تازہ ترین

جموں کشمیر میں حقوق اراضی کا تحفظ

مرکزکا نیا قانون لانے کا اعادہ، شہریوں کے خدشات ختم کرنے کی کوشش

تاریخ    8 اگست 2020 (00 : 02 AM)   
(File Photo)

نیوز ڈیسک
سرینگر//جموں کشمیر حکومت مقامی لوگوں کے اراضی حقوق کے تحفظ کیلئے نیا قانون لانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کے خوف اور خدشہ کو ختم کرنے کیلئے ، مرکز ممکنہ طور پر ایک نیا قانون لائے گا جس سے جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے اراضی حقوق کی حفاظت ہوگی۔ ایک اعلی سرکاری عہدیدار نے پیش رفت سے متعلق کہا کہ نیا قانون پارلیمنٹ میں منظور کیا جائے گا کیونکہ جموں و کشمیر انتخابات کا انعقاد ابھی باقی ہے۔ انہوںنے کہا ’’جموں و کشمیر میں مقامی لوگوں کیلئے اراضی کے حقوق سامنے آ رہے ہیں۔ ایک نیا قانون نافذ کرنے کے لئے کام جاری ہے جس سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے تمام خدشات کو ختم کیا جا سکے گا‘‘۔انہوں نے بتایا کہ ایک بار پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کی منظوری کے بعد جموں و کشمیر میں اراضی حقوق سے محروم ہونے کا خوف ختم ہو جائے گا۔5 اگست ، 2019کو دفعہ370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کے مقامی شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ، جس نے زمینوں یا غیر منقولہ جائیداد اور ملازمت سے متعلق مقامی افراد کے خصوصی حقوق کا خاتمہ کیا۔اپریل میں ، مرکزی وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر کے لئے نئے  اقامتی قواعد سے متعلق اپنے حکم کو ایک ہفتہ کے اندر ہی تبدیل کردیا تھا ۔نظرثانی شدہ آرڈر کے تحت ، صرف مرکزی زیر انتظام والے علاقے کے رہائشی ہی نوکریوں میں بھرتی کے لئے درخواست دے سکیں گے۔3 اپریل کو جاری کردہ تازہ حکم نے جموں و کشمیر انتظامیہ میں غیر رہائشیوںکو سرکاری ملازمتوں کے حصول سے باہر کردیا۔اس سے قبل ، 31مارچ کو جاری کردہ آرڈر میں ، وزارت داخلہ نے صرف گروپ’’ ڈی‘‘ اور نان گزیٹیڈ ملازمتوں میں رہائش پذیر شہریوں کے لئے ملازمتیں مختص کی تھیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کے کسی بھی حصے سے لوگ اعلی زمرے میں ملازمت کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔جموں و کشمیر کے لئے اقامت کی نئی تعریف کے تحت ، کم از کم15 سال کے لئے یہاں مقیم ایک فرد مرکزی خطے کا مستقل رہائشی ہونے کا اہل ہونا چاہے۔حکومتی نوٹیفکیشن میں مرکزی حکومت کے ملازمین ، جنہوں نے ریاست میں دس سال خدمات انجام دی ہیں ، اور ان کے بچوں کو بھی اقامتی حقوق حاصل ہوں گے۔وزارت داخلہ نے سال2010کے قانون میں ترمیم کی اور جموں کشمیر سیول سروس(مرکزیت و بھرتی قانون) اور جموں کشمیر کے اقامتی’’ مستقل شہریوں ‘‘ کے الفاظ کو اس میں شامل کیا گیا۔
 

تازہ ترین