تازہ ترین

راجوری کے نوجوانوں کی مبینہ ہلاکت کا معاملہ

مجسٹریٹ کے سامنے تینوں خاندانوں کے ڈی این اے نمونے حاصل

تاریخ    14 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


سمت بھارگو
راجوری//راجوری کے ان تین نوجوانوں کے کنبوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کئے گئے ہیں جو 18 جولائی کے بعد شوپیاں انکائونٹر سے لاپتہ ہیں۔ان کنبوں کے ڈی این اے نمونے گورنمنٹ میڈیکل کالج وہسپتال راجوری میں لے گئے جنہیں کشمیر کے ضلع شوپیاں سے آئی ڈی ایس پی شوپیان کی قیادت میں پولیس کی تفتیشی ٹیم نے جمع کیا۔تین نوجوان محمد امتیاز اور ابرار احمدساکنان دھار ساکری اور محمد ابرار ساکن ترکسی آپس میں رشتہ دار ہیں اور وہ کشمیر کے شوپیاں ضلع میں مزدوری کرنے کی غرض سے گئے تھے۔17 جولائی کی شام کے بعد ان کے اہل خانہ سے ان کارابطہ نہیں ہوا۔گذشتہ پچیس دن سے تین لڑکوں کے پراسرار لاپتہ ہونے کے معاملے میں ان کے اہل خانہ کی جانب سے راجوری کے پیری میں پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی اطلاعات درج کرائی گئیں جبکہ سوشل میڈیا رپورٹس میں یہ دعوے کئے جارہے ہیں کہ یہ تینوں لڑکے 18 جولائی کو ایک انکائونٹر میں مارے گئے ۔دریں اثنا ، جمعرات کے روز شوپیان پولیس کی ایک ٹیم اس معاملے کی تفتیش کر نے راجوری پہنچی جس نے پولیس اور سول انتظامیہ کے افسران سے ملاقات کی جہاں تینوں خاندانوں کے ممبروں کو پہلے ہی بلایا گیا تھا۔ تفتیشی ٹیم نے کنبہ کے کچھ افراد کے بیانات بھی قلمبند کئے۔ذرائع نے بتایا’’بعد ازاں کنبہ کے افراد کو جی ایم سی راجوری لے جایا گیا جہاں ان کے ڈی این اے نمونے لئے گئے‘‘۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈی این اے کے کل چھ نمونے لئے گئے ، جن میں محمد امتیاز ولد محمد یوسف اور ابرار احمد ولد صابر حسین کے والدین کے نمونے اور ابرار احمد کے بھائی اور والدبگا خان کے کے نمونے شامل ہیں۔ضلع مجسٹریٹ راجوری محمد نذیر شیخ نے بتایا کہ پولیس کی ایک تفتیشی ٹیم نے لاپتہ نوجوانوں کے کنبہ کے افراد کے ڈی این اے نمونے اکٹھا کرنے کے لئے ضلع انتظامیہ سے رابطہ کیا جس کے بعد جی ایم سی راجوری میں مجسٹریٹ مقرر کیا گیا جس کی موجودگی میں یہ نمونے لئے گئے۔انہوں نے بتایا’’ہمارا کردار صرف ڈی این اے نمونے لینے میں مدد فراہم کرنا تھا اور یہ کشمیر پولیس کی تحقیقاتی ٹیم ہے جو معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے‘‘۔
 

فون کالوں کی تفصیلات بھی جمع کی جائینگی

ڈی این اے نموں کو ملایا جا ئیگا: آئی جی

بلال فرقانی
 
سرینگر //انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار نے کہا ہے کہ راجوری کے تینوں نوجوانوں کے فون کالوں کی تفصیلات بھی جمع کی جارہی ہیں۔ سونہ وار کرکٹ اسٹیڈیم میں 15اگست کی مناسبت سے منعقدہ فل ڈریس ریہرسل کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ پولیس کے ایک ٹیم ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کی سربراہی میں پیرو پولیس چوکی پر 3 مزدوروں کے اہل خانہ کے ذریعہ لاپتہ ہونے والی اطلاعات کے پیش نظر قانونی لوازمات پورا کرنے کیلئے ضلع راجوری روانہ ہوئی ہے اور پولیس دو پہلوؤں پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس مہلوکین کے ڈی این اے نمونے ان خاندانوں کے’’ ڈی این اے‘‘ نمونوں کے ساتھ ملائے گی،جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ انکے بچے ہیں اور ان کی فون کالوں کی تفصیلات کی جانچ کرے گی تاکہ معلوم ہو کہ آیا وہ جنگجوئوںکے ساتھ رابطے میں تو نہیں تھے۔