تازہ ترین

وادی کے طول و عرض میں ہُو کا عالم

سخت ترین بندشوں اور حفاظتی بندو بست سے لوگ محصور

تاریخ    16 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// وادی میںسرکاری ناکہ بندی اور بندشوں سے 15اگست کے روزاہل وادی گھروں میں محصوررہے جبکہ شہرسرینگراورتمام ضلعی ہیڈ کوارٹروں پر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کے دوران تقریبات منعقد کی گئیں۔ سنیچر کو وادی میں ہو کا عالم رہا۔ سیکورعٹی کے اس قدر سخت انتظامات کئے گئے تھے کہ سڑکیں سنسان اور بازار ویران رہے جبکہ تجارتی اور کاروباری مراکز میں دن بھر الو بولتے رہیں ۔شہرخاص اور سیول لائنز علاقوں میں سخت ناکہ بندی اور سونہ وار کرکٹ اسٹیڈیم میں مرکزی تقریب کے پیش نظر سرینگر میں پولیس اورسی آرپی ایف نے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کررکھی تھیں جس کے نتیجے میں پورے شہرکی سڑکوں پرسناٹاچھایارہا ۔ شہر کی سڑکوں پر صرف فورسز اور پولیس کی گاڑیاں چلتی رہیں ۔ شہر کے داخلہ پو ائنٹوں پر حفاظت کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اوراب اکثر راستے سیل کئے گئے تھے۔ دوپہر کے بعدسڑکوں پر اکا دکا راہ گیر چلتے دیکھے گئے۔سب ستے بڑی تقریب کی جگہ سونہ وار اسٹیڈیم کو دو روزقبل ہی سیکورٹی ایجنسیوں نے اپنی تحویل میں لے رکھا تھا ۔سرینگر کے مختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراہوں پر بھی کئی مقامات پر پولیس اور فورسز اہلکاروں کو جگہ جگہ تعینات رکھا گیا تھا ۔ اِدھر شمالی کشمیر کے بارہمولہ، کپوارہ، اوڑی، بانڈی پورہ، ہندوارہ اور سوپور میں بھی مکمل طور پر ہڑتال رہی اور سڑکیں صحرائی منظر پیش کر رہی تھیں اور اس دوران کسی بھی شخص کو سڑکوں پر چلتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔کاروباری و نجی ادارے ، بینک ،پیٹرول پمپ اور دیگر کاروباری مراکز بھی مکمل طور پر بند رہے ۔ اس دوران سنیچر کو پائین شہر کے رعناواری جوگی لنکر علاقے میں دوسرے روز بھی پولیس ، فورسز اور نوجوانوں کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں ۔جمعہ کے بعددوسرے روز بھی نوجوانوں کی ٹولی نے پولیس سٹیشن پر شدیدپتھرائو کیا جس کے بعد پولیس  وسی آر پی ایف کے اہلکاروں نے مشتعل نوجوانوں کا تعاقب کرتے ہوئے اشک آور ، مرچی گیس اور پیلٹ گن کا استعمال کیا ۔ فریقین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا ۔
 

تازہ ترین