روزگار کے نت نئے اعلانات

حقیقت یا محض خواب؟

تاریخ    13 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


 گزشتہ برس5اگست کو جب جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرکے اس کو دو مرکزی زیر انتظام اکائیوں میں تقسیم کیاگیا تو پچاس ہزار نوکریاں فوری طور فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی تاہم ایک سال بعد صورتحال یہ ہے کہ ایک بھی نوکری نہیں لگی ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں بیروزگار نوجوانوں کی تعداد 6لاکھ سے زائد ہے جن میں ساڑھے تین لاکھ کشمیر اور تقریباًاڑھائی لاکھ جموں صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن سرکاری سیکٹر میں نوکریاں فراہم کرنے کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ دنوں آٹھ ہزار سے زائد درجہ چہارم اسامیاں مشتہر کی گئیں جس کے بعد پنچایت محکمہ میں اکائونٹس اسسٹنٹوں کی پندرہ اسامیاں مشتہر کی گئیں ۔یوں ایک سال میں محض10ہزار اسامیاں ہی مشتہر کی گئیں اور اب بتایا جارہا ہے کہ مزید دس ہزار اسامیاںعنقریب مشتہر کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ سرکاری اعدادوشمار کہتے ہیں کہ اس وقت کچھ80ہزار کے قریب اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں۔اگر اسی رفتار سے روزگار کی فراہمی جاری رہی تویہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ تعلیم کی بڑھتی شرح کے چلتے بیروزگاری کاگراف آنے والے برسوں میں کہاں تک پہنچ جائے گا۔
چند ہزار اسامیاں مشتہر کرنا بیروزگاروں کی ایک بڑی فوج کیلئے اونٹ کے منہ میں زیرہ ڈالنے کے مترادف ہی قرار دیاجاسکتا ہے ۔ایک طرف ترقی و خوشحالی کی باتیں ہورہی ہیں تو دوسری جانب عملی طور یہاں روزگار کے مواقع محدود کئے جارہے ہیں ۔گزشتہ ایک برس سے جاری لاک ڈائون کی وجہ سے نجی سیکٹر میں پہلے ہی رجسٹرڈ 5لاکھ لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور یوں بیروزگاروں کی فوج میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ایسے میں چندنوکریاں مشتہر کرنا قطعی اس درد کا درماں قرار نہیں دیاجاسکتا ہے۔نجی سیکٹر میں روزگار کی فراہمی پر زور دیاجارہا ہے اور اس کیلئے مقامی نوجوانوںکو باہر نکل کر قسمت آزمائی کرنے پر آمادہ کیاجارہا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبہ کی وجہ سے پہلی فرصت میں جموںوکشمیر کے انسانی وسائل کی یہاں سے منتقلی کی جائے گی اور یہ نوجوان باہر جاکر روزگار کے نام پر چند پیسے تو کمائیں گے تاہم ان کا صرفہ مقامی سطح پر نہیں ہوگا اور نہ ہی ان کے روزگار کا جموںوکشمیر کوکوئی فائدہ ہوگا کیونکہ وہ جہاں اپنی جوانی نجی کمپنیوں میں صرف کریں گے وہیں اپنی کمائی کا بیشتر حصہ بھی وہیں خرچ کریں گے۔ نتیجہ کے طور پرجموںوکشمیر کو صرف اس اطمینان کے سوا کچھ نہیں ملے گا کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ذریعہ معاش کی تلاش میں گھر سے بے گھر ہوگئی ہے۔
اصل میں اگر نجی سیکٹر میں ہی روزگار تلاش کرنا مقدر ٹھہرا ہے تو اس کیلئے یہاں نجی سیکٹر کو فروغ دیناتھا تاہم عملی صورتحال یہ ہے کہ یہاں نجی سیکٹر وینٹی لیٹر پر ہے اور سرکار کی پالیسی و حالات ایسے ہیں کہ نجی سیکٹر کےپروان چڑھنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ماہرین کا استدلال ہے کہ جب تک ریاست میں نجی سیکٹر کو فروغ نہیں ملتا ،اُس وقت تک بیروزگاری کے بحران پر قابو پانا ممکن نہیں ہے اور نجی سیکٹر کو صرف اُسی صورت میں فروغ دیا جاسکتا ہے جب جموںوکشمیرخاص کر وادی میں صنعتی شعبہ پر خصوصی توجہ دی جائے ۔فی الوقت وادی میں صنعتی شعبہ سرکار کی توجہ کا طلبگار ہے ۔جو صنعتیں تھیں ،ان میں سے بیشتر بند پڑی ہیں اور نئی صنعتوں کا قیام عمل میں نہیں لایا جارہا ہے ۔حد تو یہ ہے کہ سرکار کی غفلت شعاری کی وجہ سے کشمیر کی روایتی صنعتیں بھی دم توڑ رہی ہیں جن میں دستکاری ،کشیدہ کاری ،پیپر ماشی ،کانی شال ،نوربافی ،قالین بافی ،سوزن کاری سمیت دیگر کئی مروجہ ہنر شامل ہیں اور یہ شعبے وقت کے ساتھ ساتھ نابود ہورہے ہیں ۔
جہاں تک خودروزگار سکیموں کا تعلق ہے تو ایسی سکیمیں پہلے ہی دم توڑ چکی ہیں ۔خود روزگار سکیم کے تحت کیس بناتے بناتے سالہا سال گزر جاتے ہیں لیکن قرضہ بنکوں کی جانب سے واگزار نہیں ہوتا ۔شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں نوجوان صنعت کاری کی جانب مائل نہیں ہونا چاہتے ہیں اور جو کچھ صنعتیں چل بھی رہی ہیں ،وہ یا تو امیر طبقہ کی ہیں یا پھر ایسے لوگوں کی ،جو سرکار میں کافی اثر ورسوخ رکھتے ہیں۔
بیروزگاری پر قابو پانے کیلئے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے اور اس کیلئے ایک موافق صنعتی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔تاکہ مقامی طور صنعتوں کا جال بچھا کر مقامی نوجوانوں ،جو تربیت یافتہ اور تعلیم یافتہ بھی ہوں، کیلئے روزگار کے وسائل پیدا کئے جاسکیں لیکن اس پہلو پرسرکارخاموش ہے۔ کشمیر میں صنعتی پالیسی کا فقدان ہے ،صنعتوں کیلئے موافق ماحول نہیں میسر ہے ،صنعتی سہولیات کی قحط سالی ہے ،ایسے میں صنعتیں قائم کرنے کا خطرہ کون مول لے سکتا ہے ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ وادی میں بجلی کا بحران ہے ،صنعتوں کو بجلی کیا فراہم ہوگی جب صارفین کو بجلی میسر نہیںہوتی ۔
 اس ساری صورتحال کے بیچ اقتصادی ماہرین اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ سرکار کے ذریعے اعلان کی گئی نوکریاں اصل میں خواب ہیں جن کی زمینی سطح پرکوئی تعبیر نظر نہیں آتی اور اگر سرکار کو ملازمتوں کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینا ہے تو اس کیلئے ایسے زیبائشی اقدامات کرنے کی بجائے ٹھوس بنیادوںپر کارروائی کرنا ہوگی ۔ٹھوس بنیادوں پر کارروائی کرنے کا مطلب جہاں سرکاری سیکٹر میں روزگار کے مواقع بڑھانا ہے وہیں نجی سیکٹر کو مقامی سطح پر مستحکم بنانا ہے تاکہ مقامی مارکیٹ میں روزگارپیدا کیا جاسکےاور یوںبیروزگاروں کیلئے روزگار کی حصولی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے ۔اب دیکھنا ہے کہ کیا حکومت جاب کا خواب ہی دکھاتی رہے گی یا پھر جاب کے باب کو عملی شکل بھی دی جائے گی ۔
 

تازہ ترین