تازہ ترین

’’بھرم‘‘

کہانی

تاریخ    13 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ایف آزاد ؔدلنوی
 تین  بج رہے تھے رحمان صاحب ؔ پارک میں ایک درخت کے سائے میں بیٹھے کچھ سوچ رہے تھے کہ صحن کے صدر دروازے کا پٹ کھل گیا اور ان کاشاگرد عثمان ؔ تیز تیزڈگ بھرتے ہوئے اندر آیا۔قریب پہنچتے ہی سلام بجا لا کر نہایت عاجزانہ لہجے میں بولا۔
’’سر میں نے سویرے فون کیا تھا۔کیا میں آ پ کی کار لے جا سکتا ہوں۔‘‘
رحمان صاحب کچھ دیر سوچنے کے بعد بولے ۔
’’عثمانؔ میں نے آج تک کسی دوسرے کو اپنی کار ڈرائیونگ کے لئے نہیں دی ہے۔ یہ بہت قیمتی کار ہے ۔‘‘
’’سر مجھے ڈرائیونگ میں کئی برسوں کا تجربہ ہے۔ یقین رکھئے میںبہت احتیاط کے ساتھ ڈرائیونگ کروں گا۔‘‘
رحمان صاحب سوچ ہی رہے تھے کہ بیگم صاحبہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔
’’اتنی عاجزی کر رہا ہے دیجئے نا۔چند ہی گھنٹوں کی تو بات ہے۔‘‘
رحمان صاحب مسکراتے ہوئے بولے۔’’اب تو میں نا کر ہی نہیں سکتا ہوں۔ اچھا عثمان یہ بتائو دولہے کوکتنی دور لے جاناہے۔‘‘
’’سر پانچ دس کلو میٹر کی مسافت ہے میں سات بجے تک کار واپس لے آئوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے ۔۔۔۔مگر کار احتیاط کے ساتھ چلانا۔‘‘پھر بیگم سے مخاطب ہوتے ہوئے بولے۔
’’میں نے کار کی چابی الماری میں رکھی ہے اسے دیدو۔‘‘
یہ سنتے ہی عثمان کے چہرے پر مسکراہٹ سی آ گئی ۔وہ اندر ہی اندر خوشی سے پھو لے نہ سما رہا تھا۔ اُ س نے چابی لی اور کار اسٹاٹ کر کے آنکھ جھپکتے ہی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔اُس کو جاتے دیکھ کر بیگم صاحبہ کے دل میں ایک انجانی سی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔چہرے پر بھی قدرے طمانیت تھی۔ واپس آتے ہی بولی۔
’’بہت خوش لگ رہا تھا بے چارا۔کہہ رہا تھا کہ سالے کی شادی ہے اتنی قیمتی کار میں دولہے کو لے جا کر ہماری بھی کچھ عزت رہے گی۔‘‘
’’خیر میں کچھ دیر کے لئے آرام کرتا ہوں۔‘‘
رحمان صاحب اُوپر بالکنی میں چلے گئے۔ بیگم صاحبہ پارک میں چہل قدمی کرنے لگیں کہ پڑوس کی ایک عورت مٹھائیاں لے کر آئی۔ بیگم صاحبہ بولی۔
’’حمیدہ بی بیٹے کی شادی مبارک ہو۔دلہن گھر آگئی ۔‘‘
’’بیگم صاحبہ دلہن تو گھر آگئی مگر جس دھوم دھام سے شادی کرنے کا ارادہ تھا وہ پورا نہیں ہوا۔چند رشتہ دار ہی بُلا لئے تھے لاک ڈاوئں کی وجہ سے مزہ ہی کرکرا ہوا ۔‘‘
’’حمیدہ بی دولہے کے ساتھ کتنے باراتی گئے تھے۔‘‘
’’چار پانچ باراتی دو کاروں میں گئے تھے۔‘‘
’’ کار سے یاد آیا کچھ دیر پہلے ان کا ایک شاگرد آیا تھا کار لے گیا اور کہا کہ اتنی قیمتی کار میں دولہے کو لے جا کر عزت بڑھے گی وہ کا ر کی بہت تعریف کر رہا تھا ۔آپ نے ہی تکلف کیا۔‘‘
’’حمیدہ بی سوچ کر بولی۔’’اس طرح سے کار کسی غیر کے ہاتھ میں نہیں دینی چاہیے۔ حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں اور آج کے لونڈوں پر کوئی بھروسہ بھی تو نہیں ہے۔خیر میں چلتی ہوں ۔خدا حافظ ۔‘‘
بیگم صاحبہ اُس کو جاتے ہوئے دور تک دیکھتی رہی۔کچھ دیر بعد رحمان صاحب پارک میں آکر بیٹھ گئے بیگم صاحبہ نے چائے لائی اور دونوں پینے لگے کہ ان کی وکیل بیٹی آگئی۔وہ ممی پاپا کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ادھر اُدھر پارک میں نظریں دوڑائیںگیراج خالی دیکھ کر بولی۔
’’پاپا جی کار گیراج میں نہیں ہے۔‘‘
بیگم صاحبہ پھٹ سے بولی۔’’بیٹی کار ان کے ایک شاگرد لے گئے ہیں۔‘‘
’’او۔۔۔۔نو۔۔۔نو۔۔ پا پا آپ ایسا نہیں کر سکتے ۔‘‘۔
وہ اضطراری حالت میں پارک میں گھوم پھرنے لگی کہ رحمان صاحب بولے 
’’بیٹی آپ پریشان کیوں ہورہی ہو۔‘‘
’’ پاپا میں ایک ایسا ہی کیس لڑ کر آئی ہوں۔ایک لڑکے نے بھولے پن کا ڈرامہ کرتے ہوئے سیٹ سے ایک گھنٹے کے لئے کار لی تھی پھر اس میں چرس گانجا بھر کرڈیلوری کے لئے جارہا تھاکہ پولیس نے دھر لیا۔پاپا ہم کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتے ہیں ۔‘‘
’’بیٹی وہ ایسا لڑکا نہیں ہے وہ کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں کرے گا ۔مجھے پورا بھروسہ ہے۔‘‘
’’پاپا یہ آپ کا زمانہ نہیں ہے۔ اگرجنریشن گیپ کا خیال کیا ہوتا (Generation Gap)تو آپ کار کبھی نہیں دیتے۔‘‘۔
یہ سن کر رحمان صاحب کی چھاتی پرجیسے سانپ لوٹنے لگے۔چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔وہ پارک میں بے چینی سے گھوم پھرنے لگے۔وقت دیکھا توشام کے ساڑھے سات بج رہے تھے۔
’’اب تک تو اُس کو آنا چاہیے تھا۔ بیٹی ذرا اُس کا فون نمبر ملائو۔‘‘
’’پاپا جی فون سوئچ آف آرہا ہے۔‘‘
رحمان صاحب کے دل کی دھڑ کنیں تیز ہونے لگیں۔من ہی من میں سوچنے لگے۔
’’بیٹی بھی صحیح بول رہی ہے آج کے لڑکوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔‘‘
باپ کی نا گفتہ بہہ حالت دیکھ کر بیٹی بولی ۔’’پاپا جی میں پولیس چوکی فون کروں۔‘‘
’’ نہیں۔۔۔۔۔۔نہیں بیٹی ۔وہ میرا شاگرد ہے وہ کار لے آئے گا۔‘‘
اندھیرا آہستہ آہستہ اپنے پائوں پسار رہا تھا شام کے نو بج چکے تھے عثمان کا کہیں اتہ پتہ نہیں تھا۔ رحمان صاحب تل تل مررہے تھے دماغ میں طرح طرح کے خدشات انگڑائیاں لے رہے تھے۔ سب پریشانیوں میںڈوبے ہوئے تھے۔ ایک ایک پل قیامت لگ رہا تھا بیٹی بولی ۔
’’پاپا جی اب حد ہوچکی ہے دس بج چکے ہیںمیں پولیس کو مطلع کرتی ہوں۔‘‘
بیٹی فون گھومانے لگی کہ رحمان صاحب بولے۔
’’رُک جائو بیٹی وہ کار لے آئے گا۔بھلے ہی وہ نئی جنریشن کا ہے مگر میں نے اُس کو اچھی سیکھ دی ہے وہ میرا بھرم نہیں گنوائے گا۔‘‘اتنے میں کار کی ہارن بج گئی۔
٭٭٭
دلنہ     بارہمولہ،موبائل نمبر:-9906484847
 

تازہ ترین