تازہ ترین

تیرگی

افسانچہ

تاریخ    9 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


امجد اشرف
  ہر شے پر سے شبنمِ بے نور روز کی طرح اوجھل ہونے کو تھی۔ پرندے آمدِصبح کے گیت اونچے ، بکھرے ، اور سہمے سروں میں کو بہ کو گنگنا رہے تھے۔ سورج کی کرنیں کمرے کی کھڑکی سے جوں ہی احمد کی آنکھوں  سے جا ٹکرائیں، اسکا نیند سے طویل ربط چشمِ زدن میں ٹوٹ گیا۔ احمد بستر سے اٹھنے ہی والا تھا کہ اچانک اسکی نظر میز پر رکھے ہوے اخبار پر پڑی۔ جب غور سے مطالعہ کیا تو اسکے لب تھر تھرانے لگے ،  اسکے  پاؤں تلے  جیسے زمیں ہی کھسک گئی۔ تحریر شدہ ہر اِک لفظ خنجر کی طرح اسکے جگر پر پے در پے وار کرنے لگا۔ اخبار کے صفحۂ اول پر شائع خبر کا طلسم اس پر طاری ہونے لگا۔ احمد کے ہوش و خرد پر جیسے اسرافیل  نے صور پھونک دیا۔ رفتہ رفتہ تیرگی چار سو‘ چھانے لگی۔احمد زور زور سے رونے لگا، ہاتھ مَل کر چیخنے لگا۔۔۔ ’’ ممی! ممی میں ابھی زندہ ہوں! ابو میں مرا نہیں۔۔۔ میں ہیں ہوں ! بھیا۔۔۔!‘‘ 
رابطہ؛شلوت، سمبل سوناواری،موبائل نمبر؛7889440347