تازہ ترین

بے موت مرگ

کہانی

تاریخ    23 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


پرویز یوسف ؔ
زندگی ایک ایسا سفر ہے جس کی اُلجھنیں سُلجھاتے سُلجھاتے انسان کی عمر گزر جاتی ہے مگر پھر بھی وہ اسے سُلجھا نہیں پاتا ،کچھ خواہشیں ،کچھ ارمان حسرت بن کے رہ جاتے ہیں ۔دراصل زندگی ایک بے مروت سفر ہے۔  اس سفر میں کوئی منزلِ مقصود تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو کوئی راستے کی بھول بھلیوں میں کھو کر رہ جاتا ہے، نتیجتاًاسے منزل ہی نہیں ملتی۔
ہر روز کی طرح آج جب میں آفس کی طرف روانہ ہوا تو میری ملاقات نیلو نامی ایک لڑکی سے ہوئی، جسے ہمارے آفس میں بطورِ چپراسی نوکری ملی تھی ۔نہایت کم عمر اس لڑکی کو دیکھ کر مجھے کافی افسوس ہوا ۔کیوں کہ نہ جانے اتنی سی عمر میں ایسی کون سی مشکل آن پڑی تھی جسے سنوارنے وہ خود میدان میں اُتری تھی۔اس لڑکی کی عمر سولہ سے اٹھارہ سال کے درمیان تھی مگر کام میں اس کی لگن بڑوں سے کم نہ تھی ۔وہ ہمیشہ خاموش رہا کرتی ،کسی سے کوئی بات چیت نہ کرتی اور اپنا کام ختم کر کے سیدھے اپنے گھر کی راہ لیتی ۔اُس کے اس رویے کو دیکھ کر آفس میں سب لوگ اسے گھمنڈی سمجھنے لگے تھے اور اُس سے نفرت کرنے لگے تھے ۔ایک دن میں نے جا کر اس سے اس خاموشی کی وجہ پوچھی تو اس کی آنکھوں سے آنسوں اس قدر بہنے لگے گویا موسلا دھار بارش ہو رہی ہو او ر اس نے درد بھری آواز میں کہا ’’کچھ نہیں صاحب !میں ٹھیک ہوں ‘‘پھر ڈوپٹے سے آنسوں پونچھ کر میری نظروں سے اس قدر اُوجھل ہوئی جیسے کوئی بلا اس کے پیچھے پڑی ہو اور وہ مُڑ کر نہ دیکھ سکی۔میں گھر لوٹا تو میرا سر جیسے بھاری ہو گیا تھا مجھے تیز بخار ہو گیا اور بخا ر اس قدر بڑھتا گیا کہ مجھے آفس سے تین دن کی چھٹی لینا پڑی ۔طبیعت میں بہتری آنے کے بعد جب میں آفس گیا تو معلوم ہوا کہ آج صبح ہی نیلو کے گھر سے اس کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی پائی گئی اور ساتھ ہی ساتھ ایک suicideنوٹ ملا تھا، جس پر صرف اتنا لکھا تھا ’’میں زندگی کی اُلجھنوں سے نہایت تنگ آکر یہ قدم اُٹھا رہی ہوں ۔شاید خدا بھی مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا ‘‘۔میں نے یہ سنُ کر جلدی سے نیلو کے گھر کی طرف رُخ کیا تو وہاں اس کے کفن دفن کی تیاریاں ہو رہی تھیں ۔میں نے پاس بیٹھے ایک شخص سے نیلو کے بارے میں دریافت کرنا چاہا تو اس نے کہا کہ نیلو کے ماں باپ کا پچھلے سال ہی ایک حادثہ میں انتقال ہو گیا تھا، تب سے نیلو اکیلے ہی رہا کرتی تھی ۔اس شخص کی زبان سے مزید یہ اطلاع بھی حاصل ہوئی کہ مرحومہ کے سر پر اپنے والد کے قرض کا بوجھ بھی تھا،جسے وہ آسانی سے چکا نہیں پا سکی کیوں کہ دفتر میں اسے اتنی تنخواہ ملتی تھی جس سے وہ صرف نجی اخراجات پورا کرپاتی تھی یعنی وہ مشکل سے گزارہ کرتی تھی۔شاید اسی لیے تنگ آکر نیلو نے اتنا پڑا قدم اُٹھایا ہوگا۔
یہ باتیں سُن کر میرا دل بھاری بھرکم ہو گیا گویا کوئی چوٹ میرے دل پہ آئی ہو ۔میں اس واقعہ کے بعد اس سوچ میں پڑ گیا کہ کس طرح اور کس نظر سے ہم دوسروں کو اپنے ترازومیں تولنے کی کوشش کرتے ہیں ۔دراصل یہ سب نظروں اور ہماری سوچ کا قصور ہوتا ہے۔خیر جن لوگوں کو ہم غلط انداز سے دیکھتے ہیں اور جن لوگوں کو ہم گھمنڈی اور مُتکبر سمجھتے ہیں ان میں دراصل تکبر یا غرور نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کی نظروں کا قصور اور دھوکہ ہوتا ہے ۔’’جس تن لاگے سو تن جانے‘‘کے مصداق عام لوگ درد کے ماروں کا درد کیا جانیں وہ کن کن طوفانوں اور اندھیروں کے تھپیڑے کھا کھا کر اپنے کنارے بھول کر منجھدار میں آگھرے ہوتے ہیں۔ یہی کچھ نیلو بیچاری کے ساتھ بھی ہوا ہوگا ۔اگر ہم کسی کی خاموشی کا مذاق اُڑانے کے بجائے اس کی اس خاموشی کی وجہ جاننے کی کوشش کریں توشاید پھر کسی نیلو کو گلے میں پھندا ڈال کر خود کو لٹکانا نہ پڑے گا۔ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کی بھی خاموشی کو اس کے پاگل پن یا غرور سے تشبیہ نہ دیں ۔کسی کی بھی خاموشی اس کا پاگل پن نہیں ہوتا بلکہ اس کی مجبوری ہوتی ہے ۔مجبوریاں تو بڑے بڑے تجربہ کار اور جہاں دیدہ انسانوں کو بھی توڑ دیتی ہیں ۔خیر یہ تو پھر ایک معصوم سی لڑکی تھی ۔
میں آخری بار نیلو کا چہرہ دیکھنے کے لیے نزدیک گیا تو دیکھا کہ نیلو کے چہرے سے معصومیت کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں مگر ساتھ ہی ساتھ ایک عجب سا سکون بھی طاری تھا۔مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس سکون کے پیچھے چُھپی آواز مجھ سے کہہ رہی ہو، صاحب! آج میں بہت خوش ہو ں میرا سارا قرضہ اُتر گیا ۔
اس خیا ل کو لئے میں جنازے کے پیچھے پیچھے چلتا گیا ۔ذہن میں یہ باتیں آتی رہیں کہ کس طرح درمیانہ طبقے سے وابستہ لوگ اپنی خواہشوں ،اپنے خوابوں ـ،ادھوری تمناؤں اور حسرتوں کو دل ہی دل میں دبا کر موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں اور دل کے ارمان اور حسرتیں جیتے جی آنسوؤں میں بہہ جاتے ہیں اور ان کی تکمیل موت تک نہیں ہوتی۔
���
عارضی لیکچرر گورنمنٹ ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول چندوسہ بارہ مولہ
موبائل نمبر:۔9469447331