تازہ ترین

مرمو کے استعفیٰ سے مشیروں کے اختیارات بھی ختم

خدمات جاری رکھنے کا فیصلہ نئے لیفٹنٹ گورنر کی صوابدید پر

تاریخ    7 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


سید امجد شاہ
جموں//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے جی سی مرمو کے استعفیٰ کے بعد ان کے مشیروں کے اختیارات ختم ہوگئے ہیں۔مشیروں کے اختیارات کے حوالے سے  حکومت کی جانب سے کسی حکم کی عدم موجودگی میں سینئر عہدیداروں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر مرمو کے استعفیٰ کے بعد مشیر بے اختیار ہوگئے ہیں۔ایک سینئر افسر نے بتایاکہ وہ(مشیر) لیفٹیننٹ گورنر مرمو کے مشیر تھے،جب لیفٹنٹ گورنراستعفیٰ دیتا ہے تو مشیر بے اختیار ہوجاتے ہیں۔تاہم حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی حکم جاری نہیں کیاگیاہے۔انہوں نے بتایا کہ جب تک دوبارہ تقرری نہ ہو تب تک ان کے اختیارات ختم ہیں۔انہوںنے بتایا کہ نئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کل سرینگر میں حلف لیں گے جس کے بعد ہی مشورے سے حکومت کی طرف سے مشیروں کے حوالے سے احکامات جاری کئے جاسکتے ہیں۔انتظامیہ کے اعلیٰ افسر نیمزیدبتایا’’نیا لیفٹنٹ گورنر ہی فیصلہ کرے گا کہ آیا ان مشیروں کو ساتھ رکھنا ہے یا وہ کچھ تبدیلیاں چاہتے ہیں‘‘۔قابل ذکر ہے کہ ریٹائرڈ آئی اے ایس کے کے شرما ، ریٹائرڈ آئی اے ایس بصیر احمد خان ، ریٹائرڈ آئی پی ایس راجیو رائے بھٹناگر اور ریٹائرڈ آئی پی ایس فاروق خان لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمو کے مشیروں میں شامل تھے۔ان میں فاروق خان اور کے کے شرما نے سابقہ جموں و کشمیر ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک کے مشیروں کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں جموں و کشمیر یونین ٹیریٹریری کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمو کے مشیر کے طور پر دوبارہ نامزد کیا گیا تھا۔تاہم کچھ ماہرین قانون کی اس حوالے سے مختلف رائے ہے۔ سینئر ایڈووکیٹ انیل سیٹھی نے اس سلسلے میں کہا’’مشیر حکومت کے مشیر ہوتے ہیں، یہ نئے لیفٹیننٹ گورنر تک ہے کہ آیا وہ ان کی خدمات کو جاری رکھناہے یا اپنی نئی ٹیم تشکیل دینی ہے ، وہ (مشیر) آئینی عہدوں پر فائز ہیں، ان کے آئینی اختیارات کیسے ختم ہوسکتے ہیں‘‘۔