اُمید کی کرن

کہانی

تاریخ    9 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


جعفر تابش
ہلکی ہلکی بوندا باندی اب رفتہ رفتہ تیز بارش میں بدل چکی تھی۔
کوئی بارش سے بچنے کے لئے چھتری کا سہارا لے رہاتھا تو کوئی دکان کی چھت کے نیچے کھڑا ہو کر بارش کی تیز بوندوں سے بچنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔سڑک کی نچلی طرف لگے چنار کے درخت کے زرد پتے تیز بارش کی مار برداش نہیں کر پا رہے تھے اور تسبیح کے دانوں کی طرح ایک ایک کر کے سڑک پر گر رہے تھے۔
ان کا گرنا یوں تو ایک عام سی بات تھی لیکن اصل میں وہ پتے انسان کو وقت کے بدلتے مزاج اور انسان پر آنے والے مختلف حالات کی عکاسی کر رہے تھے وہ چیخ چیخ کر انسان کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ یہی بارش کچھ ماہ پہلے جب وہ پتے بالکل سرسبز تھے انکا بال بھی بیکا نہیں کر پائی تھی لیکن آج۔۔۔۔۔!
آج وہ پتے بارش کی ان ہی بوندوں کے سامنے بے بس نظر آ رہے تھے۔ان سرسبز پتوں کو زرد بنا کر درخت کی اونچائی سے زمین کی پستی پر لانے میں سب سے بڑا کمال "وقت" کا تھا۔
جوں جوں شام کی دھندلی روشنی رات کی تاریکی میں بدل رہی تھی ویسے ہی ویسے سڑک پر دوڑتی گاڑیوں کی روشنیاں آنے والی صبح کی یقین دہانی کرا رہی تھیں۔
شہر کی ایک مسجد اپنے مؤذن کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ایک  خوبصورت شکل و صورت والا نوجوان مسجد کے دروازے پر حاضر ہو ا۔ اس مہتاب صفت جوان کا ایسی بارش میں بھی مسجد کے "انتظار" کا خیال رکھنا گویا ہزاروں انتظار کرنے والوں کے لئے امید کی کرن بن کر ابھرا تھا اور انہیں اس بات کا یقین دلا رہا تھا کہ ان کا انتظار اور صبر رائیگاں نہیں جائے گا۔شہر کی بلند و بالا عمارتوں پر برستی تیز بارش حد درجہ شور پیدا کر رہی تھی لیکن اس کے باوجود اس نوجوان کی شیریں آواز بارش کی بوندوں کو چیرتی ہوئی اﷲ کی پاکی اور بڑھائی کا اعلان کر رہی تھی اور ادھر اﷲ کے کچھ خاص بندے اس طوفانی بارش میں بھی اس کے گھر کی طرف دوڑے چلے آ رہے تھے۔بڑی بڑی گاڑیوں کے بیچ ایک شخص سر پر لفافہ لٹکائے دونوں ہاتھوں سے ایک ریڑھی کو تھامے گاڑیوں کے آگے بڑھنے کا انتظار کر رہا تھا۔
اس شخص کا اس برستی بارش میں بھی چلتے جانا نہ جانے کتنے ہی ہارے ہوئے لوگوں کو یہ حوصلہ دے رہا تھا کہ مشکلوں سے چھٹکارا مشکلوں کا سامنا کر کے پایا جاتا ہے نہ کہ مشکلوں سے بھاگ کر۔سڑک اب دھیرے دھیرے سنسان ہورہی تھی دکانوں میں جلتی روشنیاں اب دھیرے دھیرے کم ہو رہی تھیں اورشہر تاریکی میں بالکل ڈوبتا چلا جا رہا تھا۔شہر کا چہل پہل سے ایک دم ویرانے میں بدل جانے والا منظر اس دیار کے فانی ہونے کی کھلی دلیل پیش کر رہا تھا۔مگر ہائے! غافل انسان۔اب شہر سے تھوڑے فاصلے پر بہنے والا دریا بھی ٹھاٹھیں مارنے لگ گیا تھا۔
دریا کے ٹھاٹھیں مارنے کا راز کیا تھا وہ تو دریا ہی جانتا تھا۔ کسے خبر کہ وہ بارش کے برسنے کی خوشی منا رہا تھا یا پھر بارش کے برسنے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہا تھا۔شہر سے دور دیہات میں جلنے والی روشنی ایک عجب سا منظر پیش کر رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ستارے زمیں کے سفر پر آئے ہوئے ہیں۔لیکن کسے خبر کہ گاوں کے ایک کچے مکان میں ایک شخص رات بھر اس لئے نہیں سو پایا کیونکہ اس کے مکان کی کچی چھت سے پانی ٹپک رہا تھا اور وہ شخص ساری رات چولہے میں لکڑیاں جلا جلا کر صبح کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔پھر آخر رات کی اس خوفناک تاریکی پر صبح کی چمکتی روشنی نے ایک لمبے معرکے کے بعد فتح حاصل کر لی تھی لیکن آج یہ صبح اپنے ساتھ تیز برستی بارش نہیں بلکہ چمکتا ہوا سورج لے کر آئی تھی۔
���
رابطہ؛مغلمیدان، کشتواڑ،موبائل نمبر؛ 8492956626

تازہ ترین