تازہ ترین

سرکارکی نظرمیں5اگست اہم کیوں؟

تاریخ    12 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


سرحدِ ادراک حنیف ترین
فضائے تیرہ کو نور عمل سے دور کرو
پھر آگے آگ کے دریاؤں کو عبور کرو
لیجیے صاحب رام مندر کی بنیادرکھ دی گئی ۔ہمارے پردھان سیوک نے5اگست کو اجودھیامیں وارد ہوکررام للا کے درشن کیے اور بھومی پوجن کے مذہبی فریضہ کی’پردھانی‘بھی خودہی کی۔ اسی دن مودی نے قوم کو خطاب کیا اور کہا کہ’ انڈونیشیا، ملیشیا تھائی لینڈ، کمبوڈیا،میں ہی نہیں بلکہ رام کی پوجا کئی مسلم ملکوں میں بھی ہوتی ہے۔رام نام ہے انصاف کا،ظلم سے جہاد کا،دنیا برائی مٹانے یا کم کرنے کا۔‘
وزیر اعظم نے اپنی تقریرکے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اب ہمارے ملک میں پوری طرح سے ’رام راج‘ لاگو ہو جائے گا۔ گودی میڈیا جوبرسوں سے دن رات ’جھوٹے پرچار‘کے ذریعہ حکومت کی ’شبیہ سازی‘میںمصروف ہے،وہ’ستیہ میو جیتے‘ کی جانب کس انداز میں پلٹتاہے اورحقیقت بیانی کے ذریعہ ملک کی سچی صورتحال سے قارئین و ناظرین کو کس طرح واقف کراتا ہے،یہ اب دیکھنے کی بات ہوگی۔
رام مندر کی تعمیرکیلئے قدم بڑھانااس وقت بہت ضروری ہوگیاتھا کیوں کہ بہار اوربنگال سمیت کئی صوبوں میں انتخابات کے سلسلے شروع ہونے ہی والے ہیں۔فطری ہے کہ اب الیکشن میں اس ایشوکو بھنایا جائے گاکیونکہ بی جے پی کی سیاست’رام‘ کے بغیرآگے بڑھ ہی نہیں سکتی۔یہی وجہ ہے کہ 5اگست کو پورے ہندوستان کیلئے ’عظیم ترین مبارک دن‘ کے طورپرپیش کرنے کی سیاسی مہم ایک طرح سے شروع ہوبھی گئی ہے۔ذہن نشیں رہے کہ کشمیر سے اسی دن اس کا خاص درجہ یعنی دفعہ 370 اور35اے ہٹایاگیا تھااور اسے مرکز کے ماتحت کر دیاگیاتھا۔اب رام مندر کی تعمیر کا کام بھی اسی دن شروع کیا گیا ہے۔ 5 اگست کو ہی بھومی پوجن کاانعقاد کیوںہوا،اسے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ٹھیک ایک سال قبل 5 اگست2019 کو مسلمانوں کی اکثریت والی ریاست جموں و کشمیرکاجغرافیہ تبدیل کرتے ہوئے نہ صرف اس ریاست کو حاصل خصوصی درجہ کو ختم کیاگیابلکہ کشمیرسے ریاست کا اسٹیٹس بھی چھین لیا گیا۔مرکزکی حکمراں جماعت بی جے پی نے اس کے بعد5اگست کو ہندوستان کیلئے ’عظیم دن‘ قرار دیا تھا اور لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اس کاجشن منائیں۔کشمیرکی حیثیت میں تبدیلی کافیصلہ جس دن لیاگیاتھا،ایک سال بعد اُسی روز رام مندر کی تعمیر کیلئے بھومی پوجن کی تقریب منعقد کی گئی۔ایک سال قبل کشمیرکی مسلم اکثریت کو خصوصی اختیارات کے خاتمہ کے ذریعہ کیا پیغام دیا گیااور ایک سال بعد’بھومی پوجن‘ کے ذریعہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت کوکیا’سندیش‘ دیاگیا،اِسے بہ خوبی سمجھاجاسکتاہے۔ 
تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ کووڈ19-وائرس کے اس دور میں رام مندر کی تعمیر کی بنیاد رکھی گئی جبکہ ایسی خبریں آچکی تھیںکہ یہ وائرس رام مندر کے سب سے بڑے پجاری اوران کے کئی ساتھیوں تک کو اپنی چپیٹ میں لے چکاہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ کوروناکے خطروں سے کھیل کراجودھیاپہنچنااوررام مندرکیلئے بھومی پوجن کرنا وزیر اعظم کیلئے کیوں ضروری تھا؟ 
 کورونا کس قدر خطرناک شکل اختیارکرچکا ہے ،یہ ہم سبھوں سے پوشیدہ نہیںہے۔ ہمارے ملک میں اب کورونا کی بیماری بری طرح پھیل چکی ہے۔ پچاس-ساٹھ ہزار سے زائدنئے مریض روزسامنے آرہے ہیں اورمتاثرممالک کی فہرست میں ہندوستان کامقام لگاتار اوپرآرہاہے۔ ایسے حالات میں بھی ہماری حکومت اورتمام بڑے اور چھوٹے لیڈراپنی سیاست میں مگن ہیں۔ یہ سب سیاست کے خاطر کیا جا رہا ہے تو اس سے زیادہ اور بدقسمتی کی بات کیا ہوگی؟ عام ہندوستانی ملک کے حالات کو دیکھ دیکھ کراندر ہی اندرکڑھ رہاہے اور بے حد متفکر ہے۔ کشمیر میں بھی کوروناکی وباپوری طرح پھیل چکی ہے۔ کل میرے ایک دوست کی 40سالہ بیوی کی موت یہاں کے سب سے بڑے اسپتال میں وینٹی لیٹر نہ ہونے کے سبب ہوگئی۔ اسے نمونیہ ہونے کے سبب سانس لینے میں تکلیف ہورہی تھی اوریہی اس کی موت کا سبب بھی بنی۔ پورے کشمیر میں صرف7فیصد اسپتالوں میں ہی وینٹی لیٹر کی سہولت ہے جب کہ یہاں کا ایڈمنسٹریشن روز ہی بلندوبانگ دعوے کرتا رہتا ہے۔
کشمیر سے دفعہ 370ہٹے ایک سال ہوگئے مگر اب تک کہیں کوئی ڈیولپمنٹ کاکام نظر نہیں آتا، حالانکہ 370ہٹاتے وقت یہی کہاگیا تھا کہ اس سے آنے والے وقتوں میں یہاں کی ترقیات میں اضافہ ہوگا۔ اعلان کے برخلاف کشمیر کی اقتصادیات بالکل تباہ ہوچکی ہے۔ یہاں کی اقتصادیات کااہم ذریعہ یہاں پیداہونے والے پھل اور سیاحت تھی۔ اس سال پھل توباغوں میں ہی پڑے رہ گئے اور ہوٹلوں میں اُلّو بول رہے ہیں۔شکارے والے جوسیاحوں کوڈل جھیل میں گھمایا کرتے تھے ،وہ فاقہ کشی پر مجبور ہیں ، لاجز،ہوٹلس، ہاؤس بوٹ خالی پڑے ہیںکیوں کہ دفعہ 370ہٹانے کے بعد سے اب تک یہاںکے حالات معمول پر نہ آسکے ہیں۔ مسلسل سختی و کرفیوکا دورجاری رہا اور آج کل کورونا کی وجہ سے تالہ بندی بھی کردی گئی ہے لہٰذا یہاں کے حالات بہت ہی ناگفتہ ہوگئے ہیں۔ اس کا اندازہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو یہاں پہلے آیا ہو اور اب دوبارہ یہاں آکردیکھے۔
دفعہ 370ہٹاتے وقت کہاگیاتھا کہ کشمیر کے حالات بہت خراب تھے، لہٰذا اس کی حیثیت میں یہ تبدیلی کی گئی ہے۔تاثریہ دیا گیاکہ اب کشمیرہندوستان کا اٹوٹ انگ ہی نہیں، بلکہ ہندوستان کا ایک مضبوط حصّہ بن گیاہے۔ کشمیرکی ترقی کی بات کہی گئی تھی اور یہ بتایا گیا تھا کہ نوجوانوں کے بے روزگار ہونے کی وجہ سے وہاں دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے لہٰذا نوجوانوں کو نہ صرف نوکریاں دیںگے بلکہ کشمیر کو اتنی ترقّی دیںگے کہ دنیا کے سیّاح جب وہاںآئیں تو عش عش کرتے رہ جائیں مگر اب تک جو بھی ترقی ہوئی ہے، وہ سب جموں کے حصّہ میں آئی ہے،کشمیر میں نہیں۔حکومت نے ڈومیسائل پالیسی تبدیل کی اور لاکھوں کی تعداد میں سرٹیفکیٹس کا اجرا ہوا۔ظاہر ہے کل جو نوکریاں نکلیں گی تو وہ ڈومیسائل والوں کو دئیے جائیں گے، لہٰذااس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جموں وکشمیر کے اکثریتی کردار کو بدلنے کی جو کوششیں کی گئی ہیں، وہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیںاور یہ چیزیں ہر کشمیری کے دل و دماغ میں پیوست ہوتی چلی جا رہی ہیں۔
 5 اگست 2019کے بعد سے اب تک ایک اندازے کے مطابق چالیس ہزار کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے۔شہر کی چند سڑکیں اور راستے جو فوج استعمال کرتی ہے،کے علاوہ شہر کی ساری سڑکیں ٹوٹی پڑی ہیں۔ حکومت لال چوک،ڈل جھیل،بدشاہ چوک وغیرہ کے علاقوں میں دیواروں کو پینٹ کر کے اور بجلی کے بلب لگا کر شاید کشمیر کی ترقی کا خواب دکھا رہی ہے۔نئے لیفٹیننٹ گورنر صاحب فرماتے ہیں کہ جب 5 اگست کو 370اور 35اے کو ہٹایا گیا اور سارے لیڈروں کو گرفتار کیا گیا، تب کسی کشمیری کے آنکھ میں آنسو نہیں دیکھے گئے،حالانکہ عالمی میڈیاکی رپورٹنگ اوردنیا بھر کے جرنلسٹوں کے خیالات اس کے عین برعکس ہیں۔ 5اگست2020کو جموں وکشمیر اور لداخ میںجواحتجاجات ہوئے، اس سے بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ یہاں کی مقامی آبادی حکومت کے فیصلے سے کس حد تک مطمئن ہے؟۔
کشمیری قوم نہایت مہذب،انسانیت نواز اور اچھے اخلاق کے حامل اور وعدوں کی پکی قوم ہے۔فی الوقت یہاں کے لوگ مضطرب اور بے چین ہیں۔حکومت کوچاہئے کہ وہ موجودہ حالات پرسنجیدگی سے غور کرے اور کشمیریوں سے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرے،ان سے بات چیت شروع کرے کیونکہ بندوق سے نہ کبھی مسئلے حل ہوئے ہیں اور نہ ہوں گے:؎
خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھا ہے پانی سمٹا
خوابیدہ ہے تہہ میں طوفان، سطح پہ چپّی طاری ہے
موبائل۔  9971730422
ای میل۔tarinhanif@gmail.com
 

تازہ ترین