بینک ملازم انجمنوں کا مرکزی وزیرخزانہ کو مکتوب | مالی اداروں کی نجکاری پر سرکار کے موقف کی وضاحت کی جائے

تاریخ    9 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
ممبئی//بینک آف مہاراشٹر کے ملازمین کی دوانجمنوں نے ایک مکتوب میں مرکزی وزیرخزانہ نرملا سیتارمن سے پونے میں قائم بینک کی نج کاری سے متعلق حکومت  کے موقف کی وضاحت طلب کی ہے۔حال ہی میں ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گشت کررہی تھیں کہ حکومت بینک آف مہاراشٹر اور یوکو بینک سمیت چارسرکاری بینکوں کی نج کاری کوتیزکرناچاہتی ہے ۔ایک مکتوب میں آل انڈیا بینک آف مہاراشٹر ایمپلائزفیڈریشن اوربینک آف مہاراشٹر آفیسرس ایسوسی ایشن نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات نے  بینک ملازمین اورگاہکوں کے ذہنوں میں غیریقینی پیداکی ہے ۔انجمن نے کہا کہ یہ بھی اطلاعات آرہی ہیں کہ گاہک بینک کی کئی شاخوں سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں ۔ملازمین کی انجمن نے مکتوب میں لکھا ہے کہ یہ خبریں  مالی شعبے میںحالیہ بدقسمت مسائل کی وجہ سے باعث فکر مندی ہیں ۔ انجمن نے مکتوب میں یس بینک پرمورٹویم عائد کرنے،آئی سی آئی سی آئی بینک کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر چنداکوچرکی بے دخلی اورمتعدد شہری کواپریٹو بینکوں کی ناکامی کابھی تذکرہ کیا۔بینک آف مہاراشٹر ریاست میں سٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کاکنوینر ہے اور 28ریاستوں اور6مرکزی زیرانتظام علاقوں میں اس کی1832شاخیں ہیں جن میں 1044شاخیں دیہی اور نیم شہری علاقوں میں قائم ہیں  ۔ ملازم انجمن کے مطابق صر ف ریاست مہاراشٹر میں بینک کی 1125شاخیں ہیں جن میں462دیہی علاقوں میں قائم ہیں ۔بینک ریاست کے پسماندہ علاقوں جیسے مراٹھوارہ،ودرھبا اور کونکن میں بھی قائم ہے ۔بینک مہاراشٹر گرامین بینک جس کے412شاخ ہیں کی بھی سرپرستی کررہا ہے۔انجمن کے مطابق بینک کا ریاست کی مالی واقتصادی شعبے میں اہم کردار ہے ۔انجمن نے کہا کہ ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ اس معاملے پرحکومت کے موقف کی وضاحت کی جائے اور بینک کے گاہکوں کو یقین دلائیں تاکہ کھاتہ داروں کے اذہان میں غیر یقینیت ختم ہو اور بینک کی سکڑتی کاروبار پر روک لگ جائے ۔ 
 

تازہ ترین