تازہ ترین

علم،عمل اور عقل

۔۔۔کامیابی کی تثلیث

تاریخ    30 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


ڈاکٹر ریاض توحیدی
  ایک دانا سے پوچھا گیا کہ شعور اور شور میں کیا فرق ہے؟
دانا نے کہا : صرف ’’ ع‘‘ کا۔
پھر پوچھا گیا: ’’ع‘‘ سے کیا مراد ہے؟
فرمایا: ’’ ع‘‘ سے مراد علم ‘عمل اور عقل ہے۔ علم ‘عمل اور عقل سے بات کروگے تو شعور کہلائے گا‘
ورنہ صر ف شور۔
   میں جب اس حکیمانہ قول پر غور کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ہم میں سے کتنے لوگوں کی سوچ‘ تحریر اورتقریر فقط شور انگیز عمل کی ہی عکاسی کرتی ہے‘ ایسے لوگوں کا دماغ شور کا نقار خانہ(Kittle-drum) ہوتا ہے۔ یہ نقارچی (Drummer)زندگی کے ہر موڈ پر ڈھنڈورا پیٹ پیٹ کر اپنا ڈنکا بجانے کی فکر میں لگے رہتے ہیںاور شعوری و غیر شعوری طور پر ہمیشہ مرغوں کی طرح دوسروں کو چونچ مارنے کی کرتب بازی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔انہیں جب بھی کسی کے بارے میں پوچھا جائے تو موقع ملتے ہی اپنی انانیت‘حسد اور تفخر کی چونچ مارنا شروع کردیتے ہیں اور اُس معصوم کی خوبیوں کو بھی ایسے لہو لہان کرنے کی تگ  ودو کرتے ہیں کہ سننے والے کا دماغ بھی نفرت کی سونامی میں ہچکولے کھانے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔انہیں اگر کوئی انجانے میں اپنی سوچ کی تصحیح کرنے کی معصومانہ رائے دیتا ہے تو پھر کیا‘ان کے دماغ کی ہانڈی میں اتنا ابال آتا ہے کہ ناصح اپنی ہی رائے کوبرفیلی سلوں سے سرد کرتا ہے۔مشاہدے سے ظاہر ہے کہ کئی لوگ اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ذہنی طور پر اتنے ناپختہ(Immature)ہوتے ہیں کہ جیسے پچپن کے باوجود بچپن کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں۔ان میں عصری علوم کے حامل افراد کے ساتھ ساتھ دینی علم رکھنے والے بیشتر افراد بھی شامل ہیں۔ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کیا یہ لوگ ڈگری یافتہ ہیں کہ تعلیم یافتہ (Educated)۔۔۔؟جیسا کہ ہر کوئی باشعور انسان جانتا ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگریوں کا انبار لگانا نہیں ہے بلکہ تعلیم کا ایک اہم مقصد انسانی شعور کو پختہ (Mature) بناناہے۔برعکس اس کے کئی ایسے لوگوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو یا تو سرے سے ہی ناخواندہ ہوتے ہیں یعنی انہوں نے کسی بھی اسکول میں تعلیم نہیں پائی ہوتی ہے یا عصری تعلیمی کینوس کے زیر نظر کم ہی تعلیم پڑھی ہوتی ہے‘تو ان کی فکری پختگی اور حکیمانہ گفتگو سن کر ضرور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رسمی تعلیم نا ہونے کے باوجود یہ لوگ زرخیزذہانت (Fertile mentality)کے مالک ہیں۔اصل میں تعلیم کا مقصد نور پھیلانا ہے تو نور آنکھوں کے ساتھ ساتھ دل و دماغ میں بھی پھیلنا چاہئے اور یہ خوبی انسان کے کردار اور اعمال سے بھی ظاہر ہونی چاہئے ۔اگر ایسا ہوا توعلم‘ عقل اور عمل کی تثلیث شعور کی عکاسی کرے گی نہیں تو صرف شور ہی شور اور شور کا مطلب ہم سب سمجھتے ہیں یعنی زور وشور سے فضول قسم کی باتیں کرنا ‘کار فضول کرنااور غیر مہذب رویہ (Uncultured attitude) کامظاہرہ کرنا‘جوکہ اب ماحولیاتی مضمون میں صوتی آلودگی(Noise Polution)کے زمرے میں آتا ہے۔دراصل انسان کو اپنی قابلیت‘صلاحیت اور عقل و فکر کا صحیح استعمال کرنا چاہئے‘ کیونکہ انسان تو سوچ سکتا ہے نہ کہ حیوانات کی طرح صرف چل پھر اور کھا سکتا ہے۔علم کائنات (Cosmology)کے پیش نظر بات کریں تو قرآن شریف میں عقل کے صحیح استعمال اور غور وفکر(Consideration)کرنے کا ذکر کئی جگہ آیا ہے ۔ جیسے سورہ  یونس کی یہ آیت مبارکہ دیکھیں:
’’قُلِ انْظُرُوا مَاذَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘
(آپ کہہ دیں: آسمانوں اور زمین میں غور و فکر کرو کہ ان میں کیا کچھ ہے۔‘‘
عقل کے صحیح استعمال پر حدیث شریف میں بھی آیا ہے:
’’العقل عقال من الجہل‘‘(عقل جہالت سے باز رکھتی ہے۔)
  توجو انسان اب ہر وقت جہالت کا مظاہرہ کرتا ہو تو وہ عقل کا صحیح ڈھنگ سے استعمال نہیں کرتا ہے نہیں تو حدیث شریف میں واضح ہے کہ عقل جہالت سے باز رکھتی ہے۔ علّامہ اقبالؔ بھی آنکھوں کی روشنی اور عقل کی روشنی یعنی بصارت اور بصیرت ‘ کے تعلق سے کیا خوب فرماتے ہیں:
اے  اہل  نظر  ذوق  نظر  خوب  ہے  لیکن
جو  شے  کی  حقیقت کو  نہ  دیکھے  وہ نظر  کیا
  عقل کی عکاسی انسان کے سوچ سے بھی ہوتی ہے ۔باشعور انسان ہر وقت مثبت پہلوؤں پر نظر رکھتا ہے جبکہ خام ذہن انسان منفی فکر کا مالک ہوتا ہے۔ وہ نہ تو خود آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نہ ہی کسی کی خوبی یا ترقی کو برداشت کرتا ہے۔ تاریک دماغ روشنی میں بھی اندھیرے کی تلاش میں ہوتاہے جبکہ روشن دماغ اندھیرے میں بھی روشنی ڈھونڈتا ہے۔ نفسیاتی طور پر تاریک دماغ کو قنوطی (Pessimist) جبکہ روشن دماغ کو رجائیت پسند(Optimist)کہا جاتا ہے۔چرچل بڑے اچھے انداز سے سمجھاتے ہیں کہ قنوطی ذہن بہترین وقت میں بھی مشکلات کا متلاشی ہوتا ہے جبکہ رجائیت پسند انسان مشکلات میں بھی بہترین موقعہ کی تلاش میں رہتا ہے۔ 
"The pessimist sees difficulty in every opportunity, The optimist sees oppertunity in every ifficulty."
                                                   (W.Churchill)
  عقل کا صحیح استعمال کرنا کامیابی کی طرف قدم بڑھانا ہے۔اگر کوئی سخت محنت کرنے کے باوجود عقل کا درست استعمال نا کرے تو وہ منزل مقصود کو پانے میں ناکام ہی رہے گا۔ علم سے عقل بڑھتی ہے اور عقل سے عمل میں اضافہ ہوتا ہے ‘اس طرح سے انسان کا شعور مکمل شعور کی عکاسی کرتا ہے اگر ایسا نہیں ہوا تو شعور کی بجائے شور ہی شور ۔حوصلہ رکھیں ۔ہمت نہ ہاریں بقول مجروح سلطانپوری:
دیکھ  زنداں   سے  پرے  رنگ   چمن   جو ش  بہار
رقص  کرنا  ہے   تو  پھر  پاؤں   کی  زنجیر  نہ  دیکھ
���
وڈی پورہ ، ہندوارہ،کشمیر،موبائل نمبر؛7006544358