تازہ ترین

مغل روڑ کی متواتر بندش| کشمیر ی تاجرراجوری پونچھ کے مارکیٹ سے بھی محروم

سبزیاں، پھل اور میوہ جات پیر پنچال نہ پہنچ سکے، دکاندار اور عام لوگ متاثر

تاریخ    16 اگست 2020 (00 : 02 AM)   
(File Photo)

اشفاق سعید
سرینگر//ایک کے بعد ایک لاک ڈائون کے نفاذ کے باعث شدید معاشی بحران سے دوچار کشمیر یوںکے ہاتھ سے راجوری پونچھ کا مارکیٹ بھی نکل گیاہے کیونکہ مغل شاہراہ پر عائد بندشوں سے پھلوں و سبزیوں سمیت کشمیر کی دیگر مصنوعات براہ راست خطہ پیر پنچال نہیں پہنچ رہی  ہیں۔پچھلے لگ بھگ دس برسوں سے موسم گرمامیں مغل شاہراہ کے راستے ہزاروں ٹن سبزیاں ، میوہ، بیکری، کپڑا، کریانہ اشیاء، اور دیگر ہر قسم کی چیزیںراجوری پونچھ جاتی تھیں۔حتی کہ عید کی خریداری بھی شوپیان یا سرینگر میں کی جاتی تھی۔ اس بارمغل شاہراہ کو کورونا کی بھینٹ چڑھادیاگیااور اس کی بندش سے نہ صرف کشمیر کی تاجر براداری کو نقصان ہورہاہے بلکہ راجوری اور پونچھ کے دکاندار دوگنی قیمتوں پر سامان خریدنے پر مجبور ہیں ۔ مرکزی حکومت کی طرف سے تمام سڑکوں کو کھولنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیںلیکن نا معلوم وجوہات کی بناپر مغل شاہراہ کو بند رکھاگیاہے۔ باوجود اس کے کہ راجوری و پونچھ اضلاع میں کورونا معاملات کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے اور مغل شاہراہ بند رکھنے کی حکمت عملی ناکام ہوچکی ہے ۔اگرچہ دونوں خطوں کے عوام کی طرف سے بارہا یہ مطالبہ کیاگیاہے کہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ مغل شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت  شروع کی جائے لیکن حکام نے ابھی تک کوئی بھی فیصلہ نہیں لیا ہے۔جموں اور کشمیر کے درمیان ایک بہترین متبادل کی حیثیت والی مغل شاہراہ کو بند رکھنے سے کشمیر کی تاجر برادری کس طرح سے متاثر ہورہی ہے ،اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے ۔فروٹ منڈی شوپیان کے سابق صدر پیر محمد امین نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ مغل شاہراہ کے بند رہنے سے سبزی فروشوں اور فروٹ گروورس کو زبردست مالی مشکلات کاسامناہے۔ان کاکہناہے کہ اس سڑک کوپورے سال کیلئے کھلارکھاجائے کیونکہ یہ ایک بہترین متبادل شاہراہ ہے ۔انکاکہناتھاکہ پونچھ اور راجوری کیلئے مغل شاہراہ کے ذریعہ بڑے پیمانے پر سبزی اور پھل پہنچائے جاتے تھے لیکن سڑک پر بندشوں سے یہ سلسلہ رک گیاہے ۔انہوں نے کہاکہ خطہ پیر پنچال میں سبزیوں اور پھلوں کی زیادہ کھپت ہوتی ہے اور اس سے قبل جب بھی مغل شاہراہ کھلی ہوتی تھی تو سبزی اور پھلوں کے کاروبار سے جڑے افراد کو کافی فائدہ پہنچتاتھا۔پیر محمد امین نے بتایاکہ بڈگام اور چاڈورہ کے دیگر علاقوں سے سبزی فروش اپنی گاڑیوں کے ذریعہ پونچھ اور راجوری لیجاتے تھے لیکن اس بار شاہراہ کے مسلسل بند رہنے کی وجہ سے وہ بھی اپنا مال نہیں لے پائے ۔انہوں نے مزید بتایاکہ آڑو کی فصل کے حوالے سے راجوری اور پونچھ کی مارکیٹ بہت اہم ہے کیونکہ آڑو زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتا اور اس کی ساری کھپت خطہ پیر پنچال میں ہوتی تھی جو بری طرح متاثر ہوئی ہے۔جموں وکشمیر فروٹ گروورس ایسو سی ایشن کے صدر بشیر احمد بشیر نے کہا’’مغل شاہراہ کے بند ہونے سے نقصان ہورہاہے کیونکہ ہمارے پاس کوئی متبادل سڑک نہیں ہے،سال کے چھ ماہ کیلئے یہ سڑک کھولی جاتی تھی جس سے مالبردار گاڑیوں اور فروٹ کے کاروبار سے جڑے لوگوں کو فائدہ پہنچتاہے ،ہم نے کئی مرتبہ حکومت سے یہ معاملہ اٹھایااوراسے نیشنل ہائی وے کا درجہ دینے کی ضرورت ہے ،اس سے وادی کشمیر اور خطہ  پیرپنچال دونوں کو فائدہ ہوگا‘‘۔انہوں نے کہاکہ پیر گلی سے ٹنل تعمیر کرکے اس شاہراہ کو پورا سال کھلارکھاجاناچاہئے تاکہ وادی خاص طور پر جنوبی کشمیر کا سامان آسانی سے پیر پنچال پہنچ سکے ۔فروٹ منڈی شوپیاں کے جنرل سیکریٹری شکیل احمد نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ مغل شاہراہ سے فروٹ جارہاہے لیکن خطہ پیر پنچال کیلئے نہیں بلکہ باہر کیلئے ۔انہوں نے بتایاکہ اکا دکا گاڑیاں جارہی ہیں جس کے نتیجہ میں فروٹ اور سبزی کے کاروبار سے جڑے افراد متاثر ہورہے ہیں ۔اس سلسلے میں جب صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے سے بات کی گئی تو وٹس ایپ پر پیغام بھیجنے کا کہاتاہم پھر وٹس ایپ پر کوئی جواب نہیں دیا ۔
 

تازہ ترین