تازہ ترین

۔5ماہ بعد بازار کھل گئے، مسافر ٹریفک چل پڑا

احتیاطی تدابیر کی دھجیاں اڑائیں گئیں، سماجی دوری رکھی گئی نہ ماسک پہنے گئے

تاریخ    18 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی
 سرینگر// سرینگر انتظامیہ کی جانب سے پیر کو 50فیصد کاروباری سرگرمیوں کی اجازت کے کے بعدشہر کے علاوہ وادی کے پیشتر علاقوں میں بیشتر دکانیں اور کاروباری ادارے کھل گئے جبکہ5ماہ کے بعد مسافر ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر نظر آیا۔تاہم ماسکوں کا استعمال نظر نہیں آیا اور شہر سرینگر میں ایسا گماں بھی نہیں ہورہا تھا کہ یہاں ہر روز تین سے 4سو متاثرین کا اضافہ ہورہا ہے۔نہ سماجی دوری اختیار کی گئی اور نہ احتیاطی تدابیر پر عمل کیا گیا۔ضلع انتظامیہ نے گزشتہ روز حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ4اگست کے ضوابط کے تحت سرینگر میں50فیصد کاروباری سرگرمیاں معیاری عملیاتی طریقہ کار کو عملاتے ہوئے شروع کرنے کی اجازت ہوگی،جبکہ چھوٹی مسافربردار گاڑیوں کو بھی سڑکوں پر ضوابط کے تحت چلنے کی اجازت دی گئی تھی۔پائین شہر اور سیول لائنز میں پیر کو صبح سے ہی بیشتر دکانیںکاروباری مراکز اور بازار کھل گئے اور کافی عرصے کے بعد ان بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں دیکھنے کو ملی۔ بازاروں میں خریداروں کی اچھی خاصی تعداد بھی خرید و فروخت کرنے میں مصروف تھی،تاہم زیادہ تر اشیائے خوردنی کی دکانوں پر لوگوں کا زیادہ دبائو تھا۔ لال چوک ، ریذیڈنسی روڑ، گونی کھن صرافہ بازار ، ککر بازار اور جہانگیر چوک میں دکانیں کھل گئیں۔پائین شہر کے بیشتر بازاروں میں بھی دکانیں کھل گئیں۔اس دوران سڑکوں پر کافی عرصے کے بعد مسافربردار ٹاٹا گاڑیاں نظر آئیں۔ ضلعی سڑکوں پر بھی چھوٹی بڑی مسافربردار گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی تھیں۔ گاڑیوں اور بازاروں میں تاہم کرونا وائرس کی روکتھام کیلئے جاری کئے گئے ضوابط پر بہت کم عمل درآمد ہورہی تھی،اور بیشتر لوگ ماسکوں کے بغیر ہی سفر کرتے ہوئے جہاں نظر آئے وہی خریداری کے دوران بھی انہوں نے ماسکوں کا استعمال نہیں کیا تھا۔
 

تازہ ترین