دشمنی حیوانات کے بیچ میں ختم ہو گئی ہے۔حیوانوں کے بادشاہ نے حکم دیاہے کہ تمام حیوانات ایک دوسرے  کے دوست ہونگے اور کوئی بھی کسی کو آزار نہ دے۔اسی وجہ سے اس بیابان میں بھیڑیا اور بکری بھی آپس میں دوست ہیں۔گھر کی مرغی بھی گیدڑ کی پشت پر سوار ہوتی ہے اور صحرا  میں گردش کرتی ہے۔شاہین بھی اب کبوتر کو نہیں پکڑتا ہے اور کتے کو اب لومڑی سے کوئی کام نہیں  ہے۔بہت عجیب بات ہے کہ تو ابھی تک حیوانوں کے اختلاف کی بات کرتا ہے۔یہ باتیں تو اب قدیم ہو چکی ہیں سارے حیوان اب دودھ اور شکر کی طرح باہم گھلتے ملتے ہیں۔
جس وقت لومڑی یہ باتیں کر رہی تھی مرغے نے اپنی گردن لمبی کی تھی اور آبادی کے راستے کی طرف دیکھ رہا تھا۔لومڑی کو جواب نہیں دیا۔لومڑی نے پوچھا۔’’کہاں دیکھتے ہو؟کیا تمہارے حواس یہاں نہیں ہیں‘‘۔
مرغے نے کہا’’ایک حیوان کو دیکھ رہا ہوں جو آبادی سے آرہا ہے۔میں نہیں جانتا یہ حیوان کون ہے لیکن لومڑی سے تھوڑا بڑا ہے اور اسکے کان اور دم بڑے ہیں اور ٹانگیں باریک اور لمبی ہیں ۔وہ برق و باد(بجلی اور ہوا‘)کی مانند دوڑتا ہوا آرہا ہے۔
لومڑی نے یہ باتیں سنی تو ڈر گئی اور اس نے مرغے کو دھوکہ دینا چھوڑ دیا۔اس فکر میں تھی کہ کہاں بھاگ جائےاور کیسے کوئی پناہ گاہ ڈھونڈے اور چھپ جائے۔پھر اس نے صحرا کی طرف جانا شروع کیا۔
مرغے نے لومڑی کو بہت زیادہ وحشت زدہ دیکھا اورکہا۔’’اب کہاں جا رہی ہو۔۔صبر کرو میں دیکھوں گا کہ یہ جو حیوان آرہا ہے کونسا ہے۔شاید وہ بھی لومڑی ہوگی۔
لومڑی نے کہا۔’’ نہیں جو نشانیاں تم بتا رہے ہو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک شکاری کتا ہے۔اور ہمارا آپسمیں میل اچھا نہیں ہے۔ڈرتی ہو ں کہ مجھے اذیت دے دے۔
مرغے نے کہا۔’’پھر کیسے کہہ رہی تھی کہ سلطان نے حکم دیا ہے کہ سب  آپس میں دوست ہیں اور کسی کو کسی کے ساتھ کوئی کام نہیں ہے۔‘‘ لومڑی نے کہا۔ہاں لیکن ڈرتی ہوں اس کتے نے بھی تیری طرح سلطان کا فرمان ابھی تک نہ سنا ہوگا اور میرا یہاں رہنا مناسب نہیں ہے۔،‘‘
لومڑی نے اتنا کہا اور مرغے کو آرام سے چھوڑ دیا اور فرار ہو گئی۔
٭٭٭
گوگجہ باغ ، سرینگر،موبائل نمبر؛09906570372
 

تازہ ترین