تازہ ترین

رسوائی

افسانچہ

تاریخ    13 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


غازی عرفان خان
"ارے،ارے،ارے، کہاں جا رہے ہو، تمہیں پتا نہیں باہر پولیس ہے اور گھر سے باہر نکلنا منع ہے۔ اگر پولیس نے دیکھا تو مار مار کر ہڈیاں توڑ ڈالیں گے۔ایک تو غریبی نے ہمارا چین و سکون چھین لیا ہے اور اوپر سے  اب اس نئی آفت نے پریشان کررکھا ہے۔"  چھوٹے بیٹے عامر کے قدم گھر سے باہر کی جانب بڑھتےہی شرافت بہن نےہانک لگائی۔ 
یہ سنتے ہی عامر اُداس ہو کر کمرے میں واپس چلا گیا اورزانوں پر سررکھ کر رونے لگا۔ 
پھرکچھ دیر تک اپنی قسمت کو کوستا ہوا بھوک سے نڈھال ہوکر ماں سے کہا:
"مجھے کھانا دو...ماں۔۔۔بہت بھوک لگی ہے۔"
شرافت بہن یہ سن کرآہ بھرتے ہوئے بولی:
"کہاں سے لاؤں گی میں کھانا۔ تیرے ابو تو پچھلے دس دنوں سے گھر پر ہی ہیں۔جو کچھ بھی تھا وہ سب گزشتہ دس دنوں میں ختم ہوا۔ اللہ ہمارےحال پر رحم کرے ۔"
لاک ڈاؤن کا دم گُھٹانے والا سلسلہ جاری تھا۔کئی دوسرے لوگوں کی طرح  عامر کے ابو بھی کام پر نہ نہیں جاسکتے تھے اور گھر میں جتنا بھی راشن موجود تھا وہ ختم ہوچکا تھا۔اب انہیں بھوکا رہنے کی جیسے عادت سی ہوگئی تھی لیکن کب تک بھوک آخر بھوک ہے۔ 
اگلی صبح تین چار بندے ان کے گھرپر آئے۔ ان کے ہاتھوں میں کھانے پینے کی چیزیں دیکھ کر سبھی گھر والے خوش ہوئے اورعامر کچھ زیادہ ہی خوش ہوا کیونکہ وہ رات کو بھوکا ہی سو گیا تھا۔ ان لوگوں نے عامر کے ابو کو چاول، آٹا، نمک، تیل، چائے، کھانڈ وغیرہ فراہم کیا اور تصویر اُتار کرچلے گئے۔
      شرافت بہن خوش ہوکر یہ سب چیزیں کچن میں لے کر چلی گئی۔کھانا پکا کرسب سے پہلے اپنے شوہر اور عامر کو کھلایا۔ااور اس طرح کئی دنوں کے بعد ان لوگوں نےپیٹ بھر کر کھانا کھایا ۔ اللہ کا شکر ادا کیا اور خوش ہوکران لوگوں کو دعائیں بھی دیں۔
 اگلی صبح ان کی یہ خوشی اس وقت غم میں تبدیل ہوئی جب چاول، آٹا، نمک، تیل، چائے، کھانڈ وغیرہ سامان کے ساتھ خود کی تصویر اور ان لوگوں کی تصویر اخبار میں چھپی دیکھی۔یہ دیکھ کران کا دم گھٹنے لگا اور ہاتھ پھیلا کر دُعا کرنے لگے:
اے الله۔۔۔تمہاری دی ہوئی مفلسی اور بھوک منظور تھی۔۔۔لیکن یہ ذلت اور رسوائی۔۔۔۔۔؟
���
منیگام گاندربل کشمیر
موبائل نمبر؛6006240089

 

تازہ ترین