تازہ ترین

آبِ رواں

کہانی

تاریخ    23 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


سہیل سالمؔ
 یوم خواتین کے تعلق سے شہر کی ایک مشہور این ۔جی ۔او نے لل دید حال میں ایک سمینار کا اہتمام کیا تھا ۔ میں اور میرا دوست بس اسٹاپ پر ساحرہ کا انتظار کر رہے تھے۔ دبلی پتلی اس خاتوں سے ہماری ملاقات اسی اسٹاپ پر ہوئی تھی۔ انہوں نے ہم سے اہسپتال کا ایڈریس پوچھ لیا ۔وہ کافی پریشان سی دکھائی  دے رہی تھی۔ ان کی بائیں جانب ایک نوجوان لڑکی تھی ۔اس کی طرف اشارہ کرکے انہوں  نے بتایا کہ اس بچی کا اہسپتال میں چیک اپ کروانا ہے۔اس کے دونوں گردے کام نہیں کر رہے۔ بے چاری کافی تکلیف میں ہے۔
’’ہم نے اسے اہسپتال کا ایڈریس بتاتے ہوئے پوچھ لیا کہ اس لڑکی سے آپ کا کیا رشتہ ہے۔انھوں نے بتایا کہ یہ میری بیٹی ہے۔ لیکن یہ آپ کی بیٹی تو نہیں لگتی کیونکہ آپ کی اور اس کی عمر میں کوئی خاص فرق نہیں ہے‘‘
 ہما ری اس بات کے جواب میں اس خاتوں، جنہوں نے اپنا نام شمع بتایا تھا، نے کہا کہ یہ لڑکی اس کے شوہر کی بیٹی ہے۔چھوٹی سی عمر میںاس بچی کی والدہ فوت ہوگئی تھی تو میری شادی اس کے باپ سے ہوگئی۔میں نے ماں بن کراسکو پالا ہے۔میرے شوہر عمرمیں مجھ سے کئی سال بڑے ہیں۔۔۔بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے وہ کہیں  جا نہیں سکتے ۔ میں ہی بچی کے علاج کے لئے ماری ماری پھر رہی ہوں۔باتوں باتوں میں گاڑی آچکی تھی ۔خدا حافظ کہہ کر وہ اس میں جابیٹھی  اور اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گئی۔جلدی میں ہم اس کا فون نمبر  یا  گھر کا پتہ بھی نہیں لے سکے۔اس خاتوں سے اب شاید ہی ملاقات ہو ۔بہر جال بے چاری برے حالات کی شکار ہے۔شاید زندگی اسی کا نام ہے یہی سوچتے سوچتے ہم اپنی منزل تک پہنچ گئے۔
’’کئی دن اسی طرح گزرگئے  اور ہم تقریبا اس خاتون کو بھول چکے تھے کہ اچانک ایک دن اسی اسٹاپ پر ہماری شمع سے پھر ملاقات ہوگئی۔ہمیں دیکھ کے وہ تقریبا دوڑکر ہماری طرف بڑھ گئی اور کہنے لگی ۔۔دیدی دیکھ لے خدا نے ہماری ملاقات کر واہی دی۔مجھے آپ سے ملنے کی بڑی خواہش تھی۔۔‘‘
’’خواہش تو مجھے بھی تھی۔۔۔آپ کچھ کہہ رہی تھیں۔۔شمع نے سوال کیا ۔۔۔کچھ نہیں یہ بتائو کہ تمہاری بیٹی کیسی ہے۔۔؟‘‘
’’دیدی کیا بتائو ں۔۔کئی اہسپتالوں کے چکر لگا چکے ہیں۔ کبھی ڈاکٹر آپریشن کا کہتے ہیں اور کبھی ۔۔۔سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کیا جائے۔پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں آپ ایک باہمت خاتوں ہیں اور اتنی مایوس۔ ایسا کیوں؟۔۔‘‘دیدی حالات انسان کے بس سے باہر ہوجائیں تو انسان کو کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔۔۔ارے نہیں ایسا نہیں سوچتے۔۔ میرے ایک جاننے والے ڈاکٹر ہیں، بیٹی کو اس کے پاس لے جائیں۔۔۔ہم نے اسے ڈاکٹر کا نام  اور پتہ بتا دیا۔۔
’’اور آپکے شوہر کا کیا حال ہے؟‘‘
وہ پہلے جیسے ہی ہیں۔۔اس دن آپ نے جلدی میں کچھ نہیں بتایا ۔اب بتا ئیں کہ آپ کے گھر والوں نے آپ سے بڑی عمرکے شخض کے ساتھ شادی کیوں کرا دی ۔۔کوئی مجبوری تھی۔۔مجبوری کا مجھے علم نہیں۔ ہاں! یہ جانتی ہوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ میں اپنے والدین کے غلط فیصلے کی بھینٹ چڑھا دی گئی۔۔۔جن دنوں مجھ میں اچھا برا سمجھنے کی تمیز نہیں تھی ۔۔میرا بیاہ کر دیا گیا اور وہ بھی ۔۔۔
تعجب  ہے۔۔آخر انہوں نے کیا دیکھ کریہ رشتہ کیا۔۔شمع نے جواب دیا کہ انہوں نے اپنی ذات اور قبیلے میں میری شادی کرنے کو تر جیح دی ۔۔باقی آگر آپ یہ خیال کریں کہ وہ کوئی دولت مند شخص ہیں، ایسا ہر گز نہیں ہے۔۔شمع کی باتوں سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ اس شادی سے خوش نہیں ہیں۔اپنے بڑوںکی بات کا مان رکھنے کے لئے وہ اسے نبھارہی تھی ۔شمع نے بتایا کہ اس کی بیٹی کے علاوہ ان کے تین چھوٹے چھوٹے بچے  ہیں۔سب سے چھوٹا دو سال کا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ شوہر کی بیماری کے بعد وہ انپے بھائیوں کے پاس چلی گئی تھی۔ ان کا اچھا خاصا کاروبار ہے۔ انھوں نے ہمیں اپنے اہل وعیال کے ساتھ رکھا ہوا ہے اور ہماری ہر اک خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔بھائی توبھائی ہے میرے جگر کے ٹکڑے لیکن ان کی بیویاںنہ جانے کب کوئی  ایسی بات کہہ دیں کہ میرے غیرت کا  نازک محل چور چور ہوجائے، اس لئے میں کام بھی کرتی ہوں۔ چونکہ میرے والدین زندہ ہیں ان کے کہنے پرمجھے زمین چھوٹا سا کا ٹکڑا دے دیا گیا جس کی دیکھ بھال میرے ذمہ ہے۔شمع کی ان باتوں کے جواب میں ہم نے اسے مشورہ دے ڈالا کو تم یہ زمین  اپنے نام کر والو ۔۔آپکے بچے چھوٹے  ہیں اور شوہر بیمار ہے۔کل کو آپکے کام آئے گا۔۔دیدی آپ کی یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے لیکن  میں ایسا نہیں کرسکتی۔ میں اپنے بھائیوںسے کسی قسم کا حصہ نہیں لے سکتی ۔میں نے تو ساری عمر بھائیوںسے لے کر ہی کھانا ہے۔ اگر میں آج  تھوڑا بہت حصہ اپنے نام کروالوں گی تو ان کی نظروں سے گر جائوں گی۔شمع کی دور اندیشی  سے ہم کافی حد تک متاثر ہوئے۔اتنی باتوں اور کوشش کے باوجود ابھی تک ہم اس بے جوڑ شادی میں ہی الجھے ہوئے تھے  اور طرح طرح کے سوالوں  سے اس کے وجود کو تلاش  کرنے کی کوشش  کر رہے تھے۔ہم نے ایک بار پھر اسے تلاشنے کی کوشش کرکے شمع سے پوچھ ڈالا کہ تم اب تک ہماری باتوں سے  یہ اندازہ لگا ہی چکی ہوں گی کہ ہم آپ کو کسی مشکل میں نہیںڈالیں گے لیکن آپ نے ہمیں ایک مشکل میں ضرور ڈالا  ہے جو آپ ہمیں بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہی ہوں۔
’’نہیں دیدی۔۔آپ غلط سمجھ رہی ہیں ۔۔آپ کو کیسے سمجھائوں کہ میں نے آپ سے کوئی بات نہیں چھپائی ۔۔یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوںسے آب رواں جارہی ہوچکا تھا، جس کو چھپانے کے لئے اس نے اپنا منہ دوسری طرف پھر لیا  اورصرف اتنا بولی کہ میرے والدین کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے کہ انھوں نے اپنی شمع کو تیز آندھیوں کے حواے کر دیا ہے۔‘‘
���
رعناواری سرینگر، موبائل نمبر؛،9103654553