تازہ ترین

مستقل ملازمت کیلئے روزگار پالیسی مرتب کی جائے

کالج کنٹریکچول لیکچرروں کی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس

تاریخ    18 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//کالجوں میں تعینات کنٹریکچول لیکچرروں کی مستقل ملازمت کیلئے روزگار پالیسی اور ٹھوس نقشہ راہ مرتب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کالج کنٹریکچول ٹیچرس ایسو سی ایشن نے محکمہ اعلیٰ تعلیم پر انکامستقبل تاریک بنانے کا الزام عائد کیا۔سرینگر کی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کالج کنٹریکچول ٹیچرس ایسو سی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر محمد اقبال راتھر نے حکام سے مطالبہ کیا کہ انکی خدمات کو بغیر خلل جاری رکھا جائے،جس طرح محکمہ طبی تعلیم میں تدریسی انتظامات کے تحت تعینات ملازمین کی جاری رکھی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کالج اساتذہ نے اپنی زندگی کا بہتر وقت کالجوں میں درس و تدریس میں صرف کیا۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا’’جب بھی انتظامیہ ،حکومت اور بیروکریسی سے جائز مطالبات کیلئے رجوع کیا گیا تو انہوں نے صرف یقین دہانیاں دیں‘‘۔ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا کہ سال 2010میں جب اس وقت کی حکومت نے ’’سیول سروسز سپیشل پرویژن ایکٹ‘‘ لایا تو اس سے قبل ہی حکومت وقت نے کنٹریکچول کا لفظ حذف کرکے انتظامی بندوبست اس ملازمت کے ساتھ چپکا دی،جس کے نتیجے میں وہ قانون کے دائرے میں نہیں آئے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کمشنر سیکریٹری اعلیٰ تعلیم کے ساتھ تبادلہ خیال کا سلسلہ شروع ہوا،جو10سال بعد بھی جاری ہے،تاہم کالج کنٹریچول لیکچرروں کی امیدیں بھر نہیں آئیں۔ ڈاکٹر راتھر کا کہنا تھا کہ بعد میں انہوں نے عدالت سے بھی رجوع کیا،جس کے دوران عدالت نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ جب تک اس کیس کی سماعت پوری نہیں ہوتی،تب تک  امیدواروں کی خدمات کو جاری رکھا جائے،تاہم انہوں نے کہا کہ نت نئے بہانوں سے انہیں کالجوں سے یہ کہکر بے دخل کیا جا رہا ہے کہ وہ اضافی عملے میں آتے ہیںاور انکی ضرورت پڑنے پر انہیں طلب کیا جائے گا۔ 
 

تازہ ترین