کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    4 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال :گذشتہ جمعہ کے کالم میں آپ نے تھان کے متعلق جواب لکھا تھا ،مگر اس میں تھا ن کا پورا پسِ منظر نہیں لکھا گیا ہے۔یہ کیسے شروع ہوا۔پہلے تھان میں کیا کیا دیا جا تاتھا اور اب تھان میں کیا دیاجارہا ہے ۔جو کچھ تھان کے نام پر دیا جاتا ہے وہ کس کا حق ہے۔یہ وضاحت کے ساتھ لکھنے کی ضرورت ہے۔
علی محمد ،نوشہرہ سرینگر

تھان کی اصطلاح۔معنیٰ اور مقاصد

نکاح نامے میں وضاحت کرنا بہتر اور افضل

جواب:کشمیر کے پچھلے ادوار کے متعدد واقف ِحال حضرات سے سُنا گیا ہے کہ پچھلے دور میں جب دلہن کے لئے تحفے بھیجے جاتے تو اہتمام سے کپڑے بھی ہوا کرتے تھے۔چونکہ غربت کی بنا پر عام طور پر لڑکی والے اپنی بیٹی کے لئے اچھے کپڑوں کا انتظام نہیں کرپاتے تھے ۔اس لئے لڑکے والے ہی اپنا فرض سمجھتے تھے کہ دلہن ہمارے گھر آنے والی ہے اس لئے اُس کے بنائو سنگھاراور اچھے کپڑوں کا انتظام بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق کپڑے سِلواکر دُلہن کے گھر بھیجا کرتے تاکہ رخصتی کے دن وہ یہی لباس عروسی پہن کر آئے۔یہ سِلوائے ہوئے کپڑے کبھی چھوٹے بڑے ہوجاتے تو اس کی بنا پر بدمزگی اور ناگواری پیدا ہوتی ،تو اس کا حل یہ نکالا گیا کہ کپڑے سِلواکر بھیجنے کے بجائے بغیر سلا ہوا کپڑا تھان کی صورت میںہی بھیجا جائے ۔اُسی کو وَردن کہا جانے لگا اور اہلِ ثروت لوگ اونی ،سوتی ،ریشم اور پشمینہ کے مختلف قسم کے کپڑے بھیجا کرتے تھے۔اس لئے جو کپڑے بھیجا کرتے اُس کو تھان کہا جانے لگا، اس طرح یہ لفظ رائج ہوگیا ۔پھر کچھ لوگ اس کے ساتھ زیورات بھی بھیجنے لگے تو اب اسی مجموعہ جس میں کپڑے ،زیورات ،بنائو سنگھار کا سامان ہوتا اس کو تھان کہتے۔یہ ایسے ہی جیسے بسکٹ ،نمکین ،کیک اور آخر میں چائے پی کر کہتے ہیں ہم نے چائے پی۔حالانکہ اُس کے ساتھ اور بہت کچھ کھایا ہوتا ہے ۔اب آگے جب خوشحالی آئی اور دُلہن والے خود اپنی بیٹی کے لئے کپڑوں کا انتظام کرنے لگے تو شوہر والے کبھی صرف نقدرقم اور کبھی صرف زیورات دیتے ۔اس طرح نقد و زیور کا نام اب یہاں تھان رائج ہوگیا۔
جب معاشرے میںتھان کا لفظ کبھی سلے ہوئے کپڑوں ،پھر بغیر سِلے ہوئے کپڑوں اور پھر زیورات کے لئے بطور عرف کے رائج ہوگیا تو نکاح نامے شائع کرنے والے پبلشر حضرات نے بھی نکاح ناموں میں یہ کالم بڑھادیا ۔اس طرح یہ تھان کالفظ آج یہاں کشمیر کے عرف و رواج میں جس مفہوم کے لئے بولا جاتا ہے وہ صرف کشمیری زبان بولنے والے لوگوں میں اور وہ بھی صرف وادی ٔ کشمیر کی حدود میں ہے اور یہاں بھی جو دوسری زبانیں بولنے والے مسلمان ہیں مثلاً گوجر ی،پنجابی ،پختون ،پہاڑی وغیرہ ان میں یہ لفظ اس مطلب کے لئے رائج ہی نہیں ہے ،خلاصہ یہ کہ آج لڑکے والے لڑکی کے لئے جو زیورات اور سونا چاندی لاتے ہیں وہ سب تھان کہلاتا ہے۔
اس تھان کے لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ سارا مہر میں شامل کرکے اُس لڑکی کو دیا جائے۔دوسری صورت یہ ہے کہ مہر، چاہے نقدی ہو یا زیورات کی شکل میں،دینے کے بعد یہ تھان بطور تحفہ اور ہدیہ دیا جائے اور نکاح نامہ میں ہدیہ یا گفٹ صاف صاف لکھ دیا جائے۔بس یہ دو صورتیں ہیں۔
اگر کوئی لڑکے والے مہر الگ دے کر یہ زیورات لڑکی کو صرف استعمال کے لئے دینا چاہیں تو اُن پر لازم ہے نکاح مجلس میں اچھی طرح واضح کردیا جائے کہ مہر کے علاوہ جو زیورات تھان کے نام پر ہیں یہ سب صرف عاریتاً بغرضِ استعمال ہیں ۔نکاح نامہ میں لکھ دیا جائے۔

سوال:(۱)بچوں کے نام رکھنے میں کن امور کا لحاظ رکھنا چاہئے ۔کیا صرف محمد نام رکھ سکتے ہیں؟
(۲)رشوت لینے کے متعلق کیا صورت حال ہے یہ سب کے سامنے ہے۔ ہمارے دین میں کیاوعیدیںہیں ؟
(۳) کیا ٹسٹ کرانے پر کمیشن لینا رشوت ہے ؟
غلام مصطفیٰ ااہنگر ۔سونا واری کشمیر

بچوں کے نام رکھنا ۔اسلامی شناخت ظاہر ہو

جواب:بچوں کا نام ایسا رکھا جائے جس سے نام سُنتے ہی یہ معلوم ہوکہ یہ مسلمان ہے۔اس لئے اللہ جل شانہ ٗکے اِسمائے حسنیٰ کے ساتھ عبد لگاکر نام رکھا جائے ۔مثلاً عبداللہ ،عبدالسلام ،عبدالقادر وغیرہ ،یا انبیاء علیہم السلام کے مبارک ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے مثلاً ابراہیم ،موسیٰ ،عیسیٰ وغیرہ،یا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک یا آپؐ کے اسماء مبارک میں سے کوئی بھی نام رکھا جائے۔صرف محمد نام رکھنا درست ہے بلکہ ایک حدیث میں حکم دیا گیا کہ محمد نام ضرور رکھا جائے ۔چنانچہ اُمت میں ہمیشہ یہی نام ِ مبارک سب سے زیادہ پایا گیا ہے بلکہ اس طرح بھی یہ نام پایا گیا ۔محمد ولد محمد ولد محمد ولد محمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پانچ نسلوں تک یہی نام ۔یا ایسا نام رکھا جائے جس کے معنیٰ بہت اچھے ہوں ۔مثلاً شریف،اشرف ،عادل ،عارف ،عابد ،امجد ،زاہد ،انور غرض کہ معنیٰ کا لحاظ کرکے اچھے معنیٰ والا نام رکھا جائے۔ یا حضرات صحابہ کرام کے اسماء میں سے کوئی نام رکھا جائے ۔مثلاًعمر ،عثمان ،سہیل ،اَنس ،عباد ،سعد ،ربیع ،ہلال ،بلال وغیرہ۔ایسا نام جس سے یہ پتہ ہی نہ چل سکے کہ یہ مسلمان ہے یا نہیں ،ایسا نام رکھنا ہرگز ہرگز درست نہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غلط ناموں کو بدل دیتے تھے،مثلاً ایک شخص نے اپنانام صعب بتایا ۔آپ ؐنے فرمایا :تمہارا نام سہیل کردیا گیا ۔ایک کا نام عبدالشمس تھا ،آپؐ نے اُس کا نام عبداللہ کردیا۔

رشوت ستانی کے لئے لعنت کی وعید

(۲)رشوت بدترین جرم ہے۔یہ ظلم بھی ہے جرم بھی۔لعنت کا مستحق بنانے والا مجرمانہ کام بھی ہے ۔رشوت کے ذریعہ کمائی گئی رقم حرام ہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے اور جس پر اللہ کے نبی ؐ لعنت فرمائیں اُس کے ملعون اور لعنتی ہونے میں کیا شک ہے۔ایک حدیث میں ہے رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔
رشوتوں کے ذریعہ دولت کمانے والا بدترین حرام خوروں میں سے ہے ۔یہ اللہ ،اللہ کے نبی ،فرشتوں کے یہاں بھی مجرم ہے اور یہ لوگوں پر ظلم کرنے والا مجرم ہے۔
(۳) غیر ضروری قسم قسم کے طبی ٹسٹ صرف اس لئے کرانا کہ ٹسٹ کرانے والے ڈاکٹر کوکمیشن لینے کا موقعہ ملے ،یہ بھی شرعی طور پر اُسی حرام کمائی میں ہے جس کی وجہ سے انسان لعنت کا مستحق بنتا ہے ۔یہ کمیشن کی کمائی یقیناً حرام کمائی ہے۔

سوال: آج کل شہر و دیہات میں شادیوں کا سیزن جاری ہے۔ ہماری شادی بیاہ کی تقاریب میں جہاں درجنوں بلکہ سینکڑوں خرافات سے کام لیا جاتا ہے وہاں ایک انتہائی سنگین بدعت پٹاخوں کا استعمال ہے۔ شام کو جب دولہا برات لے کر اپنے گھر سے روانہ ہو جاتا ہے تو وہاں پر اور پھر سسرال پہنچ کر پٹاخوں کی ایسی شدید بارش کی جاتی ہے کہ سارا محلہ ہی نہیں بلکہ پورا علاقہ لرز اُٹھتاہے اور اکثر لوگ اسے فائرنگ اور دھماکے سمجھ کر سہم جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں، بزرگوں اور عام لوگوں کو پٹاخے سر کرنے سے جو انتہائی شدید کوفت اور پریشانی لاحق ہوجاتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔شرعی طور براہ کرم اس معاملے پر روشنی ڈالیں۔
خورشید احمد راتھر،سرینگر

شادی بیاہ پرپٹاخوں کا استعمال غیرشرعی

جواب:شادیوں میں پٹاخے  سر کرنا اُن غیر شرعی اور حرام کاموں میں سے ایک سنگین و مجرمانہ کام ہے جو طرح طرح کی خرابیوں کا مجموعہ ہے اورشادیوں میں شوق اور فخر سے کئے جاتے ہیں ۔یہ غیر مسلم اقوام کی رسوم کی نقالی ہے  اور وہی مشابہت ہے جس مشابہت سے مسلمانوں کو اجتناب کرنے کا حکم ہے۔ حدیث میں ارشاد ہے جو مسلمان کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے(ابو دائود) اس پٹاخے اُڑانے کے عمل میں مال کو ضائع کرنا بھی شامل ہے جبکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو قیل و قال کثرت سوال اور اضاعت مال سے منع کرتا ہے۔(بخاری و مسلم)
پٹاخے سو سو روپے تک کی قیمت کے بھی بلکہ اس سے زیادہ کے بھی ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کو آگ لگا کر دھماکے کی آواز اور چنگاریاں برساتی ہوئی روشنی نکل کر چند لمحوں میں ختم ہوتی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ تو یہ سراسر غیر شرعی جگہ اپنا پیسہ اڑانا ہے اس لئے بھی یہ حرام ہے پھر جب ان پٹاخوںسے ایسا دھماکہ ہوتا ہے جیسے کہیں فائرنگ ہورہی ہو۔اس سے چھوٹے بڑے سب سہم جاتے ہیں اور جن کو یہ معلوم نہ ہو کہ کہیں آس پاس میں شادی ہورہی ہے وہ سب فکر وتشویش اور پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیںاور کسی کو فکر و پریشانی میں ڈالنا بھی حرام ہے۔اس کی وجہ سے کسی کا سکون غارت ہو جائے، کسی کے آرام میں خلل پڑ جائے،کسی کو ذہنی تکلیف ہو جائے تو اس لئے بھی یہ غیر شرعی اور غیراخلاقی ہے۔
یہ صوتی آلودگی (Noise Pollution)کے اسباب میں بھی داخل ہے اس لئے کسی مہذب معاشرے کے خلاف بھی ۔لہٰذا غیر انسانی طرز عمل ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ بری بات کی اونچی آواز کوناپسند کرتا ہے۔یہ عقل اور حقیقت پسندی کے بھی خلاف ہے۔ آخر اس میں کیا معقولیت ہے کہ دولہے کے رخصت ہونے پر دھماکے کئے جائیں اور آتش بازیاں اور وہ بھی اس طرح کہ پورا علاقہ لرز جائے تو اس کا نفع کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ کچھ نہیں اس لئے جو کام دین، اخلاق، عقل اور عام تہذیب انسانی کے خلاف ہے وہ کیسے درست ہوسکتا ہے لہٰذا پٹاخوں اور بنگولوں کا یہ سلسلہ بند کرنا شریعت کا حکم ہے۔