ایل جی کی لن ترانیاںبے بنیاد : اکبرلون

تاریخ    14 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


سرینگر// نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں گذشتہ 70 برسوں کے دوران ترقیاتی منظرنامے سے متعلق لیفٹیننٹ گورنر کی لن ترانیوں کی کوئی بنیاد نہیں اور تاریخی حقائق اُن کے دعوئوں سے میل نہیں کھاتے ۔ان باتوں کا اظہار پارٹی کے رکن پارلیمان  محمد اکبر لون نے اپنے ایک بیان میں کیا جس میں موصوف نے کہا کہ گذشتہ70برسوں میں جموں وکشمیر کو کیا ملا اس کا محاسبہ کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر نے گذشتہ70سال سے بہت کچھ حاصل کیا تھا لیکن بھاجپا نے جمہوریت اور آئین کا گھلاگھنوٹ کو اس تاریخی ریاست کو اندھیروں میں دھکیلنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اگر لیفٹنٹ گورنر نے آزادی کے بعد کی جموں وکشمیر کی تھوڑی سی بھی تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا تو وہ اس طرح کے لاعملی پر مبنی دعوے نہیں کرتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ان دعوئوں کو ہلکے میں نہیں لیا جانا چاہئے، یہ افسانہ نگاری اور جھوٹا پروپیگنڈا گذشتہ سال 5اگست کو کئے گئے غیر آئینی اور غیر جمہوری اور سرے سے ہی ناکام اقدامات کو جواز بخشنے اور صحیح جتلانے کے بڑے منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔ زمینی سطح پر جمہوریت کو مستحکم کرنے اور اداروں کو بااختیار بنانے سے متعلق موصوف کے دعوے بھی جموں و کشمیر میں موجودہ زمینی صورتحال سے میل نہیں کھاتے۔انہوں نے کہا کہ پتہ نہیں لیفٹینٹ گورنر کس جمہوریت کی نشاندہی کررہے ہیں۔ گذشتہ سال سے ہم نے عوامی نمائندوں، اراکین پارلیمان، سابق ممبرانِ اسمبلی، سابق وزرائے اعلیٰ اور دیگر سیاسی کارکنوں کو نظربندہی دیکھا ہے۔ لوگوں کو یہ بھی یاد ہے کہ کس طرح سے گذشتہ سال سیاسی جماعتوں کو ایک منتخب حکومت بنانے سے روکا گیا اور اس کیلئے جمہوریت کو تار تار کرکے اسمبلی کو تحلیل کیا گیا۔ جموں وکشمیر میں محض دکھاوے کیلئے پنچایتی انتخابات کرائے گئے اور اس میں بھی آج تک 12000پنچایتی نشستیں خالی پڑی ہیں اور حکومت اب دکھاوے کے انتخابات کرانے سے بھی قاصر ہے۔انہوں نے کہا کہ لیفٹینٹ گورنر گذشتہ2سال کے دوران مضبوط کی گئی کس جمہوریت کے بارے میں بات کررہے ہیں؟ہم نے گذشتہ دو سال کے دوران وہ جمہوریت بھی دیکھی جب ایک عہدے پر انتخابات ہونے سے پہلے ہی منتخب ہونے والے شخص کے نام کا اعلان کیا گیا۔ محمد اکبر لون نے کہا کہ لیفٹنٹ گورنر کایہ کہنا کہ جموں وکشمیر نے گذشتہ70سال میں کیا حاصل کیا ، انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ 30سالہ پُرآشوب دور سے گزرنے کے باوجود بھی جموں وکشمیر ملک کی ترقی یافتہ ریاستوں میں شامل ہوتی ہے ۔ 1990سے قبل جموں وکشمیر مہاراشٹرا، دلی، کولکتہ اور دیگر بڑی ریاستوں کیساتھ مقابلے کی جانب گامزن تھی۔ محمد اکبر لون نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بیشتر ریاستوں کے مقابلے بہت ہی اچھا تعلیمی شعبہ، طبی شعبہ اور بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اور اس میں سے بیشتر کام نیشنل کانفرنس کی حکومتوں کے دوران ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 1996تک پُرآشوب دور کے دوران یہاں بنیادی ڈھانچہ ختم ہوگیا تھا ۔ اس کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سربراہی والی حکومت نے یہاں نیا ڈھانچہ قائم کیا اور ریاست کو دوبارہ تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کیا اورپھر 2009سے 2014تک عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت نے ہر شعبہ میں جتنا کام کیا اُتنا 60سالہ تاریخ میں نہیں ہوا تھا۔ اکبر لون نے کہا کہ گورنر کا یہ کہنا کہ ،ہم نے گذشتہ70سال میں کیا حاصل کیا ہے، زمینی حقائق کے عین برعکس اور محض ہوا میں تیر مارنے کے مترادف ہے۔ 
 

تازہ ترین