جموں میں سکھ طبقہ کا احتجاج اور نعرے بازی

پنجابی کو سرکاری زبانوں میں شامل کرنے کی مانگ

تاریخ    4 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


یو این آئی
جموں// سکھ طبقہ نے نے پنجابی زبان کو یونین ٹریٹری کی سرکاری زبانوں کی فہرست میں شامل نہ کئے جانے کے خلاف جموں میں شدید احتجاج کیا۔ سکھ تنظیموں بشمول سٹیٹ گوردوارہ پربندھک بورڈ اور جموں ڈسٹرک پربندھک کمیٹی کے عہدیدارسڑکوں پر جمع ہوئے اور احتجاجی مظاہرے کئے جس کے دوران: 'تانا شاہی نہیں چلے گی، پنجابی بھاشا لاگو کرو، لے کر رہیں گے اپنا حق، فرقہ پرستی نہیں چلے گی' نعرے لگائے گئے۔ سٹیٹ گوردوارہ پربندھک بورڈ کے چیئرمین ترلوچن سنگھ وزیر نے نامہ نگاروں کو بتایا: 'مرکزی کابینہ نے 5زبانوں کو جموں و کشمیر کی سرکاری زبان کا درجہ دیا ہے،پنجابی کو باہر رکھا گیا ہے'۔انہوں نے کہا: 'جموں و کشمیر میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت سے پنجابی لاگو ہے، مہاراجہ ہری سنگھ نے اس کو سرکاری زبان بنایا تھا۔ میں اپنے امتحانی پرچے پنجابی میں لکھتا تھا۔ 1981 تک ہم نے امتحانی پرچے پنجابی میں لکھے ہیں، دنیا میں پنجابی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے'۔ ترلوچن سنگھ وزیر نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں اس زبان کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا اگرپنجابی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا گیا تو یہاں پنجابی زبان بولنے والے ہزاروں لوگ سڑکوں پر آئیں گے اوراس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ پنجابی کو جلد از جلد یہاں کی سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے۔
 

تازہ ترین