خواب بیچنے والے بازی گروں کے مداری تماشے

عقائد کے گرداب میں پھنسی کشمیری قوم کو نئی قیادت کی تلاش

تاریخ    29 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


منظور انجم
 آزادی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے شعلے گزشتہ سال پانچ اگست کی سونامی نے اگر بجھا نہیں دئیے تو سرد ضرور کردئیے ۔ سوشل میڈیا ،مجلسوں اور محفلوں کا یہ واحد موضوع ایک سال سے رفتہ رفتہ دھندلا پڑتا جارہا ہے ۔کچھ سرپھرے ابھی بھی خامہ فرسائی کرتے ہیں لیکن پکڑے جاتے ہیں اور سزاوار ٹھہرتے ہیں ۔جو لوگ کہتے ہیں کہ جذبوں کو دبایا جاسکتا ہے ختم نہیں کیا جاسکتا ، غلط نہیں ہیں لیکن وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ان جذبوں کی رہنمائی اور رہبری کرنے والے تیز آندھیوں کا مقابلہ کرنے کی تاب نہیں لاسکے ۔ ان کے اندر اگر کوئی چنگاری تھی ،وہ بھی بجھ گئی اور ان میں سے اکثر منظر سے ہٹ چکے ہیں چنانچہ جن جذبوں کے مرکز باقی نہیں رہتے ،ان کی منزل بھی باقی نہیں رہتی اور مقصد بھی ۔وہ آوارہ ہوکر رہ جاتے ہیں یا غیر محسوس طریقے پر اپنی ہیت بدل دیتے ہیں ۔کہنہ مشق سیاست داں اس بات کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں اور وہ ایسے مواقع کو اپنے لئے استعمال کرنے کی تاک میں رہتے ہیں ۔جموں و کشمیر کے سیاسی میدان میں قومی دھارے کے سورما اس خلاء کو اچھی طرح سے سمجھ رہے ہیں اور اسے پورا کرنے کے لئے پوری قوت کے تھ میدان میں ڈٹ رہے ہیں ۔اب وہ پہلی بار متحد اور متفق ہیں ۔ ان کے ہاتھ میں گپکار ڈکلریشن کا جھنڈا ہے ۔ دفعہ 370اور 35اے کی بحالی کا ایجنڈا انہیں سیاسی خلاء کو پُر کرنے کے لئے کافی نظر آرہا ہے حالانکہ انہیں اس بات کا بھی بخوبی احساس ہے کہ بہت بڑی چوٹ کھائے ہوئے عوام دل برداشتہ ہیں ۔ اب و ہ کسی پر بھروسہ کرنے اور کسی جھانسے میں آنے کے لئے بالکل تیار نہیں ہیں لیکن عوام بہر حال عوام ہی ہوتے ہیں ،سرابو ں کی حقیقت جاننے کے باوجود بھی ان کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ 
 گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد ریاست جموں وکشمیروہ ریاست نہیں رہی جو صدیوں سے موجود تھی ، جس کی ایک شاندار تاریخ بھی تھی اور ایک تہذیبی انفرادیت بھی ۔پہلے ہی اس کے حصے کردئیے گئے تھے ۔ ایک حصہ پاکستان کے پاس تھا ایک ہندوستان کے اور کچھ حصہ چین بھی لے گیا تھا۔ہندوستان نے اپنے حصے کومکمل طور پر ملک میں ضم کرنے کے لئے اس کے مزید دوحصے کردئیے اور اسے مرکز کے زیر انتظام ایک علاقہ قراردیا ۔جواز موجود تھا کہ ملی ٹینسی اور علیحدگی پسندی کو ختم کرنے کے لئے ایسا کرنا ضروری تھا ۔ملی ٹینسی تو لاکھ کوششوں کے باوجود بھی ختم نہیں ہوسکی لیکن علیحدگی پسند تحریک کا شور اور زور وقت کی دھند میں کہیں کھوگیا ۔سیاسی اور عوامی سطح پر ساری کی ساری سیاسی سرگرمیاں ختم ہوکررہ گئیں یہاں تک کہ مین سٹریم سیاست بھی مفلوج ہوکررہ گئی ۔مین سٹریم رہنما اس کی وجہ یہ بتا رہے ہیں کہ سارے لیڈر نظر بند تھے اور شدید بندشوں کی وجہ سے تنظیموں کواپنا وجود ظاہر کرنا بھی مشکل ہوا ۔ وہ تنظیم بھی یہ بات کہتی ہے جو کشمیر کی تاریخ ساز جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے ۔لوگ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ تنظیموں کا ڈھانچہ تو ایسے ہی مشکل ترین حالات میں کام کرنے کے لئے ہوتا ہے لیکن اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ۔سیاسی لیڈروں کی نظر بندی ختم ہونے کے بعد بھی سیاسی سرگرمیاں کافی دیر تک شروع نہیں ہوسکیں جس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ لیڈر شپ اس کنفیوژن کی شکار رہی کہ بدلے ہوئے حالات میں اس کا رول کیا ہونا چاہئے ۔ابھی بھی یہ کنفیوژن باقی ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس سیاسی خلاء میں اپنے لئے جگہ پیدا کرنے کرکے اپنی بگڑی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے موقعے کا فایدہ اٹھانے کی سوچ کے ساتھ کام کرنے کا آغاز کیا جارہا ہے لیکن طویل سیاسی تجربہ اور کشمیری نفسیات کی سمجھ رکھنے کے باوجود بھی لیڈر یہ بات بھول رہے ہیں کہ عام کشمیری نے کبھی بھی کسی عالمی ، ملکی یا مقامی تبدیلی کو کوئی اہمیت نہیں دی ،وہ ہمیشہ اپنے عقیدوں کے پنجرے میں پھڑ پھڑاتا رہا ہے۔
عقیدوں کی زمین پر امیدیں پالنا اور خواب دیکھنا کشمیری باشندے کا سب سے بڑا شوق بھی ہے اور عادت بھی ۔آج عقاید کی بہتات ہے اور ہر عقیدے کے ساتھ لوگوں کی اچھی خاصی تعداد امیدوں اور خوابوں کی اپنی الگ کائنات تخلیق کر چکی ہے ۔آج کے حالات پر اگر مختلف علاقوں میں جاکر مختلف لوگوں سے بات کی جائے تو ناقابل یقین حدتک عقاید کا بکھرائو اور ٹکرائو سامنے آئے گا ۔ زمینی حقائق کو لیکر صورتحال کا تجزیہ کہیں بھی سننے یا دیکھنے کو نہیں ملے گا ۔کئی دیہات میں ایسے لوگوں کی بہتا ت ملے گی جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ اب چین مسئلہ کشمیر حل کرے گا ۔ان کے خیال میں اس کی فوجی طاقت ہندوستان کو ناکوں چنے چبائے گی ۔کچھ لوگ اس سے بھی بڑا سوچتے ہیں ،ان کے خیال میں چین ، پاکستان ، انڈونیشیاء ، ترکی ، افغانستان اور ایران کی فوجیں ہندوستان ، امریکہ اور عربوں کو صحیح راستے پر لائیں گی اور مسئلہ کشمیر حل کریں گی ۔یہ عقیدہ اب ایک مقبول عقیدہ بن چکا ہے جس پر سوال اٹھانے والا اسلام کا بھی دشمن قراردیا جائے گا اور تحریک کا بھی۔کسی بحث کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی کسی دلیل کی ۔ایک اور طبقہ ہے جو اس عقیدے میں مبتلا ہے کہ امریکہ اور اقوام متحد ہ سمیت کئی ممالک نے بھارت پر زبردست دبائو بنایا ہوا ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں فیصلہ کرلے اور درپردہ بات چیت ہورہی ہے۔ یہ بات تقریباً طے ہوچکی ہے کہ دفعہ تین سو ستر اور 35اے کے ساتھ ساتھ ریاست کی حیثیت بحال کردی جائے گی ۔اس عقیدے میں مبتلا لوگوں کے دو گروہ ہیں،ایک گروہ کاماننا ہے کہ اس پوزیشن کے ساتھ نیشنل کانفرنس کو اقتدار سونپا جائے گا اور دوسرے کو یقین ہے کہ اس میں علیحدگی پسندوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔اس عقیدے پر بھی سوال اٹھانے کی کوئی گنجائش نہیں ،اگر کوئی سوال اٹھائے گا تو وہ ہندوستان کا زرخرید ایجنٹ اور بدترین گناہ گار ٹھہرے گا ۔ایک اور عقیدہ یہ ہے کہ اسلام کے احیائے نو کا وقت آن پہنچا ہے۔عزوۃ الہند کا واقعہ رونما ہونے ہی والا ہے ۔ دریائے اٹک انسانی خون سے سرخ ہوگا اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی ۔ان چند ایک عقیدوں کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سارے عقیدے ہیں جنہوں نے زمینی صورتحال کو دیکھنے اور سمجھنے کے سارے راستے بند کردئیے ہیں ۔
ان عقاید کے بیچ مین سٹریم قیادت نے گپکار ڈکلریشن کا شور بلند کردیا ہے ۔یہ ڈکلریشن کیا ہے ،اس پر بھی مکمل اتفاق رائے نہیں ہے ۔عام رائے یہ ہے کہ گپکار میں سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر جو آل پارٹی اجلاس ہوا ،اس میں دفعہ 370اور 35اے کے تحفظ کا عہد کیا گیا ۔حالانکہ جن سیاسی جماعتوں نے اس اجلاس میں حصہ لیا ،وہ اس سے کہیں زیادہ چاہتی اور مانگتی تھیںاور اسے چھوڑ کر دفعہ 370پر آنا ہی ان کا اعلان شکست ہے ۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کے بعد بھی 1947کی پوزیشن کا موقف رکھتی تھی ۔وہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان سارے قدرتی راستے کھولنے کی بھی بات کرتی تھی ۔ آزاد تجارت کی وکالت بھی کرتی تھی اور ایک مشترکہ پارلیمنٹ کا بھی خیال پیش کرتی تھی جبکہ نیشنل کانفرنس 1953ء سے پہلے کی پوزیشن کا مطالبہ کرتی تھی ۔اسے وہ دفعہ 370منظور نہیں تھا جسے کانگریس نے اندر ہی اندر کھوکھلا کردیا تھا۔پیپلز کانفرنس کا موقف ’’ قابل حصول قومیت ‘‘(achievable nationhood)کی بنیاد پر کھڑا تھا ۔ان کلیدی جماعتوں نے گپکار ڈکلریشن پر آکر اپنے موقفوں کو لپیٹ لیا ۔نیشنل کانفرنس 53ء سے 4اگست2019ء پر آگئی ۔ پی ڈی پی بھی 4اگست پر ہی پہنچ گئی اور پیپلز کانفرنس بھی ۔ا س ہزیمت کے ساتھ اس بات پر ابھی تک کچھ نہیں کہاگیا کہ 4اگست سے پہلے کی پوزیشن پر پہنچنے کے کیا امکانات ہیں ،طریقہ کار کیا ہوگا اور جدوجہد کس نوعیت کی ہوگی ۔یہ بات شاید کبھی بھی نہیں کہی جائے گی کیونکہ سیاست داں صورتحال کی سنگینی کو خوب سمجھتے ہیں ۔انہیں معلوم ہے کہ نئی دہلی فی الحال نہ ریاست کی بحالی پر آمادہ ہے اور نہ ہی انتخابات کرانے سے کوئی دلچسپی رکھتی ہے حالانکہ یوم آزادی کے موقعے پر وزیر اعظم نے لال قلعے پر اس کا اعلان بھی کیا کہ جموں و کشمیر میں انتخابات جلد سے جلد کرائے جائیں گے لیکن حد بندی کمیشن نے ابھی پوری طرح سے کام بھی شروع نہیں کیا ہے اور وہ کب تک اپنی رپورٹ پیش کرے گا اور اس کے بعد انتخابی حلقوں کی پوزیشن کیا رہے گی اور کشمیر کی مقامی جماعتوں کے لئے انتخابات میں کتنی نشستیں حاصل کرنے کے امکانات باقی رہیں گے ،یہ ایک لمبی بحث ہے اور اسی پر اس بات کا دار و مدار بھی ہوگا کہ حکومت ہند آئندہ کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرے گی ۔
370کے حصول کاخواب مین سٹریم کیلئے کس قدر فایدہ مند ہوگا، یہ بھی وقت ہی بتائے گا ۔فی الحال عام لوگ جن سیاسی عقاید میں گرفتار ہیں،ان میں مین سٹریم کے لئے بہت کم گنجائش باقی ہے ۔ اگر کوئی گنجائش ہے تو وہ صرف ایک وسیع تر پھوٹ اور انتشار کی ہے جس کے باقی رہنے کی صورت میں حکومت ہند کو مزید ایسے کام کرنے کا موقع میسر آسکے گا جو اس کے خیال میں ابھی ادھورے ہیں ۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے اب تک اپنے انتخابی منشور کا ہر وعدہ پورا کیا ہے ۔اب وہ یہ وعدہ بھی پورا کرنے کے لئے بھرپور انداز میں کام کررہی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کا اگلا وزیر اعلیٰ غیر مسلم بھی ہو اور جموں سے تعلق رکھنے والا بھی ہو ۔وہ کہاں تک اور کیسے یہ وعدہ پورا کرتی ہے ،اس کی حقیقت بھی جلد ہی سامنے آئے گی ۔ اس دوران کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ انتہائی جگر سوز ہے ۔نئی نسل کا مستقبل پوری طرح سے تباہ ہورہا ہے ۔ بے روزگاری اور بے کاری کی حالت یہ ہے کہ کلاس فورتھ کی اسامیوں کے لئے اب تک4 لاکھ کے قریب درخواستیں موصول ہوچکی ہیں اور یہ درخواستیں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ہیں ۔ بی یو ایم ایس میں امتیازی حیثیت حاصل کرنے والا نوجوان عسکری صفوں میں شامل ہورہا ہے ۔ منشیات استعمال کرنے والے نوجوانوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے ۔نفسیاتی امراض کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔ اقتصادی اور معاشی ابتری کا دور دورہ ہے ۔ ایسے حالات میں اس قیادت سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے جو صرف خواب بیچ کر اقتدار حاصل کرنے کے مقصد کے ساتھ میدان میں سرگرم ہے ۔ عوام کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنی صفوں سے نئی قیادت پیدا کرے جو اس کی تباہی کو روکنے کے لئے استحکام اور عزم کے ساتھ جدوجہد کرے ۔
 

تازہ ترین