کورونا اور معاشی انحطاط!

تاریخ    2 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


گزشتہ روز سرکاری سطح پر ملکی معیشت کے حوالے سے جو اعدادوشمار ظاہر کئے گئے ہیںوہ قطعی حوصلہ بخش نہیں ہیں۔اپریل تا جون سہ ماہی کیلئے جاری کئے اعدادوشمار کے مطابق ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں تقریباً24فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔یہ ملکی معیشت میں آزادی کے بعد سب سے بدترین گراوٹ تصور کی جارہی ہے ۔ جی ڈی پی اعدادوشمار کے مطابق اس عرصہ کے دوران نہ صرف سرمایہ کاری مکمل طور پر منجمد ہوچکی ہے بلکہ آمدنی کے ذرائع محدود ہونے کی وجہ سے کھپت میں بھی بھاری گراوٹ درج کی گئی ہے ۔اس عرصہ کے دوران مجموعی سرمایہ کاری میں پچاس فیصد کمی درج کی گئی ہے جبکہ کھپت میں بھی 25فیصد کمی واقع ہوئی تاہم سرکاری کھپت میں اضافہ ہوا ہے ۔
 یہ اعدادوشمار آنے والے مشکل ترین ایام کی جانب اشارہ کررہے ہیں۔کہنے کو تو لوگ بہت کچھ کہیں گے لیکن ملک کی شرح نمو میں یہ تشویشناک گراوٹ دراصل کورونا وائرس کی دین ہے اور اقتصادی ماہرین نے پہلے ہی اس کی پیشگوئی کی تھی ۔دراصل اسی مدت کے دوران 25مارچ سے ملک میں68روزہ طویل کورونا لاک ڈائون بھی چلا جس کی وجہ سے معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے تھے اور جب زندگی کے تمام شعبے مفلوج ہوجائیں تو معیشت کا گرجانا فطری عمل ہے ۔یہ اکیلے بھارت کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ دنیا کی سبھی بڑی معیشتوں کا یہی حال ہے ۔جہاں برطانوی معیشت میں بھی بیس فیصد سے زائد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی وہیں امریکی معیشت بھی دس فیصد کے خسارے سے دوچار ہوچکی ہے جبکہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔
ماہرین اقتصادیات روز اول سے کہہ رہے تھے کہ کورونا عالمی معیشت کو لے ڈوبے گا اور فی الوقت ویسی ہی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے کیونکہ پوری دنیا کا معاشی نظام لرزہ براندام ہوچکا ہے ۔ہمارا ملک چونکہ ابھی ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں ہی شامل ہے تو یہاں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہونا طے تھا اور وہی کچھ ہوا بھی لیکن اس کے باوجود سرکار نے اپنی طرف سے عوام کو راحت پہنچانے کی کما حقہ کوشش کی ہے ۔سرکاری سیکٹر میں کھپت میں اضافہ کا رجحان اس عرصہ کے دوران جو دیکھنے کو مل رہا ہے ،وہ دراصل اس مدت کے دوران سرکار کی جانب سے معمول سے زیادہ صرفہ کی وجہ سے ہوا ہے ۔ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس مدت میں سرکار کو نہ صرف طبی نظام کو اَپ گریڈ کرنے پر زر کثیر صرف کرناپڑا بلکہ عوامی راحت رسانی کے کاموں پر بھی کھربوں روپے خرچ کئے گئے جن میں مفت چاول اور گیس کی تقسیم بھی شامل ہے ۔اس کے علاوہ معیشت کو سہارا دینے کیلئے اس محاذ پر جو سرکاری اقدامات کئے گئے ،اُن سے بھی خزانہ عامرہ پر بوجھ پڑھ گیا اور زیر بحث سہ ماہی میں جو سرکاری کھپت میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ،وہ ایسے ہی فلاحی اقدامات کا مرہون منت ہے ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب عالمی معیشت کا یہ حال ہے تو آگے کیا ہوگا ۔ظاہر ہے کہ اس وقت جو صورتحال اُبھر کر سامنے آرہی ہے،وہ کوئی اطمینان بخش صورتحال قرار نہیں دی جاسکتی ہے اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہونا طے تو مطلب یہ ہے کہ ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔اس کا جو فوری اثر ہوگا ،وہ ٹیکس کھاتوں پر ہوگا کیونکہ ٹیکس وصولی بری طرح متاثر ہوگی اور اس کا خمیازہ مرکز اور ریاست دونوں کو بھی بھگتناپڑے گا۔ جب آمدن ہی نہ ہوئی ہو تو ٹیکس جمع کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا ہے اور جب ٹیکس جمع نہ ہونگے تو سرکاری خزانہ کی حالت مزید پتلی ہوسکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمیں مزید کچھ اچھی خبریں سننے کو نہیں مل سکتی ہیں۔
یہ ساری صورتحال بیان کرنے کامقصد دراصل عوام کو اس تلخ حقیقت سے روبرو کرا نا ہے کہ کورونا نے سارے معاشی نظام کو تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے اور یہ وقت ہے کہ ہم سدھر جائیں اور ذمہ دار شہریوں کی حیچیت سے اس وبائی بحران سے خلاصی پانے میں حکومت کی مدد کریں لیکن جس طرح سے مقامی اور ملکی سطح پر مسلسل کورونا معاملات میں اضافہ کا رجحان جاری ہے ،وہ اس جانب کی واضح اشارہ ہے کہ لوگ ابھی بھی حالات کی سنگینی کو سمجھ نہیںپارہے ہیں اور وہ ابھی بھی لاپرواہی کا مظاہرہ کرکے کورونا کے پھیلائو کاذریعہ بن رہے ہیں۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ کورونا انسانی سماج میں بہت گہرائی تک سرایت کرچکا ہے اور اگر اب ہمیں کوئی اس وباء سے بچا سکتا ہے تو وہ ہم خود ہیں ۔ہمیں ہی اس نئی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اپنے جینے کا طریقہ تبدیل کرنا ہوگا اور کورونا کے ساتھ ہی جینا سیکھنا ہوگا۔ویکسین کب آئے گی ،ابھی اس بارے میں کچھ وثوق کے ساتھ کہا نہیں جاسکتا ہے ۔فی الوقت احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد ہی ہمیں اس آفت سے بچاسکتی ہے اور یہ احتیاطی تدابیر اس قدر آسان ہیں کہ ان پر اتنا خرچہ بھی نہیںہے اور آسانی سے عمل بھی کیاجاسکتا ہے ۔وقت آچکا ہے جب ہمیں لاپر واہی اور غیر ذمہ داری کے روایتی انداز کو ترک کرکے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت پیش کرنا چاہئے کیونکہ اگر ہم ابھی بھی نہیں سنبھلیں گے تو آنے والے وقت میں مزید تباہی سے ہمیں کوئی بچا نہیں سکتا ہے اور وہ تباہی دونوں صورتوں میں ہوگی ۔ہمیں بھاری جانی نقصان سے بھی دوچار ہونا پڑے گا اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اب گیند عوام کے پالے میں ہے اور عوام کو ہی فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ کیا چاہتے ہیںتاہم اُمید یہی کی جاسکتی ہے کہ عوام شر پر خیر کو ترجیح دینگے جس سے حکومت کا کام بھی آسان ہوسکتا ہے اور کوروناوبأ سے نڈھا ل معیشت کو بھی واپس پٹری پر لانے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔
 

تازہ ترین