تازہ ترین

مرکزنے ریاست کی نہیں ،حکومت کی مالی معاونت کی | بجلی پیداوار اوراُس سے حاصل ہونے والی آمدن پرمرکز کاکنٹرول : حسیب درابو

تاریخ    8 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//سابق ریاستی وزیرخزانہ ڈاکٹرحسیب درابو نے اس تاثر کوغلط بتایاکہ جموں و کشمیرکے لوگ صرف مرکزی سرکار کی مالی امداد یاپیکیجوں کی وجہ سے سماجی ومعاشی اعتبار سے بہترحالت میں ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران حسیب درابو نے کہا کہ مرکزی سرکار کی جانب سے جن ہزاروں کروڑ روپے مالیت کے پیکیجوںکااعلان کیاگیا،اُن سے جموں وکشمیر یایہاں کے عام آدمی کوبراہ راست کوئی فائدہ نہیں ملا اورنہ ملے گا۔ایک اہم نکتے کاخلاصہ کرتے ہوئے حسیب درابو کاکہناتھاکہ مرکزکی جانب سے دی گئی مالی امداد صرف حکومت کودی جاتی تھی ،نہ کہ ریاست کو۔اُن کاکہناتھاکہ وزیراعظم مودی یااسے پہلے کے وزیراعظم نے جن اقتصادی پیکیجوں کااعلان کیا،اُس میں بیشتر رقم اُن اداروں اورکاموں کیلئے دی گئی یاکہ مختص کی گئی ،اُن سے جموں وکشمیر یایہاں کے عام لوگوں کاکوئی لینادینا نہیں ۔حسیب درابو نے کہاکہ ایک تقریب کے دورا ن وزیراعظم مودی نے جب جموں وکشمیر کیلئے20ہزار کروڑ روپے کے اقتصادی پیکیج کی بات کی توبقول حسیب درابو اس میں اٹھارہ ہزار کروڑ روپے پائور پروجیکٹوں کیلئے دی گئی ،جن سے جموں وکشمیر کی حکومت یایہاں کے لوگوں کاکوئی واسطہ نہیں کیونکہ جموں وکشمیر میں بننے والے پن بجلی پروجیکٹ مرکزی سرکار کی تحویل میں رہتے ہیں اوران سے حاصل ہونے والی بجلی اورآمدن پرمرکز کاکنٹرول ہے ۔انٹرویو کے دوران حسیب درابو نے کہاکہ جموں وکشمیر کے سرکاری ملازمین کوتنخواہیں دینے کیلئے مرکزی سرکار مالی معاونت یاامداددیتی ہے ،اسکی وجہ یہی ہے کہ یہاں کی سرکار غریب ہے ،مطلب ریاست غریب ہے ،لیکن عام آدمی غریب نہیں ہے۔فروٹ انڈسٹری یعنی میوہ صنعت کاذکر کرتے ہوئے سابق وزیرخزانہ کاکہناتھاکہ انہوں نے پی ڈی پی ،بی جے پی حکومت کی کابینہ میں وزیرخزانہ ہوتے ہوئے مرکزی سرکار کوایک جامع منصوبہ پیش کیاتھا،جس میں انہوںنے کہاتھاکہ جموں وکشمیر دنیا کاچھٹا سب سے بڑا میوہ (سیب )کی پیداواروالا علاقہ ہے ،اوراسی بناء پربھارت سے ہرسال کروڑوں روپے مالیت کے سیب بیرون ممالک کوبرآمدکئے جاتے ہیں ۔حسیب درابو آگے کہتے ہیں کہ اگرکشمیر میں میوہ صنعت کوصحیح ڈھنگ سے آگے بڑھایاجاتا توبھارت دنیا میں میوہ کاروبار کے معاملے میں راج کرتا۔