تازہ ترین

’’یہ کیسی شرم ‘‘

افسانچہ

تاریخ    9 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


ایف آزادؔ دلنوی
گاڑی سے نیچے اُتر کر عالیہؔ کچھ ہی دور چلی تھی کہ اُس کی سینڈل کی نس کٹ گئی وہ ایک ہی جگہ پر بُت کی طرح ساکت ہوگئی اِدھر اُدھر دیکھامگر موچی کی دُکان کہیں نظر نہیں آئی۔مجبوراََایک راہ گیر سے پوچھنا پڑا۔’’بھائی صاحب یہاں نزدیک میں کسی موچی کی دُکان ہے ۔‘‘
’’ہاں ہاں۔۔۔۔۔وہ گلی ہے نا۔اس کے نکڑ پر ہے۔‘‘
عالیہؔآہستہ آہستہ سینڈل گھسیٹتے ہوئے دُکان تک پہنچی ۔وہاں ایک ہٹے کٹے خوبصورت نوجوان کو دیکھ کر اسے بالکل یقین نہیں ہوا کہ یہ جوتے چپل ٹھیک والا ہوگا۔اُس نے سینڈل آگے کر کے کہا۔
’’میری سینڈل کٹ گئی ہے اس سے ذرا ٹھیک کر دو ‘‘
ایک گوری چٹی فربہ اندام لڑکی کودیکھ کر موچی بولا۔’’لائو میں ٹھیک کر دیتا ہوں۔ تم بیٹھ جائو  ‘‘
عالیہ چاروناچار سامنے رکھے ایک اسٹول پربیٹھ گئی موچی نے دُکان میں پڑے ایک جوتے کو ہاتھ میں لیا اور اس کی مرمت کرنے لگا۔ایسا اُ س نے کئی مرتبہ کیاعالیہ ؔیہ دیکھ کربولی۔
’’پہلے ذرا میری سینڈل ٹھیک کر دو۔مجھے جلدی ہے۔‘‘
’’ہاںہاں۔۔۔۔۔ابھی ٹھیک کرتا ہوں۔‘‘
اس کے بعد بھی موچی ایک اور جوتا ٹھیک کرنے لگا۔عالیہ ؔ بھڑک اُٹھی اور موچی پر چلانا شروع کیا۔
’’گونگے ہو کیا میری بات سنائی نہیں دیتی۔اتنا وقت دیا تم کو ‘‘
موچی نے اُس کو گھورتے ہوئے کہا۔’’اتنا وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔اتنا وقت میں بھی تم کودے سکتا ہوں۔‘‘
عالیہؔ نے سینڈل ہاتھ میں اُٹھاکر غصہ بھرے لہجے میں کہا۔’’کیوں تمہاری ماں بہن نہیں ہیں۔‘‘
’’ہاں ہیں نا۔۔۔۔۔برابر ہیں ۔ماں بھی ہیں بہن بھی ہیںمگر۔۔۔!!!
’’مگر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔!!!‘‘وہ  بولی
’’مگر۔۔۔۔۔۔۔وہ نہیں ہیں  
یہ سن کر عالیہ چپ  ہوئی اور شرم  سے نظریں جُھکا بیٹھی ۔۔!!!
 
���
دلنہ بارہمولہ،موبائل نمبر:-9906484847