نظمیں

تاریخ    9 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


رخصتی

بارش گُل ہورہی ہے ہورہا ہے اہتمام
جھوم اُٹھے غنچہ و گل ہے صبا محوِ خرام
اس طرح مصروف ہے ہر اک برائے انتظام
ہے ہنسی لب پر نظر میں کیف دل ہے شاد کام
حُسن کو نیرنگیاں ہم جولیوں کے درمیاں
جیسے ہوتاروں کے جھرمٹ میں حسیں ماہِ تمام
پھول سے ہاتھوں میں مہندی کی شفق کہتی ہے یہ
ان حسیں ہاتھوں میں آنے کو ہے اک تازہ نظام
ہے عروسِ خوب رو کے سر پہ عزت کی رِدا
نورپیشانی پہ آنکھوں میں حیاء و احترام
آج بھی بچپن تیرا اٹکھیلیاں کرتا ہوا
میرے دل کی وسعتوں میں کھیلتا ہے صبح و شام
تیری قسمت کا ستارہ جگمگاتا ہی رہے
رخصتی بابل سے تیری ہو بہ صدہا احتشام 
اے عروسِ نو دعا، ہے یہ میری کہ تُو رہے
شاد کام و شاد کام و شاد کام و شاد کام
کچھ محبت کے ہی موتی ہیں بشیر آثمؔ کے پاس
ہے قوی اُمید کہ آئیں تیرے تحفے کے کام 
 
بشیر آثمؔ
باغبان پورہ لعل بازارسرینگر، موبائل نمبر؛9627860787
 
 
 
 

اے مری شہر زادی

میرا گاؤں میٹھا ہے
تیرے شہر کی مرغوب غذا
گاؤں کھاتے کھاتے تیرا شہر بڑا ہوا ہے
تنگ گلیوں کی سڑاند گھٹن چاٹ رہا ہے
جھلستی سڑکوں پہ پھسلتی سیال
گردِ شور وشر اور دودِ نظارہ گُم گشتگاں
اُف۔۔۔بھٹکتی ہواؤں میں یہ میلی نمی
بسترِ نادیدہ پہ بیمار صبح کی کرنیں
مرگِ انبوہ کی دعائیں مانگ رہی ہیں
مرے گاؤں کے کُھلے راستے پہ
جب چاندنی کا پیرہن اُترتا ہے
پرندے پتوں کی اوٹ سے جھانکنا شروع کردیتے ہیں
جگنو اپنے چراغ بجھا دیتے  ہیں
اور نیم وا آنکھوں سے حسن نظارہ کو تکتے ہیں
میرے گاؤں میں جو قبرستان ہے
ہمارے آباواجداد کی وراثت ہے
جہاں سوسن کے پھول سال بھر مہکتے رہتے ہیں
یہاں تربتیں بھی خاندانوں کی طرح رہتی  ہیں..
اور پرندے آکر موت کو زندگی کے گیت گاکر سناتے ہیں
تم مجھے اپنی ملکیت بنا کے تو دیکھو
یہ لہلہاتے کھیت دہکتے تارکول کے نیچے دفن ہوجائینگے
شور کی بھیڑ میں دریا اور آبشاروں کی کھنکتی صدائیں گم ہوجائینگی
موسموں کی پازیب ٹوٹ جائے گی
جھنکار سکوتِ غار میں سوگوار بیوہ کی طرح سیاہ چادر اوڑھ لے گی...
چشمے سوکھ جائیں تو چاند شب کی تنہائی میں تاروں کے سنگ کہاں نہانے اتریگا
پریاں کن کے کناروں پہ آکے ناچیں گی
اوس کی اشک فشانی کس سبزہ ء نورستہ پہ دعاؤں کا معلیٰ بچھا دے گی
پھول کن شاخوں پہ کھلیں گے..
کونسی شاخ ثمر بار ہوکے سجدے میں جھک جائے گی
مجھے کاغذی پھولوں سے نفرت ہے
بے حس گلدانوں میں مٹی کے خلاصے کا دم گھٹتا ہے
مجھے دہکتا فرشِ ریگ نہیں چاہئے
مری آنکھوں کو سبز مخمل پہ سونے کی عادت ہے
میرے خواب سبزہ زاروں میں پنپتے ہیں
ٹہلتے ہیں ...دعائیں مانگتے ہیں..
اے مری شہر زادی........
تُجھے ڈالانوں میں سجیں مغل باغات کی تصاویر مبارک
تو مجھے اپنے شہر میں نہ سماؤ
میں گاؤں کا شہزادہ ہوں
ترے شہر کی بھوکی ویرانی مجھے کھا جائے گی
اور اگر میں زندہ نہ رہا....
تو تجھے اپنی ہی بھوک نگل جائے گی
اور یہ دنیا جینا چھوڑ دے گی.....!
 
علی شیداّؔ
 نجدون نیپورہ اسلام آباد، موبائل نمبر؛9419045087

 

اب تو بیدار ہوجا!!!

وقت ہے اب بھی اے غافل، زندگی اپنی سنوار
یاد رکھ دنیا میں ہر انساں بنے گا یادگار
 
دِل کو ملتی ہے تسلّی بس خُدا کی یاد سے
مالِ دنیا کے لئے مت کر تُو خود کو بے قرار
 
جاہ و حشمت، مال و دولت مان فتنے ہیں سبھی
جان کوئی ہے اگرتیرا تو بس پروردگار
 
خُود پرستی، خُود پسندی سے ہے گر بچنا تجھے
گِن نہ اپنے نیکیوں کو کر گناہوں کا شمار
 
چھوڑ مت کل پر وہ سب، جو آج کرنا ہے تُجھے
ہے جو شہ رگ کے قریب کرتی نہیں وہ اِنتظار
 
اپنی اعلیٰ اور اَدنیٰ، ہر ضرورت کے لئے
فرش پر سجدے میں گِر کر، عرش والے کو پُکار
 
روکنا اوروں کو ہے، باطل پرستی سے تجھے
غم نہ کر جتنے بھی ہوں حالات گر ناسازگار
 
اے مجید وانی
احمد نگر، سرینگر، موبائل نمبر؛9697334305
 

تازہ ترین