آہ ! راحت اندوی

تاریخ    23 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


سب کو ہنسانے والا رُلا کر چلا گیا
نغمے وہ زندگی کے سنا کر چلا گیا
اک عہد اس کے نام سے منسوب ہو گیا
تاریخ میں وہ نام لکھا کر چلا گیا
……
فیس بک اور ٹیلی ویژن پر
اس کے مرنے کی جب خبر آئی
آسمان و زمیں اداس ہوئی
پتھروں کی بھی آنکھ بھر آئی
……
روشنی ہے نثار جگنو پر
سارا عالم فدا ہے خوشبو پر
چھوڑ کر دنیا کیا گئے راحتؔ
جیسے ٹوٹا پہاڑ اردو پر
……
اس کی باتوں میں لُبھانے کا عجب انداز تھا
اس کی غزلوں میں بلا کا حسن تھا اعجاز تھا
اس کے دم سے رونق شعر وسخن دوبالا تھی
محفل شعر وسخن کا منفرؔد وہ ساز تھا
 
ڈاکٹر شمس کمال انجم
صدر شعبۂ عربی / اردو/ اسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری، موبائل نمبر؛9086180380
 

تازہ ترین