تازہ ترین

لائبریری کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت

تاریخ    13 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


ڈاکٹر جوہر قد ّ وسی
 آج سے چھ سال قبل وادی میں تباہ کن سیلاب نے جہاں دیگر شعبہ جات کو اپنی لپیٹ میں لیکر برباد کردیا،وہاں ہمارے متعددتعلیمی و ثقافتی اداروں میں قائم کتب خانے بھی تباہی سے دوچار ہوئے،جس کے سبب ہم لوگ لاکھوں کی تعداد میں نادرونایاب مخطوطات اور کتابوںسے محروم ہوگئے۔یہ ایک ایسا عظیم نقصان ہوا،جس کی تلافی کسی بھی طور ممکن نہیں۔لائبریری کلچر کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ سماج میں خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں لائبریری کلچرانگریزوں کے توسط سے آیا اور ہمارے تعلیمی نظام کا ایک ناگزیر حصہ بن گیا۔ انگریزوں کی قائم کردہ یونیورسٹیوں میں آج بھی بڑی بڑی لائبریریاں ہیں، جن میں لاتعداد بیش قیمت کتابیں اور نادر ونایاب نسخے موجود ہیں، جو دوسری لائبریریوں اور بازاروں میں دستیاب نہیں ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں سے بیشتر کتابیں بے توجہی اور دیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے گردوغبار کی نذر ہوکر رہ گئی ہیں۔
اگرچہ گزشتہ72 سال میں ہماری ریاست میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کابڑی تعداد میں قیام عمل میں آیاہے اور ان کی لائبریریوں پر ہم نے بڑی فراخ دلی کے ساتھ پیسہ خرچ کیا ہے، مگر اس کے باوجود ہم تیزی کے ساتھ لائبریری کلچر سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ ان لائبریریوں کی گلاس ڈور الماریاں اوربْک ریک کتابوں سے بھرے پڑے ہیں ،جن میں بڑی تعداد میں بیش قیمت کتابیں موجودہیں۔ مگر بہت ہی کم لوگ ہیں، جو اِن کتابوں سے استفادہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ اساتذہ  اور ریسرچ اسکالربھی لائبریری میں جاکر شاذونادر ہی اِن کتابوں کا مطالعہ کرنے کی زحمت اْٹھاتے ہیں۔یہاں نمایاں طور پر ہمارے تعلیمی نظام کی کمی نظر آتی ہے ،جو لائبریری کلچر کو فروغ دینے میں پوری طرح سے ناکام ہے، جبکہ یہ مغربی طرزِ تعلیم کا ایک لازمی جزو ہے۔ مغربی ممالک کی لائبریریوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔موجودہ دور کی نت نئی سائنسی ایجادات،اور ٹیکنالوجی پیشرفت مثلاً:انٹرنیٹ،سوشل میڈیا،ای-بْک،اور ڈیجیٹل لائبریری وغیرہ کے باوجود آج بھی وہاںاکثر لوگ کتابوں اور رسائل کے مطالعے میں گھنٹوں گزار دیتے ہیں، جو اْن کی تعلیمی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح مغربی ممالک کے ریسرچ سکالرآج بھی اپنا زیادہ تر وقت لائبریری میں اپنے موضوع سے متعلق مواد کی فراہمی اور اس کے مطالعے میں گزارتے ہیں۔وہاں لائبریری کلچر کے تئیں طلبا کا جو لگائو ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لائبریریاں ان کی تعلیم کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ مغرب میں لائبریری کلچر کا رواج نہ صرف یونیورسٹیوں میں، بلکہ اسکولی طلبا میں بھی ہے۔ وہاںبچوں کو اوائلِ عمر سے ہی لائبریری سے روشناش کرایا جاتا ہے ،جو آگے چل کر اْن کی اعلیٰ تعلیمی سرگرمیوں میں سودمند ثابت ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم اس طرح کے لائبریری کلچر کو فروغ دینے میں کیوں ناکام ہیں؟ یہ نہایت افسوسناک امر ہے کہ ہمارے مادہ پرست معاشرے میں بے جا صارفیت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے، مگر اس میدان میں کوئی اثر انگیز مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملتا۔شاید یہ کہنا بھی بے جا نہیں ہوگا کہ آج تک لائبریری کلچر کے فروغ کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوسکی۔ ہمارے اسکولی بچوں کو لائبریری کلچر سے کوئی واقفیت نہیں ہوتی ہے۔ تعلیمی نظام ان کو وزنی اسکول بیگ ڈھونڈنے پر تو مجبور کرتا ہے لیکن وہ کبھی ان کو لائبریری کلچر کی طرف راغب نہیں کرتا ،جہاں پر بچے اپنا زیادہ وقت کتابوں کے مطالعے میں گزار سکیں، جس سے ان میں کتابوں کے تئیں تجسس اورشوق پیدا ہو ،اور ان کی طبیعت مطالعے کی طرف راغب ہو اور ساتھ ہی یکسوئی کے ساتھ پڑھنے کی لگن بھی پیدا ہو سکے۔ جب بچہ اسکول میں ہوتا ہے تو وہ کلاس روم کی بوجھل فضا اور ذہن کو تھکا دینے والے ہوم ورک سے بیزار ہوجاتا ہے۔ وہاں اسے لائبریری کلچر سے آشنا کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی اور یہی وہ بنیادی غلطی ہے، جس کی بناپر اعلیٰ تعلیم کا معیار گرتا جارہا ہے۔چنانچہ ہمارے اکثرطلبا انٹرنیٹ سے ڈائون لوڈ کیے گئے مواد،یا اپنے کلاس نوٹس اور بازار میں موجود گھٹیا معیارکی نصابی کتابوں پر ہی اکتفا کرتیرہتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حالات بڑی تیزی سے بدل گئے ہیں،اور لائبریری کا روایتی تصور بھی ایک نئے انقلاب سے دوچار ہوا ہے۔اب ہر قسم کی کتابیں e-bookیا آڈیوبْک،یا ویڈیو کی شکل میں آسانی سے دستیاب ہیں،لیکن لائبریری کلچر کی اپنی ایک اہمیت ہے۔طلباء کے اندر لائبریری کلچر کو فروغ دینے میں اساتذہ ایک مثبت رول ادا کرسکتے ہیں۔اْن کو چاہیے کہ وہ طلباء و طالبات کو زیادہ سے زیادہ لائبریری کی کتابوں کے مطالعے کی طرف راغب کریں،تاکہ موجودہ نازک صورتحال میں بھی ہم تعلیمی اداروں میں لائبریری کلچرپیدا کرنے میں کامیاب ہوسکیں،جس کے خاطرخواہ نتائج مستقبل قریب میں دیکھنے کو ملیں گے۔
رابطہ۔9906662404،9419403126
ای میل۔mail2quddusi@gmail.com
 

تازہ ترین