برسات کی بو چھاڑیں

شہرپھر پانی پانی ہوگیا!

تاریخ    28 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


 جموںوکشمیر میں گزشتہ دو روز سے ہورہی بارشوں نے ایک بار پھردارالحکومتی شہر سرینگر میں ناقص ڈرینج سسٹم کی قلعی کھول کررکھ دی ہے کیونکہ محض چند گھنٹوں کی بارش سے شہرپانی پانی ہو گیا۔بارشوں کے پانی سے نہ صرف سڑکیں اور گلی کوچے زیر آپ آگئے بلکہ شہرسرینگر کے سیول لائنز اور بالائی حصے میں بیشتر اور پائین شہر کے متعدد علاقوں میں پانی رہائشی مکانات اور تجارتی مراکز کی دہلیزوں کو چھو گیا ۔ہر سو پانی جمع ہونے کے نتیجہ میں صورتحال اس قدر سنگین بن چکی تھی کہ کئی علاقوں میں عبور و مرور ناممکن ہوکر رہ گیا ہے۔ ہر بار کی طرح اب کی بار بھی انتظامیہ کے اہلکاروں اور انجینئروں کو’’حالت جنگ میں خندق کھودنے ‘‘کے مصداق کئی مقامات پر ڈی واٹرنگ پمپ نصب کرتے ہوئے دیکھا گیا تاکہ اس شہرکو پانی پانی ہوتے دیکھ کر خود پانی پانی ہونے سے بچ سکیں اور لوگوں کو یہ تأثر دیں کہ ’’قدرت‘‘کے سامنے بے بس وہ اپنی طرف سے لوگوں کو راحت دینے کے بھرپورجتن کررہے ہیںتاہم اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کی خاطر لیپا پوتی کا یہ عمل قطعی طور کسی کو متاثر نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اب یہ متعلقہ انتظامیہ کا معمول بن چکا ہے ۔
 1980میں ڈرینج سسٹم سے منسلک محکمہ ،جسے اربن اینوائرنمنٹل انجینئر نگ ڈیپارٹمنٹ ( UEED)پکا را جاتا ہے ،کے قیام کے ساتھ ہی اس محکمے نے شہر سرینگر میں ڈرینج سسٹم اور انتظام بدرو کیلئے ایک جامع پروجیکٹ رپورٹ تیار کرلی جسے عملانے کیلئے حکومت کی منظوری بھی ملی تھی ۔118کروڑتخمینہ کے اس پروجیکٹ کو دس یا گیارہ سال میں مکمل ہونا تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔21سال بعد یعنی2001میں حکومت نے اسی پروجیکٹ کوکئی گنا زیادہ اخراجات کے تخمینہ کے ساتھ اپ گریڈ کرکے اس کو عملانے کی منظوری دے دی ۔اس تجدید شدہ پروجیکٹ کے مطابق شہر سرینگر میں نقائص سے عاری ڈرینج سسٹم 2002-03تک مکمل ہونا تھاجبکہ انتظام بد رو کیلئے جون2010کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی ۔اس پروجیکٹ پر کتنا کام ہوا ،اس کا اندازہ سب کو حالیہ بارشوں سے ہوا ہوگا۔ 
2005میں جموں اور سرینگر میونسپل کارپوریشن اور قصبہ جات میں میونسپل کونسلوں کے قیام کے بعد ڈرینج سیکٹر ان کارپوریشنوں اور کونسلوں کی تحویل میں دیا گیاجبکہ یو ای ای ڈی کے ذمہ صرف سیوریج کا کام رکھا گیا تاہم یہ دونوں محکمے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آں ہونے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں اور جواہر لعل نیشنل اربن رنیو ل مشن پروگرام کے تحت گریٹر سرینگر پروگرام کے تحت نکاسی آب اور انتظام بد رو کیلئے اربوں روپے صرف کرنے کے باوجود زمینی صورتحال بدلنے کانام نہیں لے رہی ہے ۔
اب تو سرینگر کو سمارٹ سٹی بنانے کی باتیں ہورہی ہیں،رنگ روڈ بن رہے ہیں۔نیا ماسٹر پلان بھی آچکا ہے تاہم اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی کے مصداق شہر کی حالت ہے کہ بدلنے کانام نہیں لے رہی ہے ۔آج بھی شہر کی بالکل ویسی ہی حالت ہے جیسی تیس برس قبل ہوا کرتی تھی۔گلی کوچوں اور سڑکوں کو کہیں کہیں کشادہ تو کیاگیا لیکن بدرو اور پانی کی نکاسی کا نظام ٹھیک ہونے کا نام نہیںلے رہا ہے اور اگر خدا خدا کرکے کبھی کوئی نکاسی آب کی سکیم مکمل بھی ہوجاتی ہے تو اگلے سال اس سکیم کو سڑکوںکی کشادگی یا مرمت کے نام پر دوبارہ غیر فعال بنایا جاتا ہے ،یوں پانی نکلتا ہے ،نہ بدرو اور اب حالت یہ ہے کہ پورا شہر ہی بدرو میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ایک زمانہ میں نالہ مار نکاسی کا بہترین ذریعہ ہوا کرتا تھا ۔اس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں بہنے والی چھوٹی چھوٹی قدرتی نہریں اور آب گاہیں بھی بارشوں کا پانی اپنے اندر سموتی تھیں لیکن شہر کاری کے اندھا دھند رجحان نے نہ صرف نالہ مار کا منصوبہ ہم سے چھین لیا بلکہ وہ نہریں اور آب گاہیں بھی نابود ہوگئیں۔جب پانی کی نکاسی کا فطری نظام ختم ہوجائے تو گلی کوچوں اور سڑکوںکا لبالب ہونا فطری بات ہے۔اسی وقت نکاسی آب کا انسانی نظام کام آتا ہے جو بدقسمتی سے ہمارے یہاں مفلوج ہی ہے اور ہر بارش کے وقت پورا شہر ایک طرح سے تالاب میں تبدیل ہوجاتا ہے جہاں آپ کو ہر سو پانی ہی پانی ملے گا ۔
نہ سرینگر میونسپل کارپوریشن شہر کی حالت بدل سکی اور نہ ہی شہری ترقی محکمہ کے نگراں دیگر محکمے، لیکن اب حق گوئی سے کام لیاجائے تو تلخ حقیقت یہ ہے کہ شہر کی بہبود کے نام پر اپنائی گئی سکیموں کو مخصوص لوگوں کی جیبیں بھرنے کیلئے استعمال کیاگیاجبکہ لوگ بے نیل ومرام ہی رہے۔فرائض سے پہلو تہی اور عوامی مسائل سے آنکھیں چرانے کا سلسلہ اب بہت ہوچکا ہے ۔اب حکومت کو چاہئے کہ و ہ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے باہر آکر شہری آبادی کو درپیش مشکلات کے ازالہ کیلئے عملی اقدامات کرے تاکہ حکام کو ہر بار بارش کے وقت شہر کو پانی پانی ہوتا دیکھ کر خود بھی پانی پانی نہ ہونا پڑے۔

تازہ ترین