سیلف ہیلپ گروپوں کوختم کرنے کا فیصلہ

۔ 15ہزار افراد کی بے روزگاری کا خدشہ ،سیاسی جماعتیں برہم

تاریخ    14 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


 نیشنل کانفرنس کااحتجاج

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے جموں و کشمیرمیں سیلف ہیلپ گروپ اسکیم کو ختم کرنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب حکومت مزید نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کا دعویٰ کررہی ہے اور اس کے برعکس حکومت 17 سالہ پرانی اسکیم کو ختم کرکے 4500 کے قریب انجینئروں کو دروازہ دکھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس وقت اٹھایا جا رہا ہے جب کورونا وائرس نے نجی شعبے میں ہزاروں ملازمتیں ختم کردی ہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے تقریبا 4500 انجینئر بے روزگار ہوجائیں گے۔اس اسکیم کو جموں وکشمیر کی حکومت نے 2003 میں شروع کیا تھا اور سرکاری محکموں ، کارپوریشنوں اور خود مختار اداروں میں رائج تھی۔عمران نبی ڈار نے کہا کہ سیلف ہیلف گروپ سکیم کو ختم کرنے سے حکومت نے نہ صرف 4500انجینئروں کو بے روزگار کردیا ہے بلکہ 4500کنبوں کو نان شبینہ کا محتاج بنا ڈالا ہے۔ اس سکیم سے متاثر ہونے والے افراد نہ اپنے کنبوں کی کفالت کر پائیں گے اور نہ ہی اپنے بچوں کو تعلیم دے پائیں گے۔
 

حکومت کافیصلہ تباہ کن :پی ڈی پی

سری نگر//بے روزگار انجینئروں کے سیلف ہیلپ گروپوں کوختم کرنے کے فیصلے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے پیپلزڈیموکریٹک پارٹی نے کہا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے سے ہزاروں بے روزگار ہوجائیں گے۔ایک بیان میں پارٹی کے جنرل سیکریٹری غلام نبی لون ہانجورہ نے کہا کہ جموں کشمیرمیں سیلف ہیلپ گروپوں کاقیام ایک تاریخی فیصلہ تھاجواُس وقت کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے لیاتھااور بعدازاں محبوبہ مفتی نے جب اقتدار سنبھالا توانہوں نے ان انجینئروں کے کام میں 20سے30فیصدتک اضافہ کیاتاکہ ان نوجوانوں کو ترجیحی بنیاد پر بااختیار بنایا جائے۔ ہانجورہ نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ حکومت ایسے عجیب فیصلے لے رہی ہیں جن سے ہزاروں پڑھے لکھے نوجوانوں کا روزگار چھین جائے گااوران کے کنبے موجودہ حکومت کے اقدام سے فاقہ کشی پر مجبور ہوں گے ۔ہانجورہ نے کہا کہ ایسے اقدام حکومت کے ان بلند بانگ دعوئوں اور نعروں کے برعکس ہیں جو وہ5 اگست2019کے بعد جموں وکشمیرمیں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے کررہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ یہ دعوے بے بنیاد اور کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا حکومت لوگوں کوشناخت اورروزگار چھیننے میں محو ہے اورانہیں پشت بہ دیوار کرنے کیلئے نئے طریقے آزمائے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام فیصلے کشمیریوں کو بے عزت کرنے کیلئے بغیر سوچے سمجھے لئے جارہے ہیں ۔ ادھرپی ڈی پی لیڈر انجینئر نذیر احمد یتو نے بے روزگار انجینئروں کیلئے متبادل اسکیم ایس ایچ جی کے خاتمہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس وقت مرکزی سرکار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ جموں وکشمیر میں بیروزگاری کا خاتمہ کیا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت پیشہ ور اور تعلیم یافتہ افراد کو نظر انداز کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے مختلف اسکیموں کے تحت کام کرنے والے انجینئروں کو نوکریوں سے برطرف کر کے انہیں بے روزگاری کی طرف گامزن کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو انجینئروں کی طرف خصوصی دھیان دینا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ایس ایچ جی انجینئروں کو حد سے زیادہ پریشانی کا سامنا ہے اور ان انجینئروں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے ۔
 

ورک کوٹاختم کرناغلط فیصلہ:کانگریس

 سرینگر//جموں وکشمیر پردیش کانگریس نے سیلف ہیلپ گروپوںکے خاتمے کو تانا شاہی حکم قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کو انجینئروں کی روزی روٹی پر حملہ قرار دیا ہے ۔ایک بیان میں پارٹی نے کہاکہ تعمیراتی کام کے شعبے کے ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ وابستہ ہیں ۔پارٹی نے سرکار سے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیرپردیش کانگریس کے صدر غلام احمد میر نے بتایا کہ سیلف ہیلپ گروپوں کا کام ختم کرنا تانا شاہی حکم ہے اور یہ انجینئروں کی روزی روٹی پر حملہ ہے ۔ان کا کہنا تھاکہ ا س وقت تعمیراتی کام کے ساتھ ہماے سینکڑوں لوگ وابستہ ہیں جو روزی روٹی سے محروم ہو جائیں گے ۔میر نے سرکار اور انتظامیہ سے اس فیصلے کو فوری طور واپس لینے کا مطالبہ کیا  ۔میر نے سیلف ہیلپ گروپس کے ورک کوٹا کو ختم کرنے پر یو ٹی انتظامیہ کی تنقید کی اور کہا کہ اس غیر انسانی فیصلے سے ہزاروں تعلیم یافتہ انجینئر بے روزگار ہوں گے۔کانگریس صدر نے اس کوٹا کے خاتمے کو صوابدیدی اور بغیر کسی مشق کے کیا ہوا فیصلہ قرار دیا  ۔ انہوں نے کہا اس غلط فیصلے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اورجموں و کشمیر میں پہلے سے تباہ حال معیشت کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ادھر جموں کشمیرپردیش کانگریس کے نائب صدر اور سابق ممبر قانون سازکونسل غلام نبی مونگا نے جموں کشمیرحکومت کی طرف  سے ا نجینئروں کے سیلف ہیلپ گروپوں کوختم کرنے  اور مختلف محکموں کے انجینئرنگ شعبوں کو تعمیرات عامہ محکمہ کے ساتھ منسلک کرنے کے فیصلے پر شدیدبرہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایسے فیصلوں سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا اور زمینی سطح پر صورتحال چوپٹ ہوجائے گی۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سینکڑوں بے روزگار انجینئران سیلف ہیلپ گروپوں سے مختلف محکموں میں کام کرکے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں اور اس طرح حکومت کے غلط فیصلے سے ان کاروزگار ختم ہوجائے گا ۔انہوں نے کہا کہ یہ سیلف ہیلپ گروپ 2004میں کانگریس کے دورحکومت میں بنائے گئے تھیتاکہ بے روزگار نوجوان انجینئروں کو روزگار کے مواقع فراہم ہواور ان کا جموں کشمیرکی ترقی میں بھی کافی رول رہا ہے ۔ مونگا نے کہا کہ اب اچانک  لیفٹینٹ گورنرکی حکومت نے اس اسکیم کوان انجینئروں کے مستقبل کے متعلق سوچنے کے بغیر ہی ختم کرنے کافیصلہ کیا۔مونگا نے مانگ کی اس فیصلے کو فوری طور واپس لیاجائے۔مونگا نے کہا کہ حکومت نے اسی طرح مختلف محکموں کے انجینئرنگ شعبوں کو محکمہ تعمیرات عامہ کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیاجس سے زمینی سطح پرمزیدصورتحال چوپٹ ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس سے بہت زیادہ الجھنیں پیدا ہوں گی اور ملازمین کی سینارٹی،تنخواہوں میں تفاوت  اور دیگر مسائل جنم لیں گے ۔انہوںنے کہا کہ حکومت کو پہلے متعلقین سے مشاورت کرنی چاہیے تھی تاکہ کسی فیصلہ پر پہنچا جاتا۔مونگا نے کہا کہ جموں کشمیرکے نوجوانوں کے لئے ملازمتوں کو پیدا کرنے کے بجائے بھاجپا حکومت ان کا روزگار چھین رہی ہے جو پہلے ہی برسرروزگار ہیں ۔
 

فیصلہ واپس لیاجائے:تاریگامی

 سرینگر//انجینئروں کے سیلف ہیلپ گروپوں کاخاتمہ بھاجپا کی اُس ہٹ دھرمی کا عکاس ہے جس کامقصد لوگوں کو روزگار سے محروم کرنا ہے۔اس بات کااظہار کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کے رہنما یوسف تاریگامی نے ایک بیان میں کیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ گزشتہ دس سے زایدہ عرصے سے پندرہ ہزارنوجوان انجینئرمختلف محکوں میں ان سیلف ہیلپ گروپوں سے روزگار حاصل کرتے ہیں ۔اڑھائی ہزار سے زیادہ سیلف ہیلپ گروپ مختلف انجینئرنگ شعبوں میں کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف یہ انجینئر ان سیلف ہیلپ گروپوں سے اپنا روزگار کماتے تھے بلکہ جموں کشمیرکی ترقی میں بھی ان کا نمایاں رول تھا۔انہوں نے کہا کہ تیکنیکی اعتبار سے یہ انجینئر ایسے کام انجام دینے کیلئے تربیت یافتہ ہیں اور ان کے کام کرنے سے کیا نقصان پہنچے گا؟  انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بھاجپا اس بات کی متمنی ہے کہ پہلے سے ہی برسرروزگار لوگوں کو بے روزگار کیاجائے ۔تاریگامی نے کہا کہ حکومت کے اس اچانک فیصلے سے ان انجینئروں کے کنبے صدمے سے دوچار ہوگئے ہے ۔انہوں نے اپنے دفاتر قائم کئے ہیں اور عملہ کی خدمات حاصل کی ہیں جن کا روزگار بھی اس سیلف ہیلپ گروپوں سے وابستہ ہے  اور انتظامیہ کے اس فیصلے سے ان کا روزگار بھی چھن جائے گا۔تاریگامی نے کہا کہ بھاجپا نے وعدہ کیاتھا کہ وہ لوگوں کو روزگار فراہم کرے گی لیکن ابھی تک انہوں نے لوگوں کیلئے روزگار کا بندوبست کرنے کے بجائے ان کاروزگار چھیننے کے ہی اقدام کئے ہیں اور اس سے خطے میں نوجوانوں میں غم وغصہ پیداہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیلف ہیلپ گروپوں نے احتجاج شروع کیا ہے اور سی پی آئی ایم اس کی حمایت کرے گا۔
 

فیصلے پر نظر ثانی کی جائے:بھاجپا 

 سرینگر// بی جے پی کی لیڈر روحینہ شہزادنے کہا ہے محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے انجینئروں کے سیلف ہیلپ گروپ اسکیم کو منسوخ کرنے سے متعدد اہل انجینئر بے روزگار ہوجائیں گے۔ سی این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایس ایچ جی ایس بے روزگار انجینئروں کیلئے سرکاری ملازمتوں کا متبادل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کو جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ کے اس اسکیم کو مسترد کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے جو جموں و کشمیر کے بے روزگار انجینئروں کے روزگار کاوسیلہ ہے۔
 

تازہ ترین