تازہ ترین

کورونا مریضوں کومنہ کے بل لٹانے کا عمل

وینٹی لیٹر کے استعمال کی ضرورت کم ہوگی : ڈاک

تاریخ    7 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ کووڈ مریضوں کوپرون پوزیشن(Prone Position)یعنی منہ کے بل لٹانے سے پھیپھڑوں تک آکسیجن بہتر طریقے سے پہنچتا ہے جس کی وجہ سے وینٹی لیٹر کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ وادی کشمیر میں کوروناوائرس کے مریضوں میں شدید اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ اموات بھی بڑھ رہی ہیں کیوں کہ اکثر مریضوں کو وقت پر آکسیجن نہیں ملتا اور ایسے مریضوںکو وینٹی لیٹروں پر رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ کووڈ19کے ایسے مریض ،جن کو سانس لینے میں شدید دشواریاں پیش آرہی ہوں اور آکسیجن لیول کافی حد تک کم ہوتی ہے ،کو منہ کے بل لٹانے سے پرون پوزیشن(Prone Position)سے پھیپھڑوں تک آسانی کے ساتھ آکسیجن پہنچتا ہے اور انہیں وینٹی لیٹرکی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ proningمیں مریضوں کو منہ کے بل لٹایا جاتا ہے جس سے مریضوں کے پھیپھڑے بہتر طریقے سے کام کرتے ہیں اور جسم کو آکسیجن فراہم کرنے میں آسانی ہوتی ہے جبکہ پیٹ کے بل رہنے سے یعنی منہ اُوپر کی طرف رکھنے سے مریضوں کے پھیپھڑوں کو کام کرنے میں دشواریاں آتی ہیں جس سے مریض کو آکسیجن دستیاب نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ پروننگ سے کووڈ مریضوں کے خون میں آکسیجن لیول بڑھ جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم یہ تکنیک ایس ایم ایچ ایس میں بھی آزمارہے ہیں اور اس کے نتائج کافی حوصلہ افزائی آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کئی مریضوں کو اس تکنیک سے وینٹی لیٹر کی ضرورت نہیں پڑتی اور وہ علاج کا بہتر ریسپانڈ کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر نثار نے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ کووڈ مریضوں کو پروننگ سے کافی مدد ملی ہے ۔انہوںنے کہا کہ ایکسیڈنٹ ایمرجنسی میڈیسن جریدے میں شائع ہواہے کہ 50ایسے کووڈ مریضوں پر پروننگ کی تکنیک آزمائی گئی جن کی آکسیجن لیول کافی کم تھی تاہم صرف پانچ منٹوں کے بعد ہی اس تکنیک سے ان کی آکسیجن لیول بہتر ہوئی ۔ انہوںنے اس بات پر زوردیا ہے کہ نازک حالت کے مریض جو فوری طور پر ہسپتال نہیں پہنچائے جاسکتے ان کو اس تکنیک سے کافی راحت ملے گی ۔  (سی این آئی )
 

تازہ ترین