تازہ ترین

بندشوں میں نرمی کا سر نو جائزہ لازمی: ٹریڈ الائنس

تاریخ    20 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر// کشمیر ٹریڈ الائنس نے صوبائی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران وادی کی تباہ کن معیشت کو مد نظر رکھتے ہوئے50فیصد کاروباری سرگرمیوں کے برعکس صد فیصد کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدراعجاز احمد شہدار نے کہا کہ مہلک وباء کورونا وائرس کے نتیجے میں گزشتہ5ماہ سے شٹر ڈائون کے نتیجے میں دکانداروں کو قریب4ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا،جبکہ گزشتہ برس بھی انہیں5اگست کے بعد پیدہ شدہ صورتحال سے اسی قدر نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔انہوں نے انتظامیہ کی جانب سے نصف بازاروں کو کھولنے کی اجازت دینے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کورونا خطرات کے خدشات کا دکانداروں اور تاجروں کو بھی اندازہ ہے تاہم اس کیلئے دکانوں کے شٹر ڈائون کرنا کوئی بھی حل نہیں ہے۔شہدار نے کہا کہ انتظامیہ کو از خود بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ گزشتہ ایک سال کی مالی صورتحال نے دکانداروں اور عام لوگوں کی کم توڑ کر رکھ دی ہے،اس لئے قوت خرید میں حد درجہ کمی واقع ہوئی۔انہوں نے کہا کہ صد فیصد دکانوں کو کھولنے سے بازاروں میں ناہی بھیڑ جمع ہوگی اور نا ہی خریداروں کی قطاریں لگے گی،کیونکہ عام ایام میں جس طرح کی خریداری ہوتی تھی،اس شرح کی30فیصد خریداری بھی ان ایام میں نہیں ہوتی،اس لئے بھیڑ اور ہجوم دکانوں میں جمع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اعجاز شہدار کا کہنا تھا کہ دکاندار پہلے ہی حکومتی رہنمائے خطوط اور ضوابط پر عملدرآمد کر رہے ہیں،جس کے نتیجے میں خریداروں اور تاجروں کو احتیاط بھرتنے  سے متعلق آگاہی بھی کی جاتی ہیں۔ شہدار نے صوبائی انتظامیہ کے علاوہ مشیروں کو بھی اس معاملے میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس کا سر نو جائزہ لینے پر زور دیا۔