تازہ ترین

چھانہ پورہ میں تشدد سے شہری کی ہلاکت | لواحقین کا پریس کالونی میں احتجاج،انصاف کی مانگ

تاریخ    8 اگست 2020 (00 : 02 AM)   
(عکاسی: مبشرخان)

نیوز ڈیسک
سرینگر// چھانہ پورہ میں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے دوران ایک شہری کی ہلاکت کے خلاف اہل خانہ نے پریس کالونی لالچوک میں احتجاج کرتے ہوئے حملہ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ پریس کالونی میں جمعہ کو چھانہ پورہ سے تعلق رکھنے والا ایک کنبہ اور انکے رشتہ دار جمع ہوئے اور احتجاج کرتے ہوئے انصاف کے حق میں نعرہ بازی کی۔احتجاجی مظاہرین نے بتایا کہ گزشتہ دنوں منی کالونی چھانہ پورہ میں مبینہ طور پر ایک شہری کو تشدد کا نشانہ بنا کر اسے ہلاک کیا گیا۔فوت شدہ شہری کی دختر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ غلطی سے انکے گھر کے سامنے ایک لڑکی پر پانی کی چھینٹے پڑی اور اس نے شور و غل مچایا۔ مہلوک کی بیٹی صدف بقال نے بتایا کہ اس دوران مذکورہ لڑکی کا ایک رشتہ دار بھی وہاں پہنچا جو کہ پیشہ سے فٹ بال کھلاڑی ہے اور جموں کشمیر بنک میں کام کرتا ہے،نے اس کے والد پر اس کا لباس برباد کرنے کا الزام عائد کیااور اس کے والد کو تشدد کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیاجبکہ اس کا والد متواتر طور پر معافی مانگ رہا تھا۔صدف نے کہا’’ میرے والد زمین پر گر پڑے اور درد سے مر رہے تھے اورہم ہاتھ جوڈتے ہوئے درخواست کررہی تھی کہ ہم معذرت کے طلب گار ہے لیکن وہ باز نہیں آیا اور اسے مارتا رہا۔‘‘انہوں نے کہا جب وہ فریاد کر رہے تھے تو کچھ پڑوسی انکی مدد کو پہنچے اور انہیںاسپتال منتقل کردیا،جہاں وہ کچھ دن گزرنے کے بعد وہ فوت ہوگیا۔ انہوںنے بتایا کہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ انہیں ملزم خاندان کے ساتھ بات چیت کیلئے مجبور کررہے ہیں لیکن وہ کوئی بات چیت نہیں چاہتے،بلکہ ملزموں کی قرار واقعی سزا چاہتے ہیں۔ احتجاجی کنبہ کے افراد نے پولیس چیف سے مداخلت کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی۔
 

تازہ ترین