تازہ ترین

جنگلی حیات کیلئے آبِ حیات

’گرین جے کے‘ مہم انسان وحوش تصادم میں اضافہ کا باعث تو نہیں بنے گی؟

تاریخ    11 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


شاہ عباس
جموں وکشمیر میں جنگلات کے دائرے میں اضافہ کے لئے اِنتظامی کونسل کی حالیہ میٹنگ میں محکمہ جنگلات کی مربوط ’’گرین جے کے مہم 2020‘‘  کی تجویز کو منظوری دی گئی۔اس مہم کا مقصد جنگلات کو وسعت دینا ہے اور اس کے تحت سال2020-21 کے دوران خستہ حال جنگلی علاقہ کے 15,000ہیکٹر اراضی پر 100لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔پچھلے مہینے سرکار کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ مذکورہ مہم میں پنچایتی راج ادارے ، متعلقہ محکمے ، تعلیمی ادارے ، فوج ، نیم فوجی دستے ، پولیس اور سول سوسائٹی کی شرکت طلب کی جائے گی جس کے لئے محکمہ جنگلات ضرورت کے مطابق پودے فراہم کرے گا۔
اگر حکومت کا ’’گرین جے کے‘ ‘منصوبہ کامیاب رہا اور اس سے مطلوبہ اہداف حاصل ہوگئے تو جموں کشمیر کے جنگلات میں وسعت پیدا ہونا یقینی ہے جو ہر صورت میںیہاں کے ماحولیات کیلئے ایک بہتر صورتحال ہوگی۔تاہم بعض ماہرین کو خدشہ ہے کہ’’گرین جے کے مہم‘ ‘کی کامیابی سے جنگلی حیات اور انسان کے درمیان تصادم میں اضافہ ہوسکتا ہے اور مذکورہ سرکاری منصوبے میں اس اہم پہلو کو نظر انداز کیا گیا ہے۔  
جموں کشمیرمیں گزشتہ کم و بیش تین دہائیوں کے نامساعدحالات کے دوران جہاںہزاروں شہریوں کی جانیں چلیں گئیں اور اقتصادیات کو بھی زبردست دھچکہ پہنچا،وہیں پُرتشددماحول ،بندوق کی گرج اوربارود کی بویہاں کی جنگلی حیات کیلئے ہر لحاظ سے جیسے آب حیات ثابت ہوئی۔محکمہ جنگلی حیات کے ذرائع کے مطابق یہاں تیندوؤں ،ریچھوں اوردیگرکئی اقسام کے جانوروںکی تعدادمیں ان پرتشدد برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق خطے میں جنگلی جانوروں کی تعدادمیں اس اضافے کا سبب حالیہ برسوںکے دوران یہاں شکار پرسخت پابندی عائد ہے، جس کے پیش نظراب شکاری گھنے جنگلات کے اندرشکار کرنے کیلئے گھسنے سے گریزکرتے ہیں ۔ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں فورسزوہاں جنگجوہونے کے شبہ میں اُنہیں ہی شکار نہ بنائیں ۔خاص طور سے وادی میں عسکریت کی شروعات کے ساتھ ہی حکومت نے اُن تمام لوگوں سے بندوقیں واپس لیں،جن کے پاس ان کی لائسنس تھیں۔بندوقوں کے اس طرح واپس لئے جانے کے بعد واقعی یہاں جنگلی جانوروں کاشکار ،یوں سمجھ لوختم ہی ہوگیا۔
تاہم تیندؤں کی تعدادمیں اضافہ سے یہاں محکمہ جنگلی حیات کے ماہرین کی نیندیں بھی اُڑ گئیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ تیندوے کئی دوسرے جانوروں کا شکار کرتے ہیں اورکشمیر میں تیندوئوں کا مرغوب شکار ـ’کشمیری ہانگل‘ ہے ۔اگر تیندئوں کی تعداد بڑھے گی تو ’کشمیری ہانگل‘ کی ہستی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، اُن کی تعدادمیں کمی آسکتی ہے یا وہ نابود بھی ہوسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ’کشمیری ہانگل ‘کی تعداد گزشتہ دہائی میں 200 کے آس پاس تھی جواب کم ہوکر150 سے170کے درمیان رہ گئی ہے۔اگریہ رجحان برقراررہا تو’کشمیری ہانگل‘عنقریب نابودہی ہوجائیگا۔ذرائع نے کہا کہ ہانگل کی تعدادمیں کمی کے خدشات  کے بعد محکمہ جنگلی حیات نے ہانگل اوردیگرجنگلی جانوروں کیلئے محفوظ پناگاہوں کی تاربندی کرنے کامنصوبہ مرکز کو پیش کیاتھا، جو تاحال منظور نہیں ہوا ہے۔ 
خوراک کی کمی اورجنگلی جانوروں کے قدرتی ماحول میںسالہاسال سے مسلسل انسانی دراندازی سے و ہ (جنگلی جانور) اکثر خوراک کی تلاش میں انسانی بستیوں کارُخ کرتے ہیں ۔حالیہ برسوں میں وادی کشمیرمیں جنگلی جانوروں کی طرف سے انسانوں پر حملوں میں اضافہ کی وجہ یہی ہے کہ ان کی تعداد بڑھ گئی ہے اور اُن کے علاقوں میں انسانوں کی دراندازی میں اضافہ ہوا ہے۔جنگلی حیات محکمہ کے ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی برس سے یہاں جنگلی جانوروں کی طرف سے انسانوں پر کئے گئے حملوں کی تعدادمیں اضافہ ہواہے۔ان حملوں میںدرجنوں افراد مارے جاچکے ہیں اور اس سے کئی گنا زیادہ لوگ ان حملوں کے دوران زخمی ہوئے ہیں۔مخصوص حالات میںمحکمہ جنگلی حیات کی طرف سے مددنہ ملنے کے بعد جنگلوں کے قریب رہنے والے لوگوں نے ایسے حالات کا ازخودمقابلہ کرنے کی ٹھان لی ہے ،شاید یہی وجہ ہے کہ ماضی قریب میں کئی بار ان جنگلی درندوں کویاتومارڈالایازخمی کیا گیا ہے۔کئی سال قبل وادی کے اننت ناگ ضلع میں لوگوں نے محکمہ جنگلی حیات کے اہلکاروں کا گھنٹوں انتظارکیاتاکہ ان کی بستی میں گھُس آئے ایک ریچھ سے انہیں نجات دلائی جاسکے ،لیکن جب متعلقہ محکمہ کے اہلکارمبینہ طور وہاں وقت پرپہنچنے میں ناکام رہے تومقامی آبادی نے خودریچھ کامقابلہ کرنے کافیصلہ کیا۔لوگوں کو جب اپنی جان خطرے میں نظر آئی تو انہوں نے ریچھ کونذرآتش کیا۔اس واقعہ کو ٹیلی ویژن چینلوں پر خوب تشہیرملی اورہندوستان کی دیگرریاستوں میں لوگوں نے کشمیرکے لوگوں کے بارے میں منفی تاثرات کا اظہار بھی کیا۔جانوروں کی حقوق کارکن مینکا گاندھی نے تو اس وقت یہاں تک کہاتھا ’’ کشمیرکے لوگوں کا فورسزکے ہاتھوں ماراجانا جائز ہے کیونکہ یہ لوگ جنگلی جانوروں کو اس طرح ہلاک کرتے ہیں اور یہ اس کے مستحق ہیں کہ انہیں بے دردی سے ماراجائے‘‘۔کئی برس قبل جب ایک تیندوے نے ایک انسانی آبادی میں گھس کر کئی بچوں کو زخمی کیا تو ریاستی حکومت نے یہ اعلان کیا کہ جو کوئی بھی اس تیندے کے بارے میں اطلاع متعلقہ محکمہ کودے گا، یا اُسے زندہ پکڑے گا تو حکومت اُسے 10000روپے کا انعام دے گی۔اس تیندوے کو پکڑنے کیلئے محکمہ جنگلی حیات،فاریسٹ پروٹیکشن فورس،پولیس اور فوج کومتحرک کیاگیاتاہم تیندواان میں سے کسی کے ہاتھ نہیں آیا۔
شکار پر پابندی کا جنگلی حیات میں اضافے کے علاوہ ایک اور پہلو بھی ہے ۔نوے کی دہائی کے آغاز میںپولیس اور محکمہ جنگلی حیات نے مقامی لوگوں کو وہ تمام بندوقیں پولیس تھانوں میں جمع کرانے کاحکم دیاجووہ جنگلی جانوروں کا شکارکیلئے استعمال کرتے تھے۔ شکار پرمکمل پابندی سے یہا ں بندوق بنانے والے کاریگر بھی بے کار ہوگئے ۔شہرسرینگر کے معروف بندوق کھارمحلہ، جہاں بندوق بنانے کے کئی کارخانے تھے ،میں اب صرف دوہی کارخانے ہیں اور وہ بھی اس فن میں ماہرہنرمندوں کو روزی روٹی فراہم کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔
 محکمہ جنگلی حیات کے حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں شکاری بڑے جانوروں کاشکار کرکے فخر محسوس کرتے تھے،لیکن ملی ٹینسی کی بدولت شکار اب تین دہائیوں سے بند ہے جس سے جنگلی جانوروں نے بھی راحت کی سانس لی ہے۔یاد رہے کہ سال1997 میں حکومت نے ناپیدہورہے جانوروں کی کھالوں کاکاروبار کرنے پر بھی پابندی عائدکردی۔محکمہ جنگلی حیات کے ذرائع کے مطابق اس سے جنگلی جانوروں کو اورزیادہ تحفظ حاصل ہوگیا کیونکہ شکاری اب شکارکرنے سے احترازکررہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ شکارکرکے بھی وہ جانورکی کھال کو بیچ نہیں سکیں گے۔حکام کے مطابق اس سے نہ صرف یہاں تیندؤں اورکالے ریچھوں کی تعدادمیں اضافہ ہواہے بلکہ پرندوں کی کچھ نایاب نسلوں،کستوری ہرن اورمارخورکی تعدادمیں بھی خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔محکمہ جنگلی حیات حکام کے مطابق 1990میں جب یہاں بندوق کی گرج کاآغازہواتب سے لیکرآج تک یہاں نایاب اورمقامی نسل کے کئی پرندوں جیسے کالے تیتراورمنال کی تعدادمیں کئی فیصداضافہ ہوا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق متذکرہ بالا شجرکاری مہم خستہ حال جنگل اراضی کی باز آباد کاری میں معاون ہونے کے ساتھ موزون علاقوں میں شجرکاری کو بھی یقینی بنائے گی۔مہم کے تحت جنگلات کے باہر شجرکاری کو توسیع دینے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے تاکہ قدرتی جنگلات پر دبائو میں کمی لائی جاسکے ، جموںوکشمیر کے قدرتی حسن میں نکھا ر پیدا کیا جاسکے اور بڑے دریائوں کے معیار اور بہائو میں بہتر ی لائی جاسکے۔لیکن کیا یہ مہم اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی یا دوسرے سرکاری پروجیکٹوں کی طرح ہی یہ بھی بیچ راستے میں ہی دم توڑ دے گی؟۔
 

تازہ ترین