جموں کشمیر کی سیاسی جماعتیں یک زبان | 5اگست کا فیصلہ نا قابل قبول

خصوصی پوزیشن کی بحالی واحد راستہ،ریاست کی تقسیم نامنظور، گپکار اعلامیہ پر وعدہ بند

تاریخ    23 اگست 2020 (00 : 02 AM)   
(فائل فوٹو)

بلال فرقانی
سرینگر//جموں کشمیر کی بڑی سیاسی جماعتوں نے’’جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی‘‘ پر سر جوڑتے ہوئے’’گپکار اعلامیہ‘‘ پر کاربند رہنے کا تاریخی اعلان کیا ہے۔جموں وکشمیر کی تقسیم وتنظیم نو کے بعد پہلی مرتبہ گپکار اعلامیہ کے دستخط کنندگان میں سے6 نے سنیچر کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ وہ جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت 370اورA 35 ، آئین اور ریاست کی بحالی کی جدوجہد کریں گے۔4اگست کو اعلامیہ پر دستخط کرنی والی جماعتوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اعلامیہ پر متحدہ طور پر کاربند ہیں۔ بیان مشترکہ طور پر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ،پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی،پیپلز کانفرنس چیئرمین سجاد غنی لون،سی پی آئی ایم کے سنیئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی،کانگریس  صدر غلام احمد میر اور عوامی نیشنل کانفرنس کے سنیئر نائب صدر مظفر احمد شاہ نے جاری کیا ہے،جس میں یہ جماعتیں دہائیوں کی سیاسی رنجشوں کو ایک طرف کرتے ہوئے گزشتہ ایک برس میںپہلی مرتبہ یک زباں ہوئی ہیں۔نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے2روز قبل گپکار اعلامیہ پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے کل جماعتی میٹنگ طلب کرنے کے اعلان کے بعد جاری کئے گئے اس مشترکہ بیان میں کہا گیا’دفعہ370اور35Aکی بحالی ، جموں و کشمیر کے آئین اور ریاست کی بحالی کیلئے جدوجہد کریں گے، ریاست کی کوئی بھی تقسیم ہمارے لئے ناقابل قبول ،اور ہم متفقہ طور پر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہمیں اعتماد میں لئے بغیرہمارے بارے میں کوئی بھی فیصلہ نہیں لیا جاسکتا‘‘۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا’’ 4 اگست 2019 کے گپکار اعلامیہ پر دستخط کرنے والوں نے حکومت کی طرف سے عائد ممنوعہ اورقانونی رکاوٹوں کے سلسلے میں بمشکل ایک دوسرے کے ساتھ بنیادی سطح پر بات چیت کا انتظام کیا ہے جس کا مقصد تمام معاشرتی اور سیاسی تعطل کو روکنا ہے،جبکہ عائد پابندیوں میں محدود الجھنوں کے نتیجے میں یہ متفقہ قرار داد منظورکی گئی‘‘۔ بیان میں کہا گیا’’5،اگست2019کے بدقسمتی پرمبنی واقعات نے جموں و کشمیر اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کو ناقابل یقین تک تبدیل کردیا ہے۔ ایک انتہائی مختصر اور غیر آئینی اقدام کے تحت ، دفعہ370اور35A کو منسوخ کر دیا گیا جبکہ ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور اسے2مرکزی اکائیوں کی حیثیت سے منسلک کردیا گیا اورجموں وکشمیرکے آئین کو ناقابل اطلاق بنانے کی کوشش کی گئی‘‘۔ان لیڈروں کا کہنا ہے کہ5 اگست 2019 کو کئے جانے والے اقدامات سراسر غیر آئینی تھے اور حقیقت میں ہمیں بے اختیاربنانے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کی بنیادی شناخت کے لئے چیلنج تھا۔بیان میں کہا گیا’’اُن اقدامات کے تحت یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم کون ہیں جبکہ یہ تبدیلیاں جابرانہ اقدامات کے ساتھ کی گئیں جن کا مقصد لوگوں کو خاموش کرنا اور انہیں تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ، اور بلا روک ٹوک جاری رکھنا تھا۔‘‘ بیان کے مطابق’’ یہ جموں و کشمیر کے امن پسند لوگوں کیلئے درد اور امتحان کاوقت ہے ،ہم سب جمہوریہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لئے اجتماعی طور پر جدوجہد کرنے کے اپنے عہد کا اعادہ کرتے ہیں جیسا کہ آئین کے تحت ضمانت دی گئی ہے اور وقتا فوقتا کئے گئے وعدوں کی بھی‘‘۔ اعلامیہ پردستخط کنندگان نے جاری  کئے گئے بیان میں کہا’’ ہمارے درمیان اتفاق رائے موجود ہے کہ اجتماعی ادارہ ان حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے اور خصوصی حیثیت حاصل کرنے کے لئے اور انتھک جدوجہد کرنا ہے ، اور ہماری مرضی کے خلاف زبردستی چھینی گئی آئینی ضمانتوں کو بحال کرنا ہے۔ ‘‘لیڈراں کا کہنا تھاوہ لوگوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ انکی تمام سیاسی سرگرمیاں جموں و کشمیر کی حیثیت کی طرف لوٹنے کے مقدس مقصد کے ماتحت ہوں گی ۔انہوں نے ’’ہندوستانی عوام ، سیاسی جماعتوں ، دانشوروں اور دیگر سول سوسائٹی گروپوں سے 5 اگست 2019 کے غیر آئینی اقدامات کی مخالفت کرنے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعتیں اس بحران میں جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ر ہی‘‘۔جموں کشمیر کی بڑی سیاسی جماعتوں نے کہا’’ ہم اُن  جماعتوں سے غیر متزلزل حمایت کی اپیل کرتے ہیں تاکہ5 اگست 2019 کے غیر آئینی اقدامات کو ختم کرایاجاسکے اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال ہوجائے‘‘۔مشترکہ بیان میں  مزید کہا گیا’’ ہم برصغیر کی قیادت سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ حقیقی سرحد اور حد متارکہ پر لگاتار بڑھتی ہوئی تصادم کا نوٹس لیں ،اورجموں وکشمیرسمیت اس پورے خطے میں تشددکے خاتمے اورقیام امن کے لئے کام کریں۔‘‘بیان کے آخرمیں مین اسٹریم لیڈروں نے کہاہے کہ وہ سب اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر ’گپکاراعلامیہ‘ کے مندرجات کے پابند ہیں اور بلاجواز اس کی پاسداری کریں گے۔‘‘ مشترکہ قراردار پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے بیان پر اطمینان کا اظہار کیا ۔انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’’آج کا دن اطمینان بخش ہے ،مشترکہ طریقہ کار ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے ،یہ اقتدار کا معاملہ نہیں ہے ،یہ اپنے حقوق کی واپسی کی جدوجہد ہے،شکریہ ڈاکٹر فاروق صاحب ،محبوبہ مفتی جی اور تاریگامی صاحب‘ ‘۔اس دوران پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی دختر التجاء مفتی نے نے اپنے والدہ کا حوالہ دیتے ہوئے سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پر لکھا’’محترمہ مفتی (محبوبہ مفتی)نے جموں و کے خصوصی حیثیت پر دہلی کے حملے پر اجتماعی ردعمل ظاہر کرنے میں ، ڈاکٹر فاروق صاحب کی طرف سے دکھائی گئی سٹیٹس مین شپ کی تعریف کی، اس وقت ہم یںسیاسی اختلافات کو چھوڑ کر ایک ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے‘‘۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 5 اگست2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی منسوخی سے ایک روز قبل بی جے پی کو چھوڑ کر باقی تمام جماعتوں کے رہنما ڈاکٹرفاروق عبداللہ کی گپکار رہائش گاہ پر جمع ہوئے تھے اور’گپکار اعلامیہ‘ جاری کیا تھا۔
 
 
 
 
 
 

 خصوصی حیثیت کی بحالی ناممکن : رویندر رینہ | دن میں خواب دیکھنے کے برابر

سید امجد شاہ

جموں//کشمیرکی سیاسی قیادت پر آسائشوں سے لطف اندوز ہونے کی خاطر اقتدار حاصل کرنے کے لئے دن میں بھی خواب دیکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جموں وکشمیر یونٹ کے صدررویندر رینہ نے واضح طور پر کہا ’’دفعہ 370 اور 35A کی بحالی ناممکن ہے‘‘۔سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی زیر صدارت کشمیر میں کانگریس ، نیشنل کانفرنس ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) ، پیپلز کانفرنس ، سی پی آئی ایم اور عوامی نیشنل کانفرنس سمیت 6 سیاسی جماعتوں کے گپکار اعلامیہ پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے رینہ نے کہا’’کشمیر میں مقیم سیاسی لیڈران خواب دیکھ رہے ہیں کہ کب وہ اپنے اور اپنے قریبی ساتھیوں کیلئے تمام آسائشوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے اقتدار حاصل کریں گے جس کیلئے وہ بے چین ہیں‘‘۔انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ یہ لیڈران پاکستان کے پوشیدہ ایجنڈے کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔رینہ نے سابق ریاست کی خصوصی حیثیت کا موازنہ ’نفرت کی دیوار‘ کے ساتھ کیا اور کہاکہ اس سے ترقی میں رکاوٹیں کھڑی ہوئیں۔ رینہ ضلع راجوری کے کالاکوٹ میں جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ خصوصی حیثیت جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی ، علیحدگی پسندی اور پاکستان کے زیر اثر ایجنڈے کا ایک ذریعہ بن چکی تھی جس کی وجہ سے اسے بحال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرنے پر کشمیر میں مقیم رہنمائوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔رینہ نے کہا کہ عوام نے جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس ، کانگریس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور پیپلز کانفرنس کی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا’’اب جموں و کشمیر غیر معمولی ترقی کی راہ پر گامزن ہے‘‘۔
 
 
 
 

پی ڈی پی کی ایک سال کے بعد  اجلاس بلانے کی تیاری

سرینگر// ثاقب ملک //پیلز ڈیموکریٹک پارٹی نے سوموار کو پارٹی سرپرست مظفر حسین بیگ کی رہایش گاہ پر میٹنگ طلب کی ہے ۔پارٹی ذرائع نے بتایا کہ کرالہ سنگری میںبیگ کی رہایش گاہ پر منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں پارٹی کے25لیڈر شرکت کررہے ہیں ۔ اجلاس مظفر بیگ کے پی ڈی پی سے خارج ہونے اور ان کی پارٹی امور میں دلچسپی کم کرنے کی قیاس آرائیوں کو بھی ختم کرے گا۔پی ڈی پی ذرائع نے بتایا کہ بیگ کے علاوہ ، جن دیگر لیڈروں کے اجلاس میں حصہ لینے کی توقع کی جارہی ہے ان میں عبد الرحمن ویری ، غلام نبی لون ہانجورہ ، نعیم اختر ، محمد یوسف ، عبد الحق خان ، تصدق مفتی ، محمد سرتاج مدنی ، نظام الدین بٹ ، خورشید عالم ، ظہور احمد میر ، فاروق احمد اندرابی ، اعجاز احمد میر ، عبد الغفار صوفی ، پیر منصور حسین ، بشیر احمد میر ، وحید الرحمان پرہ ، فیاض احمد میر ، مشتاق احمد شاہ ، سفینہ بیگ ، آسیہ نقاش، انجم فاضلی ، عبد الحمیدکوشین ، حاجی پرویز ، روف احمد بٹ اور عارف لائیگروشامل ہیں ۔اجلاس میں حصہ لینے والے بہت سے رہنما یا تو نظربند تھے یا ایک سال سے زیادہ عرصے سے خانہ نظربند تھے۔پارٹی ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 5اگست2019کے بعد یہ پارٹی کا پہلا بڑا اجلاس ہوگا جس میں پارٹی اموار زیر بحث آئیں گے۔اس سے قبل 3اگست کو پی ڈی پی کے کچھ لیڈروں نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا تھا ۔جس دوران انہوں نے 5اگست کو حکومت ہند کی طرف سے ریاست کی خصوصی آئینی حثیت کو ختم کرنے کی پہلی برسی کو بطور ’یوم سیاہ ‘ منانے کا اعلان کیا تھا تاہم 5اگست سے قبل ہی پارٹی کے کئی لیڈران کو احتجاج کرنے سے قبل ہی حراست میں لیا گیا ۔جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے 31جولائی کے بعد سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی پر عاید کئے گئے پی ایس اے میں3ماہ کی توسیع کی جس کے بعد وہ مسلسل نظر بند ہیں 
 

تازہ ترین