نقلی ادویات سے 11بچوں کی موت کا معاملہ

قومی انسانی حقوق کمیشن کا حکومت کو نوٹس

تاریخ    8 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
جموں//قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے پیر کے روز جموں و کشمیر انتظامیہ کو دسمبر2019 کے دوران اور امسال جنوری میں ادھم پور ضلع میںغیر موزون دوائیاں کھانے کی وجہ سے فوت ہونے والے 11 بچوں کے اہل خانہ کو معاوضے کے لئے  وجہ بتائو نوٹس جاری کیا ہے۔چیف سکریٹری سے چار ہفتوں کے اندر وضاحت دینے کیلئے کہا ہے۔نوٹس میںکہا گیا ہے کہ کمیشن ہر بچے کے لواحقین کو تین لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی کی سفارش کیوں نہیں کرے گا۔جموں کے سماجی کارکن سوکیش سی کھجوریہ کی جانب سے کی جانے والی شکایت کا جائزہ لیتے ہوئے NHRC نے’مجرم عہدیداروں‘ کے خلاف بھی کارروائی کی ایک رپورٹ طلب کی ، جس کی وجہ سے اس طرح کی غفلت ہوئی ہے۔کھجوریہ نے اپنی درخواست میں ضلع کی تحصیل رام نگر کے مختلف علاقوں میں غفلت برتنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور متاثرہ کنبوں کیلئے معاوضہ طلب کیا ہے جو اپنے بچوں کو کھو چکے ہیں جن کی عمریں ایک سے چار سال کے درمیان تھیں۔یکم جولائی کو جموں و کشمیر حکومت کی پیش کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے این ایچ آر سی نے کہا کہ کمیشن نے اس معاملے کے حقائق اور حالات کے ساتھ ساتھ اس رپورٹ پر غور کیا اور پتہ چلا ہے کہ حکام کی طرف سے غفلت برتی گئی ہے اورفروخت کی جانے والی دوائیوں کی مجاز اتھارٹی باقاعدہ نگرانی کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔محکمہ صحت اور طبی تعلیم نے این ایچ آر سی کو اپنے جواب میں بتایا کہ ڈرگ اینڈ فوڈ کنٹرول ا?رگنائزیشن جموں و کشمیر کے عملہ نے رام نگر میں بچوں کی ہلاکتوں کے معاملے میں تفتیش کی۔
 
 

تازہ ترین