تازہ ترین

ڈوگرہ حکمران اور اُردوزبان وادب

حقائق

تاریخ    11 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


ڈاکٹر چمن لعل بھگت
کشمیرمیں چودھویں صدی تک سنسکرت نے نہ صرف علمی وادبی خدمات سرانجام دینے میں نمایاں کرداراداکیابلکہ دربارمیں بھی اس کا خاصہ دبدبہ رہا۔اس کے بعدآہستہ آہستہ اس زبان کازوال شروع ہوااور فارسی نے اس کی جگہ لے کردرباری زبان کی حیثیت اختیار کرلی۔ تقریباً چھ سوسال تک یہاں اس زبان کاغلبہ رہا۔۱۶؍مارچ ۱۸۴۶ء میں عہدنامہ امرتسرکی روسے مہاراجہ گلاب سنگھ نے جموں وکشمیرمیں ڈوگرہ حکومت کی بنیاد رکھی ۔ڈوگرہ حکومت کے ابتدائی چندبرسوں میں اگرچہ سرکاری زبان فارسی ہی رہی ،لیکن آہستہ آہستہ اردوکاچلن بھی عام ہوتاجارہاتھا۔تعلیمی اداروں اور عوامی حلقوں میں اردومقبول ہورہی تھی ۔اس سلسلے میں ڈاکٹر برج پریمیؔ لکھتے ہیں:’’ڈوگرہ سلطنت کے بانی مہاراجہ گلاسنگھ کے عہدمیں ریاست کی درباری زبان فارسی تھی، لیکن خطہ جموں کے بیشترعلاقوں میں ڈوگری زبانوں کابول بالا تھا جو لسانی اعتبارسے پنجابی اوراردو کے قریب ہے اس لئے اردو زبان یہاں پراپنے ادبی خدوخال مرتب کرچکی تھی۔‘‘ …(ڈاکٹر برج پریمیؔ ’’جموں وکشمیرمیں اردوادب کی نشوونما‘‘، دیپ پبلی کیشنز ’’تپسیا ‘‘۵۸، آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر کشمیر ،۱۹۹۲ ء، ص۱۸)
پروفیسر ظہورالدین مزیدرقمطراز ہیں:’’جہاں تک اردوزبان کی توسیع کاتعلق ہے ،ڈوگرہ حکمرانوں کاکردارقابل ستائش ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلے دونوں ڈوگرہ حکمرانوں یعنی مہاراجہ گلاب سنگھ (۱۸۴۶ء ،۱۸۵۷ء) اورمہاراجہ رنبیر سنگھ (۱۸۵۷ء، ۱۸۸۵ء) کے زمانے میں فارسی ہی سرکاری زبان کے طورپراستعمال ہوتی رہی، لیکن فارسی کبھی بھی عوام کی زبان نہ بن سکی۔یہ صرف شرفا کی زبان تھی۔ عوام کے لئے سرکاری دفاتر میں بھی جس زبان کواستعمال کیاجاتاتھاوہ اردوہی تھی۔‘‘…(پروفیسر ظہورالدین ،’’تعلیل وتاویل ‘‘،گلشن پبلشرزگاؤکدل، سرینگر کشمیر، ۱۹۹۱ء، ص ۳۱۷، ۳۱۸)
مہاراجہ گلاب سنگھ کے دورحکومت(۱۸۴۶ء۔۱۸۵۶ء) میں پنڈت ٹھاکرداس رازداں نامیؔ، پنڈت راجؔ ،پنڈت ست رام بقایاؔ، پنڈت گوپال کول غیوریؔ وغیرہ کاشمار مشہور فارسی شعراء میں ہوتاتھا۔میرزااحد اوران کے فرزند میرزاسیف الدین نے فارسی انشاء پردازی کوفروغ دیا۔ ناظم جبار خان جو کشمیر کا آخر افغان حکمراں تھا کو سکھوں نے شکست دے کر ۲۰/۱۸۱۹ء تک کشمیر پر قبضہ کرلیا تھا ۔ سکھوں کا لگ بھگ ۳۰ سال تک کشمیر پر تسلط رہا اور اس مدت میں گیارہ ناظموں نے کشمیر پر حکمرانی کی۔ ریاست جموں وکشمیرمیں اردوکے ابتدائی نقوش سکھوں کے عہد سے ملناشروع ہوجاتے ہیں۔ اسی دور میں اردو شعروادب کی روایت بھی پروان چڑھتی ہے اور ریاست میں چند موسیقار شاعری کی طرف مائل بھی ہوتے ہیں۔اس دورکے اردو غزلوں کے چندمقبول اشعار یوں ہیں:۔
کیا خبر تھی انقلاب آسماں ہوجائے گا
 
یار سے ملنا نصیب دشمناں ہوجائے گا
دفن کرنا مجھ کو کوئے یار میں
 
قبر بلبل کی بنے گلزار میں 
(بحوالہ پروفیسر عبدالقادر سروری ،’’کشمیرمیں اردو(حصہ دوم )‘‘،ص ۷۱)
مراجان جاتا ہے یارو سنبھالو
 
کلیجے میں کانٹا چھپا ہے نکالو
اب لڑکپن چھوڑدے ظالم شباب آنے کو ہے
 
ان حبابوں کے کٹوروں میں گلاب آنے کو ہے 
(بحوالہ پروفیسر عبدالقادر سروری ،’’کشمیرمیں اردو(حصہ دوم )‘‘،ص ۷۲)
مہاراجہ گلاب سنگھ کی وفات کے بعدان کے بیٹے رنبیر سنگھ (۵۷/۱۸۵۶ء) نیجموں وکشمیرکی عنان سنبھالی ۔اس سلسلے میں پروفیسر عبدالقادر سروری لکھتے ہیں:’’مہاراجہ گلاب سنگھ نے۱۸۵۶ء میں عنان حکومت اپنے بیٹے رنبیر کو سونپ دی تھی۔ اور خودکشمیر میں گوشۂ نشیں ہوگئے تھے ۔ یہیں ان کا انتقال اگست ۱۸۵۷ء میں ہوا۔‘‘…(پروفیسر عبدالقادرسروری،’’کشمیرمیں اردو(پہلا حصہ۔پس منظر)‘‘، جموں اینڈ کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویز سرینگر،دوسرا ایڈیشن۱۹۹۳ء، ص۷۶)
مہاراجہ رنبیرسنگھ خود بھی علم وداب کے شیدائی تھے۔ انہوںنے اپنے دربار میں اچھے اچھے عالم وفاضل جمع کئے تھے ،جن میں مہاراجہ کاوزیراعظم دیوان کرپارام،ڈاکٹر بخشی رام،پنڈت گنیش کول شاستری،  پنڈت صاحب رام، مولوی غلام حسین طالب لکھنؤی،مولوی عبداللہ مجتہد العصر،حکیم ولی اللہ شاہ، حکیم نور الدین قادیانی، اور بابو نصراللہ عیسائی کے نام خاص طورسے سرفہرست ہیں۔یہ علماء سنسکرت اورفارسی زبان کے ساتھ ساتھ اردوزبان میں بھی دسترس رکھتے تھے۔ دیوان کرپارام کی اہم تصنیفات ’’گلاب نامہ‘‘ اور ’’تاریخ کشمیر‘‘ ہیں۔انہوںنے سب سے پہلے ریاست میں انتظامی صورتحال کی رپورٹیں اردومیں مرتب کروائیں۔ 
مہاراجہ رنبیر سنگھ نے جموں وکشمیر میں تیرتھوں کے جائزے اور ان کی توضیحی فہرست تیار کرنے کی غرض سے پنڈت گنیش کول اور پنڈت صاحب رام کی خدمات طلب کیں۔ حکیم نور الدین قادیانی نے اپنی خود نوشت اُردو میں لکھی ، جبکہ بابا نصر اللہ عیسائی نے ۱۸۷۴ء میں ڈاکٹر جان اسن کی کتاب ’’کشمیر ہینڈ بک‘‘کا ’’تاریخ رہنمائے کشمیر ‘‘کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا۔مہاراجہ نے جموں میں سنسکرت کالج قائم کرنے کے علاوہ ایک لائبریری اوردارالترجمہ کاسنگ بنیادبھی رکھا۔ اس دارالترجمہ کے ناظم پنڈت گوبند کول اور صدر مولانا محمد عزیز الدین مفتی اعظم تھے۔ اسی زمانے میں چودھری مہتہ شیرسنگھ (سرکار ملازم) کااردومیں سفرنامہ اس لئے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ریاست جموں وکشمیر میں اردو زبان کوفروغ دینے کے لئے پہلی سرکاری کوشش تھی ۔بقول ڈاکٹر برج پریمیؔ:’’چودھری مہتہ شیرسنگھ نے ۱۸۶۴۔ ۱۸۶۵ کے دورا ن بخارا کاسفرکیا ۔واپسی پراس نے اردومیں اپناسفر نامہ قلمبند کیا۔یہ ریاست میں سرکاری طورپر پہلی اردو تحریر تسلیم کی گئی ہے۔ایک سوپچاس صفحات پرمشتمل یہ سفرنامہ بڑا دلچسپ ہے۔‘‘ …(ڈاکٹر برج پریمیؔ ،’’جموں وکشمیرمیں اردوادب کی نشوونما‘‘،ص ۲۰)
مہاراجہ رنبیرسنگھ نے ریاست جموں وکشمیرکی آمدنی میں اضافہ کرنے کی ہر چندکوشش کی خاص کر شال کی صنعت کو ترقی دینے کے علاوہ انہوںنے انگور اور چائے کی کاشت کوممکن بنایا۔ اس کے پیش نظر لالہ بوتامل نے ایک رسالہ اردومیں لکھ کر مہاراجہ کوپیش کیا۔پروفیسر عبدالقادر سروری لکھتے ہیں:’’ریاست میں انگور اورچائے کی کاشت کے امکانات بھی دریافت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ چنانچہ لالہ بوتامل نے چائے کی کاشت کی تفصیلات پر ایک رسالہ اردومیں لکھ کرمہاراجہ کی خدمت میں پیش کیاتھا۔‘‘ …(پروفیسر عبدالقادر سروری، ’’کشمیرمیں اردو(پہلاحصہ پس منظر)‘‘ ، ص۸۸)
جیساکہ ضبط تحریر میں آچکا ہے کہ مہاراجہ رنبیر سنگھ نے ریاست کی آمدنی میں اضافہ کے لیے نئے امکانات دریافت کرنے کی ہر چند کوشش کی لیکن اس کے باوجود جب۷۹۔۱۸۷۸ء میں کشمیر میں سخت قحط پڑا تو پنجاب سے غلّہ منگوا کر سستے دام پر فروخت کرنے کی حکمت عملی طے کرنی پڑی۔ انہوں نے ۱۸۸۲ء میں ’’بدیابلاس‘‘ نام کے ایک سرکاری پریس کا قیام عمل میں بھی لایا۔ اسی پریس سے اُردو اور ہندی دونوں زبانوں میں شائع ہونے والے پہلے اخبار ’’بدیا بلاس‘‘ کا اجرا ہوا۔ پنڈت دینا ناتھ منٹو دلگیرؔ، پنڈت ہرگوپال کول خستہؔ اور پنڈت سالگرام سالکؔ اس دور کے اہم شعراء وادباء تھے ۔ ان میں پنڈت ہرگوپال کول خستہؔ دربار سے منسلک تھے۔ان کے نثری کارناموں میں ’’گلدستہ کشمیر (اردو نثر میں غالباً کشمیرکی پہلی تاریخ ہے جو۱۸۸۳ء میں لاہورسے شائع ہوئی) ‘‘ اورگلزارفوائد‘‘ وغیرہ مشہورہیں۔
۱۸۸۵ء میں مہاراجہ رنبیرسنگھ ملک راہی عدم ہوگئے اوران کا بیٹا پرتاپ سنگھ تخت نشین ہوا۔مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے ۱۸۸۹ء میں اردوکو سرکاری زبان کادرجہ دیا۔ اردو کو سرکاری زبان کا درجہ ملا تو جوشعراء اُردو شاعری کی طرف متوجہ ہوئے ان میں پنڈت دینا ناتھ مٹو دلگیرؔ، پنڈت ہرگوپال کول خستہؔ اور پنڈت سالگرام سالکؔ کے علاوہ پیرزادہ محمد حسین عارفؔ، منشی سراج الدین احمدؔ خان، قاضی عبداللہ خان منظورؔ، چودھری خوشی محمد ناظرؔ، جسٹس شاہ دین ہمایونؔ، مرزا سعدالدین سعدؔ، منشی امیر الدین امیرؔ، منشی صادق علی خان صادقؔ، منشی غلام محمد خادمؔ، مولانا عبدالقدیر بدریؔ، حکیم فیروز الدین طغرائی فیروزؔ، پنڈت سہج را م تکو مجرمؔ، پنڈت شیو نرائن بھان عاجزؔ، مولانا عبدالصمدؔ، محمد الدین فوقؔ ،پیرزادہ غلام احمد مہجورؔ، خواجہ سعدالدین چشتیؔ، ماسٹر زندہ کول ثابتؔ، رانا گوپال سنگھ طالبؔ، ملک محی الدین قمرؔ قمرازی ، شریمتی سوشیلاؔ تکو، نند لال کول طالبؔ کاشمیری،نندلال بے غرضؔ، شیام لال ایمہؔ، امرؔچندولی، کشپ بندھو بلبلؔ، مرزا کمال الدین شیداؔ، رساؔ جاودانی ، کشنؔ سمیلپوری، عبدالسمیع پال اثرؔصہبائی، محمد دین تاثیرؔ وغیرہ شعراء کے نام خاص طورسے قابل ذکر ہیں۔
 مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے دور ِ حکمت میں اردوشاعری کے علاوہ اردونثر نے بھی کافی ترقی کی۔ محمد الدین فوق کے بعد اردو افسانہ کو فروغ دینے والوں میں چراغ حسن حسرت ، پریم ناتھ پردیسی، پریم ناتھ در، دیناناتھ واریکو شاہد کاشمیری، شام لال ایمہ وغیرہ افسانہ نگاروں کے نام سرفہرست ہیں۔ اسی طرح سالگرام سالک ، محمد الدین فوق، وشواناتھ درماہ، شنبھوناتھ ناظر ، نند لال بیغرض اورپریم ناتھ پردیسی نے ناول نگار کی حیثیت سے بھی اپنا نام کمایا۔ پنڈت سالگرام سالک کی تصانیف ’’داستان جگت روپ‘‘ اور ’’تحفہ سالک‘‘ کے علاوہ محمد الدین فوق کے نثری کارنامے’’اکبر‘‘اور ’’انارکلی‘‘ جموں وکشمیر میں اردو ناول کے ابتدائی تجربے ہیں۔
مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے عہد میں اردو تحقیق وتنقید کو بھی کافی تقویت ملی۔ ’’بدیا بلاس‘‘اور’’رنبیر‘‘ میں شائع ہونے والے تحقیقی وتنقیدی مضامین کے علاوہ ’’عبدالاحد آزاد کی تصنیف‘‘کشمیری زبان وشاعری‘‘ اور محمد عمر ،نوالٰہی کی کتاب’’ناٹک ساگر (۱۹۲۴ء) ‘‘ اس دور کے اعلیٰ تنقیدی وتحقیقی کارنامے ہیں۔ اسی طرح صحافت کا آغاز اگرچہ مہاراجہ رنبیر سنگھ کے زمانے میں ہوچکا تھا اور چند صحافیوں نے اردو اخبار نکالنے کی حامی بھی بھری تھی لیکن انہیں اجازت نہیں ملی تھی۔ اس لئے جموں وکشمیر میں اردو صحافت کا سہرا لالہ ملک راج صراف کے سرجاتاہے ۔ جنہوں نے ۱۹۲۴ء میں پہلااردو اخبار’’رنبیر‘‘ جموں سے جاری کیا ۔ اس کے علاوہ سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل کے پیش نظر اس دور میں جو اُردو اخبارات ملک کے دوسرے حصوں سے نکالے جاتے رہے ان میں’’کشمیر درپن(الٰہ آباد۱۸۸۹ء)‘‘،’’کشمیری میگزین(لاہور۱۹۰۱ء) ‘‘ اور ’’کشمیر (امرتسر۱۹۲۴ء)‘‘ کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔علاوہ ازیں اردو ڈرامے کو فروغ دینے کے لئے مہاراجہ نے کشمیر میں ایک ڈرامائی اسٹیج کا مقام بھی عمل میں لایاتھا۔غرض یہ کہ اردو اب نہ صرف تخلیقی زبان تھی بلکہ تینوں خطوں (کشمیر،جموںاور لداخ ) اور باقی ملک کے ساتھ رابطے کاذریعہ بھی بن گئی تھی۔ اسکولوں، کالجوں ، دفاتر اور عدالتوں میں اس کارواج عام ہوا۔پروفیسر حامدی کاشمیری رقمطراز ہیں:۔
’’اردو کاجہاں تک تعلق ہے وہ ریاست میں انیسو یں صدی کے نصف آخر میں متعارف ہوئی۔ اس زما نے میں ریاست پرڈوگرہ راجاؤں کی حکومت تھی اور کئی ایسے حالات پیداہوئے تھے جوریاست میں اردو کو روز بروز مقبولیت حاصل کرنے اوریہاں کی سماجی، سرکاری اورتہذیبی زندگی میں قدم جمانے میں ساز گار ثابت ہوئے۔‘‘ …(پروفیسر حامدی کاشمیری، ’’ریاست جموں وکشمیرمیں اردوادب ‘‘، گلشن پبلشر ز سرینگر ۱۹۹۱ء ص ۵۷)
مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے انتقال (۱۹۲۵ء)کے بعدامر سنگھ کے بیٹے ہری سنگھ (۲۵۔ ۱۹۴۷ء )  نے جموں وکشمیر کی باگ ڈورسنبھالی۔ انہوںنے اردوکوترقی دینے کے لئے نئے نئے منصوبے بنائے ۔پروفیسر ظہور الدین اس سلسلے میں لکھتے ہیں:’’مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے بعد یہاں مہاراجہ ہری سنگھ (۱۹۲۵۔۱۹۴۷ء) نے بھی اردو کی سرپرستی میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔ اردوکے فروغ کے لئے جہاں اردو کے انسپکٹرآف اسکولزتعینات کئے،وہیں ادیبوں کی حوصلہ افزائی کے لئے انعامات واعزاز ات دینے کاسلسلہ بھی شروع کیا۔‘‘ …(پروفیسر ظہوالدین، ’’تعلیل وتاویل ‘‘ ص۳۲۱)
 مہاراجہ ہری سنگھ کے دورِ حکومت میںاردو شاعری کو فروغ دینے والے شعراء میں دیناناتھ مستؔ چکن کاشمیری، محمد طبیب شاہ ضیغمؔ، سید مبارک شاہ فطرتؔ، پنڈت رادھا کشن بھان جنونؔ، غلام رسول نشاطؔکشتواڑی، پریم ناتھ پردیسی رونقؔ، پنڈت نندلال کول ناشادؔ،سرون ناتھ آفتابؔ، نرسنگھ سہائے شوقؔ،پنڈت دینا ناتھ عارضؔ کاشمیری ، غلام رسول نازکیؔ، مرزا غلام حسن بیگ عارفؔ، حبیب کیفویؔ، لالہ منوہر لال دلؔ، پنڈت ویرؔ ویشیشور، لالہ منوہر لال شہیدؔ، پنڈت دینا ناتھ نادمؔ،میکشؔ کاشمیری، غلام رسول آزادؔ ، غلام مصطفیٰ عشرتؔ کشتواڑی، کوثرؔ سیمابی، جیالال بھان برقؔ، پنڈت پیتامبر ناتھ درفانیؔ، غلام محمد میر طاؤسؔ، شیخ غلام علی بلبلؔ، حکیم دوارکاناتھ حاذقؔ،شہزورؔ کاشمیری، تنہا ؔ انصاری ، غلام رسول کامگارؔ، سیف الدین سیفیؔ سوپوری، طالب ایمنؔآبادی، اندرجیت لطفؔ، غلام محمد ملک شوریدہؔ کاشمیری، رحمن راہیؔ، گردھاری لال برقؔ، قیصرؔقلندر، عرشؔ صہبائی وغیرہ  کے نام سرفہرست ہیں۔ ان میں سے بعض شعراء کے شعری مجموعے شائع بھی ہوئے اورنہ صرف جموں وکشمیر میںبلکہ  ملکی سطح پربھی ان کی پذیرائی ہوئی ۔پروفیسر حامدی کاشمیری لکھتے ہیں:’’ان میں سے کئی شعراء کے شعری مجموعے منظرعام پرآئے ان میں غلام حسین تنہاؔ کا،’شبنمستا‘، ’رسول نازکیؔ کادیدۂ تر‘، ’نندلال کول طالبؔ کا‘، ’رشحات قلم‘ قمرؔقمرازی کا ’ارمغان کشمیر‘کشنؔ سمیلپوری کا’فردوس وطن ‘، رساؔ جاودانی کا’نیرنگ غزل‘اور ’نظم ثریا‘ منوہرلال دلؔ کا’نقددل‘،دیناناتھ رفیقؔ کا’سنبل وریحان ‘، نندلال کول بے غرضؔ کا ’ترانہ بے غرض ‘۔غ۔ م طاؤسؔ کا ’موج موج‘ شیخ غلام علی بلبلؔ کا ’خندۂ گل‘ قابل ذکرہیں۔‘‘…(پروفیسر حامدی کاشمیری، ’’ریاست جموں وکشمیرمیں اردوادب ‘‘، ص۷۱۔۷۲)
شاعری کے علاوہ اردو نثر کو ترقی دینے میں بھی مہاراجہ ہری سنگھ نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اس دور میں جو اردو فسانہ نگار ابھر کر سامنے آئے ان میںکشپ بندھو، کوثر سیمابی، محمودہاشمی، دیا کرشن گردش، عشرت کشتواڑی، کاشی ناتھ کول، گلزار احمدفدا، جگدیش کنول، غلام حیدر چشتی، قدرت اللہ شہاب، رامانند ساگر، نرسنگھ داس نرگس، گنگا دھر بٹ دیہاتی، کشمیری لال ذاکر اورٹھاکر پونچھی وغیرہ کے نام سرفہرست ہیں۔ ان میں سے اکثر افسانہ نگاروں کے مجموعے شائع ہوکر دادِ تحسین حاصل کرچکے ہیں۔اس عہد کے ناول نگاروں میں ٹھاکر پونچھی، نرسنگھ داس نرگس، کشمیری لال ذاکر اور راما نند ساگر وغیرہ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ اردو ڈرامے کو فروغ دینے میں پریم ناتھ پردیسی، محمد عمرنور الٰہی،دیناناتھ واریکو شاہد کاشمیری، نرسنگھ داس نرگس، آذر عسکری، ٹھاکر پونچھی، علی محمد لون وغیرہ ،قلمکار پیش پیش رہے ۔ علاوہ ازیں پریم ناتھ بزاز ، نرسنگھ داس نرگس اورکشپ بندھو نے اردو صحافت کی طرف بھی توجہ دی۔ پریم ناتھ بزاز نے سرینگر( کشمیر) سے پہلااردو اخبار’’وتستا(۱۹۳۲ء)‘‘ اور نرسنگھ داس نرگس نے جموں سے ’’چاند (۱۹۳۷ء)‘‘ اردو اخبار جاری کیا۔ کشپ بندھونے’’کیسری‘‘ اور ’’دیش‘‘ کے عنوان سے اخبارنکالے۔نیشنل کانفرنس کا اخبار’’خدمت‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
ڈوگرہ (شخصی) راج کے خاتمے کے باوجود بھی ڈوگرہ حکمرانوں کی بدولت  اردو زبان وادب کی ترقی کے لئے مزید راستے کھلتے گئے ۔ ڈوگرہ حکمرانوں کی دوراندیشی کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ اپریل ۱۹۴۸ء میں پہلی بار جب جموں وکشمیر اور لداخ میں عوام حکومت کاقیام عمل میں آیاتو ’’نیا کشمیر‘‘ آئین کے تحت اردو کو سرکاری زبان تسلیم کیاگیا۔کشمیر یونیورسٹی اور جموںیونیورسٹی میں اردو کے شعبے قائم کے گئے ۔ کلچرل اکادمی کاسنگ بنیاد رکھا گیا جویہاں مختلف زبانوں اورتمدن کوفروغ دینے کاکام سرانجام دینے لگی۔اس کے علاوہ کلچرل اکادمی نے اردو کی کتابوں کونہ صرف شائع کیا، بلکہ ادیبوں کوانعامات سے بھی نوازا۔ اس کے علاوہ اس سرزمین میںٹیلی ویژن اورریڈیو نے بھی اردوزبان وادب کو کافی اہمیت دی۔ 
قصہ یہ کہ ڈوگرہ حکمرانوں نے جموں وکشمیر میں اردو زبان وادب کے فروغ کیلئے جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ نہ صرف قابل ستائش ہیں،بلکہ ناقابل فراموش بھی ہیں اور تاریخ کا ایک ناگزیر حصہ بھی بن چکی ہیں۔انہوں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ اردو نہ صرف زبان ہے بلکہ یہ ایک مشترکہ تہذیب ہے جس نے جموں ، کشمیر اور لداخ تینوں خطوں میں بسنے والے ہندو ، مسلم ، سکھ اور بودھ میں ہم آہنگی پیدا کرکے ان کے دلوں کو جوڑکراس سرزمین میں ایک مضبوط آپسی بھائی چارے کی بنیاد رکھی ۔ مگر افسوس کہ آئے دن اس تہذیب کو ختم کرنے کے لئے طرح طرح کی سازشیں رچائی جارہی ہیں۔ کبھی اس کو علاقہ پرستی کی لپیٹ میں لیا جاتا ہے اور کبھی فرقہ پرستی کی آگ میں جھلسنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ یہاں کے ہر باشندے کو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ اردو نہ تو کسی علاقے کی زبان ہے اورنہ ہی اس کا تعلق کسی فرقے سے ہے بلکہ یہ ڈوگرہ حکمرانوں کی آن وشان اورشناخت وپہچان ہے ۔سب سے بڑی بات یہ کہ یہ ہماری میراث ہے جو ڈوگرہ حکمرانوں نے ہم سب کو ورثہ میں دی ہے ۔ لہٰذا جموںوکشمیر اور لداخ کے ہرفرد کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ آگے آئے اوراس تہذیب کو بچانے کے لئے اپنی خدمات سرانجام دے۔
رابطہ ۔ اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اُردو جموں یونیورسٹی ،جموں
موبائل نمبر۔ 94191-80775 

تازہ ترین