کشمیر’سرنو انضمام‘ کے ادھورے ایجنڈاکا شکار تو نہیں ہوگا! | آبادیاتی اکثریت کو سیاسی اقلیت میں تبدیل نہ کریں،ایک اور تقسیم ہی کریں

محشرِ خیال

تاریخ    12 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


حسیب درابو
ٹھیک ایک سال پہلے بی جے پی نے وہ سب کچھ کیا جس کے بارے میں کشمیر میں کسی نے کبھی وہم وگماں تک نہیں تھا کہ کوئی ایسا کرپائے گا۔ آئینی نزاکت جائے بھاڑ میں ، حقیقت یہ ہے کہ یہ کیا گیا ہے۔ تب ایسا اپروچ تھا اور جب سے ہی مسلسل یہی رویہ رہا ہے۔
 بی جے پی کے پیش رو جن سنگھ نے 1951 میں جموں میں "ایک ودھان ، ایک پردھان ، ایک نشان" ایجی ٹیشن شروع کی تھی اور اس کے بعد پچھلے 70 برسوں سے یکتا عقیدت کے ساتھ اس کا پیچھا کرنے کے بعدبی جے پی نے آخر کار اس کو5اگست2019کو ہندوستانی حکومت کی پالیسی بنا دیا۔ ایک سال بعدیہ نظریہ کے لحاظ سے متنوع سیاسی جماعتوں ، عدلیہ کے خود مختار اداروں اور ریگولیٹرز ، ذیلی قومی حکومتوں اور بلاشبہ قومی میڈیا اور ملک کی سول سوسائٹی کیلئے کشمیر کے بارے میں قومی پالیسی بن گئی ہے۔ چھوٹی موٹی پریشانیوں جیسے منسوخی کاطریقہ کار، 4G کی بحالی ، مرکزی دھارے میں شامل سیاسی قیادت کی قید میں طوالت کے باوجودیہ ظاہر ہوتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار داخلی سطح پر کشمیر پر مکمل اتفاق رائے پایا جارہا ہے۔ 
آج کشمیر کے بارے میں کوئی "متبادل نظریہ" موجود نہیں ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک جو موقف یا نظریہ غالب تھا،وہ راتوں رات تحلیل کیاگیا ہے۔بلاشبہ یہاں تک کہ بی جے پی نے حال ہی میں 2015میںپی ڈی پی کے ساتھ اپنے ایجنڈاآف الائنس میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی پوزیشن پر "اسٹیٹس کو" یا جوں کی توں پوزیشن برقرار رکھنے پر دستخط کیے تھے۔ تاریخی طور پر سیاسی جماعتوں نے کشمیر کے بارے میں کافی مختلف نظریات رکھے ہیں خواہ وہ کمیونسٹ ہوں ، وفاق پسند ، سوشلسٹ ، اور بلاشبہ کانگریس لیکن اب اورایسا نہیں رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں ایک واک آؤٹ اور کچھ نیم دلی سے دئے جانے والے بیانات کے علاوہ ملک کے باقی حصوں میں کشمیر پر ایک خوفناک خاموشی ہے۔ کسی نے بامعنی طور اس کی مخالفت نہیں کی جو کیا گیا تھا گوکہ کچھ سیاسی جماعتوں نے ایسا کرنے کے طریقہ کار پر ا عتراض کیا۔
پچھلے ایک سال میںیہ بات واضح ہوگئی ہے کہ آرٹیکل 370 آئین ہند کی تسلی بخش شق تھی ۔نہ کہ ملک کے اجتماعی ضمیر کے مطابق ایک وعدہ۔ہندوستان کی سول سوسائٹی نے نہ صرف اس کی توثیق کی ہے بلکہ خصوصی حیثیت کے خاتمے کا جشن بھی منایا۔ حوصلہ مند جوش دلانے اور خون کو ابھار دینے والوں کو چھوڑ کر بھی میڈیا میں بھی کسی نے اس سے اختلاف رائے نہیں کیا۔ غیر معمولی دانشورانہ سالمیت کے چند افراد کو چھوڑ کر ہندوستان میں کسی بھی سٹیک ہولڈر نے کشمیریوں کے حق میں اظہار خیال نہیں کیا۔ اُن کی حالت زار یا مشکلات کے لئے نہیں بلکہ لوگوں ، شہریوں اور ایک برادری کی حیثیت سے ان کے حقوق کے لئے کسی نے بات تک نہ کی۔
 نہ ہی عوام کے ساتھ اور نہ ہی کشمیر کی سیاسی جماعتوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ کسی نے حتی کہ ملک گیر بند کا بھی مطالبہ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ یہ وعدہ تک نہیں کہ اگر وہ اقتدار میں آتے تو اُن کی پارٹی اس منسوخی کے آئینی جواز کی دوبارہ جانچ کرے گی۔ ڈی ایم کے ، ٹی ایم سی ، ٹی ڈی پی اور ایس پی جیسے وفاق پسند وفاقی ڈھانچے کو لاحق خطرات دیکھ رہے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کو ایک اہم معاملہ بنانے سے باز رہے ہیں۔
 کشمیر میں مقامی اتفاق رائے کہ5 اگست  2019 کے فیصلے آئینی ، سیاسی اور اخلاقی طور پر ہر لحاظ سے غلط ہیں، کشمیر پر اس مکمل قومی اتفاق رائے کا آئینہ دار ہے۔ کچھ پہلوؤں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ غلط سمجھا جارہاہے ، لیکن یہ سب ناقابل قبول ہے۔ کشمیر میں بیانیہ واضح اور یک جہتی ہے۔
 ان کی خاموشی بولی ہے۔ پال گڈمین کی خاموشی کی اصطلاح کو استعمال کر تے ہوئے یہ نیند اور بے حسی کی بے صدا ور بے معنی خاموشی نہیں ہے اور نہ ہی متروک قبولیت والی خاموشی ہے۔ یہ بیداری کی ذرخیز خاموشی ہے جو روح کی خوراک بن چکی ہے ، جہاں سے نئے خیالات جنم لے رہے ہیں اوروہ چوکس و زیرک خیالات کی زندہ خاموشی ہے۔
 آگے بڑھنے کیلئے ان دونوں حقائق کا اعتراف کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں کا جوڑ کیسے ہوگا؟ مرکز اور حکمراں جماعت وادی میں "سیاسی سرگرمی" بحال کرنے پر اپنی امیدیں وابستہ کر رہے ہیں۔ ایسا کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ یہ اس وقت تک بہت زیادہ غلط ثابت ہوسکتا ہے جب تک کہ ریاستہائے متحدہ یعنی ہندوستان میں کشمیر پر سیاسی سرگرمی نہ ہو۔ وادی میں سیاسی سرگرمیاں بحال کرنے کے لئے کشمیر سے متعلق بی جے پی کی دھونس دبائو والی پالیسی کا متبادل نظریہ ہونا لازمی ہے۔
 نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی وادی المرکوز پارٹیاں پیر پنچال کے پار علاقائی پارٹیوں تک رسائی حاصل کرسکتی ہیں۔ شایداُس "اتفاق رائے کی سیاست" کا ایک نیا ورژن پیدا کرنا ہوگاجو 1983 میں فاروق عبداللہ نے اپنایا تھا۔ وجے واڑہ میں این ٹی آر کے کانکلیو میں شرکت کے بعدانہوںنے سری نگر میں 17 علاقائی پارٹیوں کے 59 ریاستی رہنماؤں کی میزبانی کی تھی۔ آرٹیکل 356 اور 360 سے متعلق ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ اس نے 48 ویں ترمیم کوتحلیل کرنے میں مدد کی تھی۔
 لیکن آج تک جموں و کشمیر کی خوش قسمتی سے چلنے والی مقامی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملک میں کسی بھی علاقائی پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کیلئے کوششیں کرنے کا امکان نہیں ہے۔ نہ صرف ان کی حمایت وادی میں تیزی سے گھٹ رہی ہے ، بلکہ اس معاملے پر ان کا ملک میں کوئی سیاسی اتحادی نہیں ہے۔ اسی احساس کو ادراک کرتے ہوئے ہی کشمیر کی نئی سیاست کا آغاز کرناہی پڑے گا۔
 ریاستی درجہ کی بحالی کا تقاضا کرنا ، جیسا کہ اشارہ کیا جارہا ہے ہے یا مطالبہ کیا جارہاہے ،دراصل بی جے پی کے 5 اگست کے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ یہ حیاتِ نو کا منصوبہ نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ بی جے پی کی طرف سے کشمیر کے لئے قومی سطح پر لکھی گئی سیاست کے نئے گرائمر میں ماضی کا دور ہے۔
 اب یہ بات تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے کہ جموں کے میدانی علاقوں اور کشمیر کی وادیوں کے مابین تلخ تاریخ کے علاوہ دونوں نسلی ، ثقافتی ، جغرافیائی ، لسانی ، سیاسی اور مذہب کے لحاظ سے بالکل مختلف ہیں اور ان میں کچھ یکساں نہیں ہے۔ ارون جیٹلی نے ایک بار بہت ہی اشتعال انگیز انداز میں ، ان دونوں کو '' ایک دوسرے کے وجود کے لئے گود لئے ہوئے بہن بھائی '' کے طور پر بیان کیا تھا۔
5اگست 2019 کے بعد سے سلسلہ وار اقدامات نے ایک سابق ریاست کو ایک اور تقسیم کی راہ پر گامزن کردیا ہے۔ اب ہر محکمہ صوبائی جغرافیہ کی بنیاد پر تقسیم ہورہا ہے۔یہ سب خزانہ عامرہ پر بھاری بوجھ لیکر آرہا ہے اور عملی طور بل دوگنا ہورہا ہے ۔کوئی تعجب کی بات نہیں کہ جموں و کشمیر کی حکومت کے پاس پانچ لاکھ کے قریب ملازمین ہیں ، جو بہار سے ایک لاکھ زیادہ ہیں ، جس کی آبادی جموںوکشمیر سے دس گنازیادہ ہے۔
جموں و کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے خیال کی ایک طویل اورمتغیر تاریخ ہے۔ اصل میں اوون ڈکسن نے 1950 میںاس کو تجویز کیا تھااور اس کو بی آر امبیڈ کی شکل میں ایک حامی ملا تھا۔ 1966 میں کرن سنگھ ، وہ واحد واحد شخص تھا جس نے عملی طور پر کشمیر کی تاریخ بچشم خود دیکھی تھی ، نے جموں کو کشمیر سے الگ کرنے میں معنویت دیکھی۔ وزیر دفاع کی حیثیت سے آر وینکٹارمن اور وزیر داخلہ کی حیثیت سے اندرجیت گپتا نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔ 1999 میں جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ریاست کی خودمختاری کی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد آر ایس ایس ، جس نے ہمیشہ ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی وکالت کی ہے ، نے اپنی کوششوں کی تجدید کی۔
آبادیاتی اکثریت کو سیاسی اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے حد بندی کے ذریعے غیر عادلانہ تقسیم ،ڈومیسائل نرمی کے ذریعے آبادیاتی تناسب کی تبدیلی اورآبادیاتی اکثریت کو سیاسی اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے سوشل انجینئر کی بجائے جموںوکشمیر کو تقسیم کرنا ہی زیادہ شفاف اور کم متنازعہ ہوگا۔
اب تک کشمیر کو "تقسیم کا نامکمل ایجنڈا" کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اب یہ ’’سرنو انضمام‘‘ کے ادھورے ایجنڈاکا شکارنہ ہو جائے۔اس سے بہتر ہوگا کہ 5 اگست 2019 کے فیصلے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایاجائے۔ درحقیقت اپنے ہی فریم ورک کے اند ر جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کا واحد تضادد ریاست کو دولخت کرنا ہے ،یہ تین حصوں میں تقسیم ہونی چاہئے تھی۔
 
 

متر جم :ریاض ملک

 
(مصنف جموں و کشمیر کے سابق وزیر خزانہ ہیں اور زیر نظر مضمون انڈین ایکسپریس کے7اگست کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔قارئین کی دلچسپی کے پیش نظر انڈین ایکسپریس کے شکریہ کے ساتھ اس کا اردو ترجمہ ہدیہ قارئین کیاجارہا ہے۔)
 

تازہ ترین