کیا اُردو کا بدل اب سنسکرت سے ہو گا؟

میری بات

تاریخ    11 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


ابھے سنگھ
 اُتراکھنڈ کی بھاجپا سرکار نے2010 میں ہی صوبہ میںہندی کے بعدسنسکرت کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ پہلے یہ علاقہ یو پی کا حصہ تھا، جس کی دوسری سرکاری زبان اردو تھی۔ بھاجپا سرکار نے ریلوے انتظامیہ سے کہاکہ اُن کے حکم کے مطابق کسی بھی صوبہ کے ریلوے سٹیشنوں پر انگریزی اور ہندی کے بعد وہاں کی دوسری زبان میں بورڈ لکھے جائیںگے۔اس لئے ریلوے حکام نے سٹیشنوں کے بورڈوں پر سے اُردو ہٹا کر سنسکرت لکھوانی شروع کر دی۔ سٹیشنوں یا بس اڈّوں کے بورڈ مسافروں کی سہولت کے لئے ہوتے ہیں۔ اکثر الگ الگ زبانوں میںبورڈ اس لئے ہوتے ہیں تاکہ اُن مسافروں کو جو کسی دوسری مخصوص زبان سے واقف نہیں ہوتے ،کو اپنی زبان میں ضروری جانکاری حاصل ہوجائے۔ ہمیں اب یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ ایسے کتنے لوگ ہوںگے جو ہندی اور انگریزی سے ناواقف ہوں گے اور صرف سنسکرت ہی پڑھ سکتے ہیں۔ آخر اُتراکھنڈ میں کن لوگوں کی مادری زبان سنسکرت ہے، اس کا بھی کسی کو کوئی علم نہیں۔چنانچہ ہندی اور سنسکرت، دونوں زبانوں کا ایک ہی رسم الخط ہے جس کا نام ’دیوناگری‘ ہے۔ اس لئے لکھا ہوا بورڈ پڑھنے میں تو دونوں زبانوں والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب مہاراشٹر میں کیونکہ مراٹھی اور ہندی دونوں کا رسم الخط ایک ہے تو الگ الگ بورڈ لکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ نیپالی کا رسم الخط بھی دیوناگری ہے، اس لئے ہندی جاننے والا بیشک نیپالی نہ بھی سمجھتا ہو، اس کو نیپالی میں شہروں کے نام کے بورڈ پڑھنے میں کوئی پریشانی نہیں۔ کوئی پہچان ہی نہیں کر سکتا کہ فلاں نام نیپالی میں لکھا ہے یا ہندی میں۔ ہاں بو ل چال کی زبانوں میں فرق ضرور ہے۔ لیکن فرق ڈالنے والے لوگ فرق بنا ہی لیتے ہیں۔ جب دیوناگری میں دہرہ دون لکھا گیا تو اسی کر سنسکرت میں لکھنے کے لئے لفظ کے آخر میں ایک حرف ’ما‘ جوڑ دیا گیا اور اس کے نیچے ہلت لگا دی۔ اس سے حرف ’ما‘ کی آواز آدھی ہو جاتی ہے۔اس کا اندازِ تلفظ کیا ہوگا، کہا نہیں جا سکتا۔ یہ بناوٹی لفاظی ہے۔
 سنسکرت کو عزت دینے پر کسی کو بھی اعتراض نہیں لیکن اس کا کوئی اور طریقہ ہونا چاہیے۔ اس کے لئے اُردو کو ہٹانے کی ضرورت کیوں ہے؟ کہا جاتا ہے کہ اُردو تو مسلمانوں کی زبان ہے حالانکہ زبان کا مذہبوں کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہوتا، پھر بھی یہ ماننے میں کوئی برائی نہیں کہ ہمارے مسلم بھائی بہن اُردو کو ایک خاص درجہ دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو کوئی غلط بات نہیں۔ ہم لوگوں کو اُردو زبان کی اپنی کشش بھی دیکھنی چاہیے۔ بہت سارے غیر مسلم بھی اُردو کے عاشق ہیں۔ ادیبوں میں سے ہم کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی کو نہیں بھول سکتے۔ ہمارے آئین کے مطابق اُردو بھی ہماری قومی زبان ہے، ہم اس کی اَندیکھی نہیں کر سکتے۔لیکن یہ ہو رہی ہے اور بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ اُردو صرف کاغذات میں قومی زبان ہے، عمل ایسا ہے جیسے یہ کوئی بیرونی زبان ہو۔
 ایک مثال لیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں خشکی کے راستے سے ہمسایہ ملک میںداخل ہونے کا بڑا دروازہ واہگہ بارڈر ہے۔ دوسری طرف سے آنے والے مسافر اکثر پاکستان کے ہوتے ہیں جو اُردو جانتے ہیں۔ ہماری طرف کے سارے بورڈ سنسکرت نما ہندی کے ہی لکھے ہوتے ہیں۔ بڑے دروازے پر ’سورن جیانتی دوار‘ لکھا ہوا ہے جس کا مطلب ہمارے لوگ بھی نہیں جانتے ہوتے۔ بہت لوگوں نے تجویز رکھی ہے کہ اگر یہاں ایک آدھا بورڈ اُردو میں بھی لکھا ہو تو اچھا ہوتا۔ آخر اُردو ہماری ایک قومی زبان ہے۔ یہ بھی تجویز کیا ہوا ہے کہ وہاں اُردو میں محمد اقبال کا نغمہ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ لکھ دیا جائے،لیکن نہیں مانا گیا۔ پنجاب کے کچھ لوگوں نے یہ مانگ بھی کی تھی کہ کیونکہ وہ دروازہ مشرقی پنجاب کا دروازہ بھی ہے، ایک بورڈ پنجابی میں بھی ہو۔ لیکن یہاں بھی تنگ نظری کی کوئی حد کردی گئی۔ حالانکہ اُدھر لاہور کے ریلوے سٹیشن پر ایک ہندی کا بورڈ بھارت سے آنے والے مسافروں کو خوش آمدید کہنے کا لکھا ہوا ہے۔ کیا ہم ایسا ایک بورڈ امرتسر کے سٹیشن پر پاکستان سے آنے والے مسافروں کے لئے نہیں لکھ سکتے۔
ہاں!یہ بات باعثِ سکون ضرور ہے کہ بہت لوگوں نے اتراکھنڈ سرکار کے اس قدم کی مخالفت کی جن میں سنسکرت کے دانشور بھی تھے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی خصوصی نام (Proper noun ) کا ترجمہ نہیں ہو سکتا ،چاہے وہ کسی آدمی کا ہو یا شہر کا۔ کسی سورج پرکاش کو انگریزی میں sun light نہیں لکھ سکتے اور نہ ہی ہری دوار کو God  to  gate لکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ’دہرہ دون‘ کا’ دہرہ دونم‘  بنانا بھی پسند نہیں کیا جا سکا۔ رْڑکی سٹیشن پر ’رْڑکی ام‘ لکھا تو لوگوں نے پروٹیسٹ کیا۔ لوگ تو یہی سمجھتے ہیں کہ اس کاروائی کا مقصد نہ تو کسی مخصوص زبان بولنے والے لوگوں کو سہولت دینا ہے اور نہ ہی سنسکرت کو عزت ومان دینا ہے، اس کا محض مقصد اُردو کو در کنار کرنا ہے۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ اُردو کے ساتھ مسلم بھائی چارے کا جذباتی رشتہ ہے اور یہ قدم secularism کی بھائونا کے خلاف جاتا ہے۔ ان حالات میں سنا ہے کہ اُتراکھنڈ کی سرکار فیصلہ بدل رہی ہے۔ اچھی بات ہے لیکن اس پورے مسئلے نے ایک ناخوشگوار اشارہ اور بْری علامت پیش کی ہے۔کہیں نہ کہیں کچھ خطرناک رمزیں چھپی ہوئی ہیں۔
رابطہ ۔چنڈی گڑھ،موبائل نمبر۔ 9878375903
 

تازہ ترین