جُرمِ ضعیفی

کہانی

تاریخ    6 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


پرویز مانوس
تمام عالم کے ساتھ ساتھ گُنجان آبادی والے اس شہر کو بھی سُورج نے اپنی شُعاعوں سے مُنور تو کر دیا تھا لیکن یہاں کی تیز رفتار زندگی میں بسر اوقات کرنے والے ایک دُوسرے کو روند کر زندگی کی دوڑمیں آگے نکلنے کی تگ دو میں محو تھے ،ویسے بھی  آنکھ والے اندھوں کے لئے کیا اُجالا اور کیا اندھیرا ،ان کے ذہن و دل حرس و طمع کی چربی تلے دب چُکے تھے اور آنکھوں پر دولت کی دبیز پٹی بندھی ہوئی تھی ،جہاں کسی کو کسی کی جانب دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ۔۔۔۔،
نہ کسی سے ہمدردی ۔۔۔۔،
نہ کسی کی فکر۔۔۔۔،
مہر و محبت سے نا آشنا ۔۔۔۔،
اخلاق سے بالکل عاری ۔۔۔،
گویا کنکریٹ بُلند و بالا عمارتوں میں بسنے والے ان لوگوں کے دل بھی پتھر کے ہو چُکے تھے ،
باکل بے حس ۔۔۔۔،نہ درد۔۔۔۔،نہ جزبہ۔۔۔۔،نہ احساس ۔۔۔۔!
مادیت کے مکڑے نے اُنہیں بُری طرح جکڑ رکھا تھا، 
بس صُبح بیگ اُٹھا کر دفاتر اور فکیٹریوں میں کام کی غرض سے نکل جاتے اور شہر میں بے ہنگم ٹریفک جام کے سبب  اندھیرے میں اپنے گھروں کو لوٹتے  اور اپنے موبائلوں پر اسٹیسس اور پوسٹس چیک کر تے کرتے  بستر پر بے سُدھ ہو جاتے ۔۔۔۔،، 
شہر میں کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔؟
ملک میں کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔؟
سرحدوں پر کیا تناؤ ہے ؟
مُلک میں عبادت گاہوں کے جھگڑے کہاں پہنچے ؟
دُنیا میں کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔؟
کس ملک نے کس ملک پر حملہ کردیا؟
اس سے کسی کو کوئی غرض نہیں ،غرض ہے تو صرف  اس سے کہ اتنے برسوں میں یہاں رہ کر بچت کتنی ہوئی ؟
شہر میں کہاں واردات ہوئی ،؟
کس معصومہ کی عصمت لُٹی؟
ملک کے کتنے حصے پر کون سا ملک قابض ہوا ؟
اس سے. بھی اُنہیں کوئی سروکار ہی نہیں تھا ،صُبح اخبارات میں چھپی ہوئی سُرخیوں پر ایک سرسری نظر دوڑائی ،اخبارات نے جو لکھ دیا گویا حرِف آخر ہوگیا۔۔۔۔،،
سڑکوں پر گاڑیوں کا ایک سیلاب رواں تھا،گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں سے تمام شہر آلودگی کی دُھند میں کسمسا رہا تھا ،فُٹ پاتھوں پر لوگ اس رفتار سے چل رہے تھے جیسے کام پر نہیں میراتھن ریس (Marathon Race)جیتنے جارہے ہوں اُن کے قدموں کی چاپ میں اُس بیچارے کی کراہیں تحلیل ہو  رہی تھیں ،اتفاق سے اگر کسی شہری کے کانوں میں اُس کے کراہنے کی صدا پڑی بھی تو اُس نے یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا کہ شاید کوئی  بھکاری زمین پر رینگتے ہوئے بھیک مانگ رہا ہے ،یہ تو ان لوگوں کا روز کا معمول ہے ،،، "ہوں" کہہ کر وہ بھی آگے بڑ ھ جاتا ،دریں اثنا کتنے ہی لوگوں کے قدم اُس کی پیٹھ پر پڑے، اُس کی کراہوں میں مزید اضافہ ہوا لیکن اس بے حس شہر میں کس کے پاس اتنی فُرصت تھی کہ وہ اُس کو  اُٹھا کر ہمدردی سے ایک طرف بٹھاتا۔۔۔۔۔،
وہ بھی تو اسی شہر کا باشندہ تھا ۔۔۔۔۔،
زندگی کے پچھتر برس اُس نے لوگوں کی خدمت میں گُزار دئیے تھے ۔۔۔۔،،
وہ بھی اسی سماج کا حصہ تھا۔۔۔۔،،
پھر اُس سے اس قدر لا تعلقی کیوں ؟
اُس نے اپنے فرائض انجام دینے میں  کوئی کوتاہی کی؟
کیا وہ ہر ایک سے خلوص اور ہمدردی سے پیش نہیں آیا؟ وہ آنکھیں بند کر کے سوچ رہا تھا،،،  
جب تک وہ اعلی عہدے پر فائز تھا توسرکاری کوٹھی ،سرکاری گاڑی اورسرکاری نوکر چاکر تھے۔ کوئی کپڑے استری کرتا تو کوئی  جوتے پالش کرتا......پانی کا گلاس مانگنے پر تین تین نوکر کھڑے رہتے ، ایک کوٹ پہناتا تو دوسرا جوتے کے تسمے باندھتا۔ اپنے جوتے پالش کئےاور تسمے باندھے اُسے برسوں بیت چُکے تھے ،سرکاری گاڑی کے علاوہ اپنی تین تین گاڑیاں، جن میں تین بیٹے گھومتے پھرتے اور عیش کرتے ،بیگم تو غرور سے اکڑ کر اس طرح چلتی جیسے بے ثمر درخت ،ہر وقت طلائی زیورات سے اس طرح لدی پُھدی رہتی جیسے جیولری کی  چلتی پھرتی دُکان، یہ سب کچھ بھی محلے والوں پر رعب جمانے کا ایک طور تھا ۔۔۔۔،،
وہ صُبح سرکاری ایمبسڈر بیٹھ کر نکل جاتا تو دفتری اوقات کے بعد گھر کی چار دیواری میں جیسے قید ہوکر رہ جاتا، نہ کسی پڑوسی سے جان پہچان، نہ بات چیت، بس اپنی ہی دُھن میں رہتا۔ محلے والوں کو بھی کیا پڑی تھی کہ اُس کے در پر جاتے۔۔۔۔۔، بس ایک کمرہ ۔۔۔۔ L E D ۔۔۔۔ریموٹ۔۔۔۔موبائل اور وہ ۔۔۔۔ بس انہی میں سمٹ کر رہ گئی تھی اُس کی زندگی، اس پیشے سے تنگ آکر کئی مرتبہ اُس نے سوچا وہ وقت سے پہلے ہی سُبکدوش ہو جائے لیکن سرکاری ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت کا خیال آتے ہی وہ سر جھٹک دیتا...... نہیں نہیں ،،میں ایسا نہیں کر سکتا ،دفعتاً کسی کے جوتے کی ٹھوکر سے اُس کی چیخ سی نکل گئی راہگیروں نے سمجھا شاید پاس میں کسی کُتے کا پِلا چیخا ۔۔۔۔۔۔،،اُس نے راہگیروں کی طرف ہاتھ اُٹھا کر  اشارہ کیا تو کسی نے کہا ،،معاف کرو بابا......! چُھٹے نہیں ہیں ۔۔۔۔۔!وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن پیاس سے اُس کا حلق سوکھ رہا تھا ،ٹھوکر کھا کر اُسے وہ وقت یاد آیا جب وہ اقتدار میں تھا ......دن کو کئی لوگوں کی زند گی کے فیصلے کرتا تھا ،ایک دن دفتر سے نکلتے ہوئے ایک شخص اُس کے راستے میں آگیا تو اُس نے  عہدے کے نشے میں چُور ہو کر ایک زناٹے دار طمانچہ  اُس کے گال پر جھڑ دیا,،وہ غریب اپنا سا مُنہ لے کر رہ گیا۔اُسے اُس وقت یاد ہی نہیں رہا کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جسے ضعیفی کہتے ہیں ۔۔۔۔۔،،شاید کوئی ہم عمر اُسے دیکھ کر پہچان بھی جاتا لیکن نئی نسل  کے اپنے طور طریقے تھے، جدید دور کے جدید تقاضے تھے۔ اُنہیں تو اُس کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں تھا ،ویسے بھی  وہ دفتر سے آکر گھر پر ہی بیٹھا رہتا تھا ۔سماجی تقاریب میں تو ملازمت جوائن کرنے کے بعد وہ گیا ہی نہیں تھا۔ تقاریب میں جاناوہ اپنی شان کے خلاف سمجھتا جس محفل میں  اُس کی برابری کے مہمان موجود نہ ہوں یا یوں کہئے کہ وہ اُنہیں کمتر تصور کرتا تھا ،لیکن آج اس حالت میں  خود کو فُٹ پاتھ پر پڑے دیکھ کر وہ سوچتا تھا کہ کوئی خاکروب ہی اُس کا ہاتھ تھام کر اوپر اُٹھائے لیکن وقت کا پہیہ گھوم چکا تھا۔ جن بیٹوں کے لئے اُس نے اپنی جوانی  برف کی سل کی مانند پگھلادی وہ تو بیرون ممالک میں مقیم ہو گئے۔بیوی تو  اُس کے ریٹائر ہوتے ہی ملک عدم سُدھار گئی تھی۔اتنی بڑی حویلی میں وہ تنہا زندگی گُزار رہا تھا ،ملازمہ جسے اُس کے بیٹوں نے اُس کی دیکھ بھال کے لئے رکھا تھا، ایک ہی بار  میں دو وقت کا کھانا پکا کر رکھ دیتی۔ تنہائی اُس کی لاچاری پر قہقہے لگاتی۔ گھر کی دیواریں اُسے سانپ بن کر ڈستیں اور دیواروں پر آویزاں تصاویر اُس کا مذاق اُڑاتیں۔ اب وہ اس قدر نحیف ہو چکا تھا کہ مشکل سے قدم اُٹھتے تھے ۔۔۔۔۔،،وہ دن بھر ٹکٹکی باندھے  ٹیبل پر پڑے ہوئے موبائل فون کو تکتا رہتا کہ ابھی نہ ابھی بج اُٹھے گا لیکن اُس سے کسی کو کیا کام تھا، جو اُسے فون کرتا ۔اُسے وہ وقت یاد آگیا جب وہ اونچے عہدے پر تعینات تھا تو صُبح سے شام تک کالیں ریسیو کر کر کے تنگ آکر فون سوئچ آف کردیتا تھا لیکن آج اُس کے کان پر ائے تو پرائے اپنوں کی آواز سُننے کو بھی ترس گئے تھے۔۔۔۔۔،،
بھادوں کی سیاہ کالی رات ۔۔۔۔۔گرجتے بادل ۔۔۔۔۔ کڑکتی بجلیاں ۔۔۔۔۔پھر اچانک بجلی کا چلے جانا ۔ پہلے ہی کئی بیماریوں میں مبتلا تھا ،اُس کا دل انجانے خوف سے گھبرانے لگا ،مُنہ خشک ہو رہا تھا، آج اُسے پانی پلانے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ اُس نے بستر سے اُٹھ کر پیوری فائر (Pureifier)کی طرف گلاس بڑھایا لیکن اُس میں پانی کا قطرہ بھی موجود نہیں تھا ،آخر مجبور ہوکر اُس نے موبائل کی ٹارچ آ ن کی اور گھر سے باہر نکڑ کی دُکان پر پانی کی بوتل لانے کے لئے قدم بڑھائے ،دُکاندار سے بوتل لے کر اُس نے چند گھونٹ وہیں  حلق میں اُتارے تو اُسے گلے میں کچھ تراوت محسوس ہوئی ،گھر واپس جانے کے لئے وہ سڑک پار کرنے لگا کہ اچانک ایک منچلے موٹر سائکل سوار نے اُسے زور سے ٹکر ماردی اوروہ سیدھا فُٹ پاتھ پر جا گرا۔ایسا گرا کہ اُسمیں اُٹھنے کی طاقت ہی نہیں رہی ،وہ رات بھر کراہتا رہا لیکن اُس کی صداؤں اور سسکیوں کو رات کے اندھیرے نے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا ،،،بھیڑ کم ہوئی تو اُس کی لاش فُٹ پاتھ پر دیکھ کر کسی نے پولیس کو فون کر دیا تو چند لمحوں میں  سائرن بجاتی ہوئی پولیس کی جپسی میونسپلٹی کی گاڑی کو لے کر موقعہ پر پہنچی ۔۔۔۔۔ چار خاکروبوں نے اُس کی لاش کو اُٹھا کر گاڑی میں ڈالا ،گاڑی میں ڈالتے وقت لاش پلٹ گئی تو  اُس کا چہرہ دکھائی دیا ،چہرہ دیکھ کر  انسپکٹر  کی مُنہ سے نکلا ۔۔۔۔" ذرا ٹھہرو ۔۔۔۔!!! 
ارے یہ تو دلاور صاحب ہیں ،،اُس نے غور سے دیکھتے ہو ئے کہا۔۔۔،،
کون دلاور بیگ ؟ وارڈ افسر نے انسپکٹر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا،،
آپ نہیں جانتے ؟ ارے صاحب یہ  ہائی کورٹ کے سابق جسٹس دلاور صاحب ہیں۔۔۔،،
اچھا اچھا ۔۔۔۔! وہ دلاور صاحب جن کے تینوں بیٹے فارن  میں ہیں ۔۔۔۔!!!
افسوس۔۔۔۔!!! ایسی اولاد سے۔۔ اس سے تو بے اولاد ہو نا بہتر ہے ۔
لگتا ہے باقی بزرگوں کی طرح ان کی تدفین بھی ہمارے ہی ہاتھوں لکھی ہے ۔۔۔
خاکروبوں نے لاش ک گاڑی میں دکھا اور میونسپلٹی کی پولیس گاڑی جپسی کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔
���
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر ،موبائل نمبر؛9419463487
 

تازہ ترین